The news is by your side.
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

محنتِ انساں کی قسم

کون کہہ سکتا ہے

کس وقت خُدا برہم ہو

اورپھرابرِکرم، ابرِمصیبت بن جائے

ہے کوئی علم؟

کوئی فکر؟

کوئی صاحبِ دل؟

جو بتا سکتا ہو’معروضِ مشیّت ‘کیا ہے ؟

جن غریبوں کے مکاں لے گئے بپھرے دریا

اُن کے حق میں یہ غضب ناکیِ قدرت کیا ہے ؟

کیا یہی طے ہے؟

کہ جب قہر گرے،ان پہ گرے ؟

وہ معیشت کے ہوں

یا قدرتی آفات کے زخم

بس یہی چاک گریباں ہیں جو یہ بھگتیں گے؟

مثلِ مشہور کہ ہاں ’صبرکا پھل میٹھا ہے‘

کیایہ پھل

صرف غریبوں کے لئے ہوتا ہے؟

ہم غریبوں کی ’تواضع‘کو یہی پھل ہے کیا؟

اِس جہاں گیراذیّت کا یہی حل ہے کیا؟

تجھ سے تو خیر مجھے کوئی شکایت ہی نہیں

تیری قدرت

تو ہراک کے لئے یکساں ٹہھری

یہ سوالات تو ان زہرفروشوں سے ہیں جو

فکرکے نام پہ تخریبِ خرَد بیچتے ہیں

جو غریبوں کو سکھاتے ہیں ’مشیت کے اصول‘

اورامیروں کو ’سخاوت‘کی سند بیچتے ہیں

یہ لڑائی تو ہے اُن رجعَتی طاغوتوں سے

جو کہ ’تقسیم‘کی مسند کے خُدا ٹھہرے ہیں

جو کہ دھرتی کے لئے ننگ ہیں لیکن ازخود

برسر ِعام خُدائی کی ادا ٹھہرے ہیں

بحروبر ملک خُدااست مگرقابض کون؟

کس خُداوند کا فرماں ہے کہ تم ظلم کرو ؟

کس نبی نے یہ کہا پیٹ منافع سے بھرو؟

اُس کی قدرت کے خزانے ہیں برائے ہرجاں

کون ہوتم؟ کہ جو خود کے لئے مخصوص کرو ؟

ربِ جاناں کی قسم !

محنتِ انساں کی قسم !

تم نہیں چاہتے انساں کا بھلا ہوجائے

لوگ بپھرے ہوئے پانی میں بھلے ڈوب مریں

تم تو محفوظ ہوجاگیریں بچا کراپنی

لیکن اے جملہ خبیثان و رئیسانِ زمیں!

وقت آتا ہے کہ اب تم بھی دہائی دو گے
تم کہ جو قاسمِ جمہوربنے پھرتے ہو
اپنے ہرظلم پہ اب آپ صفائی دو گے !

کون کہہ سکتا ہے

کس وقت خُدا برہم ہو

اورپھرابرِکرم، ابرِمصیبت بن جائے

ہے کوئی علم؟

کوئی فکر؟

کوئی صاحبِ دل؟

جو بتا سکتا ہو’معروضِ مشیّت ‘کیا ہے ؟

جن غریبوں کے مکاں لے گئے بپھرے دریا

اُن کے حق میں یہ غضب ناکیِ قدرت کیا ہے ؟

کیا یہی طے ہے؟

کہ جب قہر گرے،ان پہ گرے ؟

وہ معیشت کے ہوں

یا قدرتی آفات کے زخم

بس یہی چاک گریباں ہیں جو یہ بھگتیں گے؟

مثلِ مشہور کہ ہاں ’صبرکا پھل میٹھا ہے‘

کیایہ پھل

صرف غریبوں کے لئے ہوتا ہے؟

ہم غریبوں کی ’تواضع‘کو یہی پھل ہے کیا؟

اِس جہاں گیراذیّت کا یہی حل ہے کیا؟

تجھ سے تو خیر مجھے کوئی شکایت ہی نہیں

تیری قدرت

تو ہراک کے لئے یکساں ٹہھری

یہ سوالات تو ان زہرفروشوں سے ہیں جو

فکرکے نام پہ تخریبِ خرَد بیچتے ہیں

جو غریبوں کو سکھاتے ہیں ’مشیت کے اصول‘

اورامیروں کو ’سخاوت‘کی سند بیچتے ہیں

یہ لڑائی تو ہے اُن رجعَتی طاغوتوں سے

جو کہ ’تقسیم‘کی مسند کے خُدا ٹھہرے ہیں

جو کہ دھرتی کے لئے ننگ ہیں لیکن ازخود

برسر ِعام خُدائی کی ادا ٹھہرے ہیں

بحروبر ملک خُدااست مگرقابض کون؟

کس خُداوند کا فرماں ہے کہ تم ظلم کرو ؟

کس نبی نے یہ کہا پیٹ منافع سے بھرو؟

اُس کی قدرت کے خزانے ہیں برائے ہرجاں

کون ہوتم؟ کہ جو خود کے لئے مخصوص کرو ؟

ربِ جاناں کی قسم !

محنتِ انساں کی قسم !

تم نہیں چاہتے انساں کا بھلا ہوجائے

لوگ بپھرے ہوئے پانی میں بھلے ڈوب مریں

تم تو محفوظ ہوجاگیریں بچا کراپنی

لیکن اے جملہ خبیثان و رئیسانِ زمیں!

وقت آتا ہے کہ اب تم بھی دہائی دو گے

تم کہ جو قاسمِ جمہوربنے پھرتے ہو

اپنے ہرظلم پہ اب آپ صفائی دو گے !

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں