The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

کیوں میں 31 سال بعد اپنا سچ لیے پاکستان سے بھاگ جانا چاہتا ہوں؟

پاکستان میری جان ہے، میری رگوں میں خون کے ساتھ پاکستان دوڑتا ہے۔

کاش عمران خان چوروں اور لٹیروں کو مار بھگا کر ایک سچا، محترم اور باوقار پاکستان بنانے میں کامیاب ہو جائے تو میں ساری عمر اپنے آپ کو ایک بزدل کہنے سے بچ پاوں ورنہ میں جان بوجھ کر پاکستان کو چھوڑ کر بھاگ جانا چاہتا ہوں- میں نہیں جانتا کیوں میں اپنے ملک، ماں باپ اور اپنے بچپن کو بھول جانا چاہتا ہوں

 شاید آپ کو میری باتیں بچکانہ لگیں یا شاید میں اپنے بچپن میں ہی جی رہا ہوں جس میں قائداعظم، علامہ اقبال اور کتابی باتیں یعنی صرف سچ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ جس کو میں کبھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔ میرے پاس ایک سچ ہی ہے جو میرا سرمایہ حیات ہے- زندگی بھر درجنوں سیاستدانوں، سرمایہ داروں، رنگ برنگے ملاوں اور طرح طرح کے لوگوں سے میرا واسطہ پڑا اگر میں کبھی بھی اپنے سچ کا سودا جھوٹ کے بدلے اپنے ذاتی مفادات کے لیے کرلیتا تو شاید آج میں کہیں دولت کے بستر بنا کر لیٹا ہوتا۔

 میں ایک ملنگ، دیوانہ، پاگل ہوں جواپنے ہاتھ سے اپنے پاوں تو کاٹ سکتا ہے پر اپنے سچ کا سودا نہیں کر سکتا۔ مجھے ساری زندگی اپنا نقصان قبول ہے لیکن میں علامہ اقبال، قائد اعظم کے پاکستان میں پیدا ہو کر ان کے احترام کا سودا نہیں کر سکتا۔ مجھے اپنے اساتذہ کا سبق اپنے پیٹ اور ماں باپ سے زیادہ عزیز ہے۔ مجھے میری ہر ہر کتاب اپنی زندگی سے زیادہ عزیز ہے جس میں مجھے حق راہ، راست گوئی اور اچھائی کا سبق پڑھایا گیا تھا۔

کبھی کبھار مصلحت میں جھوٹ بول کر بھی میں سچ بولنے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔ میں پوری دنیا کے آگے مجرم بن کر کھڑا ہو سکتا ہوں- لیکن اپنے ضمیر کے آگے مجرم بن کر کھڑا ہونا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ کیوں کہ اپنے ضمیر کے آگے جھوٹا بن کر میں اپنے آپ کو قائد اعظم، علامہ اقبال، اپنے اساتذہ اور اپنی کتابوں کا مجرم نہیں بنا سکتا۔

کیوں میں شیشوں سے بھری جیکٹ،  ٹوپی اور سفید کرتا پہن کر فخرسے سڑکوں پر گھومتے بچے کو بھول جانا چاہتا ہوں؟

کیوں میں عمران خان کے شیدائی، ورلڈ کپ جیتنے کی خوشی میں ہواوں میں گھوڑوں کی سی رفتار سے بھاگنے والے لڑکے کو ہمیشہ کے لیے بھاگ جانے پر مجبور کر رہا ہوں؟

کیوں میں 14 سال سکول و کالجوں میں ٹیچروں کے پیچھے بھاگنے والے شاگرد کو نافرمان بنانا چاہتا ہوں؟

 وہ نوجوان جو ایک دن میں کشمیر فتح کرنا چاہتا تھا کیوں وہ اپنے ملک کے ازلی دشمن کو للکارنا نہیں چاہتا؟

کیوں میں یہ جانتے ہوئے کہ یہود و نصاری مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے انہیں کے ملک اور نظام میں پناہ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

ہاں میں اپنے سچ کو بچانے کے لیے ایک غیر مذہب، غیر اسلامی اور غیر شرعی نظام اور ملک کا سہارا لینا چاہتا ہوں۔ وجہ میرے ہاتھ میں الہامی مذاہب کی شکل میں ہے۔ میں اب ابراہیمی مذاہب کے لیے مجموعی لاحاصل کے پیچھے بھاگنا چاہتا ہوں۔

ایک امید پھر بھی باقی ہے۔ کاش عمران خان مجھے میرے بچپن کا سچا، محترم اور باوقار پاکستان لوٹا دے۔ کاش میں اپنے ضمیر کا مجرم بننے سے بچ جاوں۔

Print Friendly, PDF & Email