The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

ڈھول بجاؤ، دھرنے کا پہلا فیصلہ آگیا

ڈھول بجے، بھنگڑے ہوئے، شیر آیا شیرآیا۔ پھرشور ہوا، دھرنے ہوئے، دھاندلی ہے دھاندلی ہے۔ کسی نے صاف اور شفاف الیکشن کی رٹ لگائی تو کوئی چارمہینے کے لئے اسلام آباد کے ڈی چوک پرکنٹینر لگا کربیٹھ گیا۔ ہزاروں لوگوں کو جمع کیا اور’گو نواز گو‘کی صدائیں بلند کریں جو پہلے ڈی چوک، پھرپورے پاکستان اوراس کے پوری دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی تھے وہاں وہاں سنی گئیں۔ پھر کبھی انصاف کے نام پرمنعقدہ احتجاج اورریلیوں میں جھڑپ ہو جاتی اور چند جیالے اپنی جانیں بھی گنوا بیٹھے، کہیں احتجاج پرپولیس بھیج دی جاتی اور حالات کو مزید خراب کردیا جاتا۔

حکومت میں آکر’شیروالے‘ توچلو اپنے وعدوں سے مکرگئے لیکن ’بلا‘بھی گھومنے سے باز نہ آیا۔ کبھی مفاہمت کے نام پرفیصلوں سے پھر گئے تو کبھی پالیسی کا نام دے کر فیصلہ بدل دیا گیا۔

چارمہینے دھاندلی کا نعرہ لگاتے رہے اور سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے رہے۔ کنٹینر پرکھڑے رہ کر ثبوت ہاتھ میں تھامے ان ہزاروں لوگوں کو دکھاتے رہے کہ سپرہم کورٹ نوٹس نہیں لے رہی۔ دھاندلی کا نوٹس نہیں لیا جارہا۔ دعوے کرتے رہے کہ ایک گیند پر ہی سب وکٹیں گریں گی۔ پھر 16 دسمبر کے بعد اتحاد کے لئے آل پارٹی کانفرس میں شامل ہوگئے اوردھرنا اٹھا دیا گیا۔ عوام روئے، مایوس ہوئے اور بہت سے لوگوں نے سیاست سے اپنی دلچسپی ختم کردی۔ نہ وہ انصاف ملا جس کے لیےٴ لوگوں نے کئی کئی راتیں کھلے آسمان تلے گزاردیں، آندھی وطوفان برداشت کیا، دوردراز جگہوں سے آئے، کبھی آنسو گیس اور شیلنگ برداشت کی اور کبھی ربڑ گولیوں کے زخم کھاےٴ اور اس سب کے بعد نہ تو لوگوں کو سیاست پر پہلے جیسا اعتباررہااور نہ اپنے لیڈر پر، ان سے لگائی گئی امیدیں بر نہ آسکیں، پارلیمنٹ میں واپسی بھی ہوگئی لوگ اب یہ بھی بھول گئے کہ کوئی دھاندلی بھی ہوئی تھی۔

عدالتوں کو لوگ پھرسے کوسنے لگے۔ صاف شفاف الیکشن کا شور جیسے مٹی کی طرح اٹھا اور بعد میں بیٹھ بھی گیا۔ لوگ پھر سے اگلے الیکشن کی امید لگائے بیٹھ گئے اور کچھ نے تو تہیہ کر لیا کہ اب ووٹ نہیں ڈالیں گے۔ اور کچھ تو ہوا نہیں مگر سوشل میڈیا پرایک دوسروں کو طعنے دینے والوں کا خاصہ اضافہ ہوا۔ آپس میں بلا وجہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے والوں کا بھی اضافہ ہوا۔ کچھ تو اس کام میں ہر حد سے گزر گےٴ۔ آپس میں انتشار بھی اچھا خاصا ہو گیا۔ مگر اس سب کے با وجود بھی کوئی بہتری نا ہوئی۔ محض ایک بلاوجہ کی بحث چھڑی رہی۔

پھراچانک دوسال بعد ایک دن خبرآتی ہے کہ این اے 125 کے فاتح امیدوارخواجہ سعد رفیق نا اہل قرار دے دئیے گئے ہیں۔ عدالت نے ان کی وزارت کو بھی نااہل قریر دیا ہے۔ انصاف مانگنے والوں کی جیسے قسمت کھل گئی۔ پھر ڈھول بجے، بھنگڑہ ہوا، ایک حلقہ کھل گیا، بالاخردھرنے کا پہلا فیصلہ آگیا۔

Print Friendly, PDF & Email