The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

برطانوی شاہی بچے کی ولادت پر پاکستان میں جشن کیسا؟

شاہی خاندان میں ایک بچے کی پیدائش پر پوری دنیا جس طرح ہر دوسری بات بھول گئ ہے، لگتا تو یہی ہے کہ اس ایک خوشی نے باقی تمام مسائل کو ختم کردیا ہے۔ روز کئی بچے بھوک سے مررہے ہیں مگر ہمارا نیک اور پرہیزگار میڈیا ان بچوں کی طرف ایک نظر دینے کو تیار نہیں یا شائد افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم خود ہی ان مسائل کی طرف توجہ دینانہیں چاہتے۔ ہمیں لگتا ہے کہ آنکھیں بند کرلینے سے وہ مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے۔ انسانیت کا دعویٰ کرنے والی تنظیموں کو عورتوں کے حقوق دلانے سے فرست نہیں ملتی کہ اس طرف بھی دھیان دے سکیں۔ بچہ برطانیہ میں پیدا ہوا ہے جہاں لوگوں کے پاس حقوق بھی ہیں، جہاں بھوک بھی کسی نا کسی طرح ختم ہو ہی جاتی ہے، مگر ایسے ملک میں جہاں ایک بڑی آبادی بھوکے پیٹ ہی سونے پر مجبور ہے، جہاں حقوق کی دھجیاں تو ایسے اڑائی جاتی ہیں جیسے کسی کے باپ کی جاگیرہو، وہاں اس بچے کے لیےٴ خوشیوں میں کبھی فیس بک پر سٹیٹس دینا اور کبھی ٹویٹر پر ٹویٹ کرنا کچھ سمجھ نہیں آتی۔ سننے میں تو یہ بھی آیا ہے کہ کچھ شاہی جیالوں نے پاکستان سے برطانیہ کی فلائٹ بھی کروا لیں تھی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ہرچوک پر بھکاری کھڑے ہوتے ہیں، جہاں جلسے کے بعد دیے گئے کھانے پر لوگ لڑ پڑتے ہیں، کیا وہاں یہ شوبازیاں سجتی ہیں؟ جہاں چائلڈ لیبر کے خلاف تحریکیں چلانے والے اپنے گھر میں بچوں کو ملازم رکھتے ہیں، وہاں تو پھر منافقت کی مثالیں قائم کی جا سکتی ہیں۔ وہاں پھر شاہی بچے کی خوشی میں یہ بھی یقیناً کم ہے۔

تھراور مٹھی کے بچے روز بھوک سے بلک بلک کر اپنی ننھی جانیں کھو رہے ہیں۔ بھوک کو تو چھوڑو، ایک بڑی آبادی کو پینے کا پانی تک تو میسر نہیں۔ پھر یہ بڑی بڑی باتیں کرنے والے کہاں چھپ جاتے ہیں؟ تب ملکہٴ برطانیہ کی سخاوت کہاں جاتی ہے؟ اپنے ملک کے میڈیا پرآفرین ہے کہ جو باقی ہر مسئلے کو بھول کر صرف یہ خبر سنانے میں مصروف رہا۔ جو تھرکو بھی بھول گیا اورجو بلوچستان کے بچوں کو بھی یاد نا کرے۔ آفرین ہے۔۔۔ جس کو یہ بھی نا احساس رہا کہ جس ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی بھوکی ہو، اس کو کسی ایسے بچے کی پیدائش سے فرق نہیں پڑتا جس سے اس کا رشتہ بھی نا ہو۔ اسے فرق پڑتا ہے تو اس چیز سے کہ اس کے بچے کا پیٹ کیسے بھرے گا۔ اس کو کسی عید پراپنے گھروالوں کے ساتھ چند پر سکون لمحات ملیں گے کہ نہیں۔ کیا اپنے بچے کو پڑھانے کے بعد اپنی قابلیت پراچھی نوکری کرسکے گا یا اس کا یہ حق کسی کی سفارش کی بھینٹ چڑے گا۔ کسی غریب کو شاہی بچے کے پیدا ہونے سے کوئی غرض نہیں پڑتا۔ فرق تب پڑتا تھا جب بادشاہ اپنی خوشی پوری سلطنت میں برابر بانٹتا تھا۔ جب شاہی خوشی میں شریک ہونے سے کسی غریب کا پیٹ بھرجاتا تھا۔ فرق تب پڑتا تھا۔۔۔ اب نا بھوک ختم ہوتی ہے، نا افلاس، مگر ہم نے آنکھیں پھیر لی ہیں، سچائی سے۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں