The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

سوشل میڈیا اورآج کی نوجوان نسل

روزکئی گھنٹے سوشل میڈیا پرگزارنے کے بعد جب اصل زندگی میں گزارتے ہیں، تو یہ سمجھتے ہوےٴ واپس اسی دنیا میں جانے کی جلدی میں رہتے ہیں کہ یہ سرسری ہے اوروہ اصل جبکہ اصل زندگی وہ ہی جسے وہ بھولے جا رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کو ہوا، پانی اورخوراک جیسی ضروریاتِ زندگی سمجھنے لگے ہیںِ۔ ایک چیز کے لیے اتنا جھکاوٴ سراسرغلط بات ہے۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پرایک ویڈیو کافی مقبول ہوئی جس میں لوگوں کو یہ احساس دلایا گیا تھا کہ ان کے ارد گرد بھی لوگ موجود ہیں جن کو وہ فراموش کررہے ہیں۔ اس ویڈیو کا شاید چند لوگوں پراثرہو بھی گیا ہو مگرزیادہ ترافراد نے صرف وہ ویڈیو شیئرکرنے پرہی زوردیا۔ موبائل اچھا ہو، انٹرنیٹ چلتا ہو۔۔۔ بس ! اس کے علاوہ دنیا میں اورکچھ باقی نہیں رہ گیا۔

اب بات آتی ہی کہ کیا انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال غلط ہے؟ ہرگز نہیں۔ مگرجو طریقہ ہماری نسل نے اپنا لیا ہے، وہ غلط ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال مثبت طریقے میں بھی ہو سکتاہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھا جائے اوران کے انٹرنیٹ کے استعمال کو دیکھا جائے تو یقیناً یہ بات واضح ہو جاےٴ گی کہ انٹرنیٹ کویٴ غلط چیز نہیں بلکہ اس کا اچھا یا برا ہونا اس کے استعمال پرمنحصر ہے۔

ایک تو جو سوشل میڈیا پرسیاسی اور مذہبی مباحثے چھڑجاتے ہیں انہوں نے خاصا بدامنی کا ماحول پیدا کیا ہوا ہے۔ لوگ مخالف پارٹی کے اچھے کارنامے کی محض اسلئے حوصلہ افزائی نہیں کرتے کہ کہیں اپنی پارٹی سے غداری نہ ہوجاےٴ اوراگر کویٴ معصوم کربھی دیتا ہے تو اس کو’’لوٹا لوٹا‘‘ کہہ کراتنا شرمندہ کردیا جاتا ہے کہ اسکو اپنی غیرت جگانی پڑہی جاتی ہے۔ ملکی مفاد کی بجائے گالم گلوچ کرکے اپنی انفرادی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ ان کے لیڈرکوکوئی کچھ کہہ کردکھائے چاہے غلط ہو یاسہی، بس پھردیکھیں تماشہ۔

کچھ من چلوں نے تو اپنے شوق میں افواہیں پھیلانے کا کاروبارہی شروع کیا ہوا ہے۔ ان کا کام دنیا بھرکی جھوٹی خبروں کو پھیلانا ہے۔ مسٹربین نے اسلام قبول کرلیا، مائیکل جیکسن کی موت کی وجہ اس کا اسلام قبول کرنا تھا، یہ صرف دو وہ افواہیں ہیں جنہیں نے پوری دنیا کو حیران کیا۔ کچھ لوگ تو اس کام میں حد سے گزر گئے۔ جب دیکھا کہ لوگوں نے خالی باتوں پریقین کرنا چھوڑدیا ہے توانہوں نے جعلی تصاویر اورویڈیوز کو پھیلانا شروع کردیا اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ سب انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی چند مثالیں تھی۔

اب ذرا سوچئیے اگرہم انٹرنیٹ کا استعمال فلاحی کاموں میں کریں جن سے معاشرے میں بہتری آسکتی ہے تو کتنا اچھا ہو۔ ہم وقت انٹرنیٹ پرضائع کرنے کے بجائے مثبت طریقے سے استعمال کریں تو دیکھئے معاشرے میں کتنا فرق آجائے گا۔ اپنی ملت کو مہذب دکھانے کے لیے اپنے آپ کو مہذب دکھائیں، امید ہے معاشرہ بہتری کی جانب گامزن ہوجائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email