The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

تو مسیحا نہیں بنتا نہ بن‘ انسان تو بن

ہمارے ملک میں بچوں کے لئے دو ہی پیشے بہترین سمجھے جاتے ہیں۔ بیٹا ہو یا بیٹی۔۔ پہلا انتخاب ایک ہی ہوتا ہے کہ اسے میڈیکل کی تعلیم دلوائیں گے، ڈاکٹر ہی بنانا ہے، اسی پیشے میں عزت ہے۔ دوسرے تیسرے چوتھے اور پانچویں نمبر پر بھی چوائس یہی رہتی ہے، پھر کہیں چھٹے نمبر پر انجینئر بنانے کی چاہت جاگتی ہے۔ اس کے بعد کوئی آپشن ہی نہیں ہوتا۔ وقت آنے پر اگر اولاد میڈیکل اور انجینئرنگ کے علاوہ کوئی اور تعلیمی ڈگری حاصل کر کے کسی اور شعبے میں جانے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے تو مخالفت شروع ہو جاتی ہے۔ اسی مخالفت سے گزرنے والے کچھ والدین اگر قابل اولاد کو اپنی مرضی کرنے کی اجازت دے بھی دیں، یا اولاد کی نالائقی کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو بھی جائیں تو بھی انہیں دلی اطمینان حاصل نہیں ہو پاتا۔

اگر انتہائی بدقسمتی سے اولاد شعبہ صحافت کا انتخاب کر لے اور کیریئر بھی اسی شعبے میں بنانے پر بضد ہو تو پھر تو سمجھیں لٹے ہی گئے۔ اول پوزیشن حاصل کرنے والے شعبے پر ذرا نظر دوڑائیں، بالکل! ڈاکٹر خواتین و حضرات۔۔ خواتین کے لئے تو خیر پہلی ترجیح یہی ہے کہ ڈاکٹر بناؤ۔۔ اتنی تعلیم حاصل کر کے آخرِ کار چاہے گھر میں گول روٹی بنانے کی پریکٹس ہی کرے۔بنے ڈاکٹر ہی۔۔ اس لئے نہیں کہ وہ ہسپتال میں جا کردکھی انسانیت کی خدمت کرے گی اور ایک قابل ڈاکٹر بن کر لاچار مریضوں کا علاج کرے گی۔۔ بلکہ اس لئے کہ بیٹی ڈاکٹر ہو گی تو رشتہ اچھے سے اچھا آئے گا۔ اس سوچ کے ساتھ جب خواتین و حضرات ڈاکٹرز بن جاتے ہیں تو وہ خود کو کوئی ایسی آسمانی مخلوق سمجھنے لگتے ہیں جنہیں سرخاب کے پر لگے ہوئے ہوں۔

سڑک پر احتجاج کے لئے نکلتے ہیں اور یہی خودکو کریم آف نیشن کہلوانے والے ڈاکٹرز غلیظ زبان کا استعمال کر کے شدید جہالت کا مظاہرہ بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ وجہ صرف ایک ہے۔ ہمارے ملک میں جو چار جماعتیں پڑھ جاتا ہے وہ ہر صحیح یا غلط کواپنا حق سمجھ لیتا ہے کہ اب میں چاہے سڑک پر کھڑے ہو کر بھنگڑے ڈالوں، گانے گاؤں، نعرے لگاؤں، جو مرضی کروں۔۔ مجھ پر سب جائز ہے۔۔ بھئی کیوں؟ ہم مانتے ہیں کہ ڈیوٹی ٹائمنگز کا مسئلہ ہے، دنیا میں کس ملک میں نہیں ہوتا۔ اس باعزت شعبے سے منسلک افراد کو بالخصوص ہاؤس جاب یا پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کے دوران سخت محنت کرنی پڑتی ہے، دن رات ایک کرنے پڑتے ہیں اور تقریبا ہر شعبے میں ایسی ہی کہانی ہوتی ہے۔ لیکن یہاں کچھ زیادہ ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے عزت بھی زیادہ ہے۔

سفید کوٹ پہننے کی حسرت لئے بہت سے طلبا کو میرٹ پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے جب پاکستان کے بہترین میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں ملتا تو ڈاکٹر بننے کی شدید خواہش انہیں چین، ملائیشیا اور روس تک لے جاتی ہے، واپس آتے ہیں تو کہتے ہیں یہاں کا نظام ہی خراب ہے، تنخواہیں کم ہیں، ڈیوٹی سخت ہے۔۔ ہم تو ڈاکٹر بن کر مر گئے، لٹ گئے، برباد ہو گئے۔۔ جیسے عوام نے ریفرنڈم کروایا تھا اور پھر ان کو خطوط لکھے کہ خدا کا واسطہ ہے بن جاؤ ڈاکٹر۔۔ اگر تم، صرف تم، ڈاکٹر نہ بنے تو ہم سب کے سب زہر کھا کر مر جائیں گے۔

او پلیز۔۔ اگر آپ اپنی مرضی سے اتنے دھکے کھا کر ڈاکٹر بن ہی گئے ہیں تو کم ازکم اب اپنے شعبے کا احترام تو کریں۔۔ کچھ اور نہ کریں۔۔ اپنا کام تو کریں۔اور میرٹ پر اپنی محنت سے جو طالبِ علم ڈاکٹر بنے ہیں اور کام کرنا چاہتے ہیں، آگے بڑھنا چاہتے ہیں، انہیں تو کام کرنے دیں۔
یہ کیا بات ہوئی جس کو کام آتا نہ ہو یا وہ کرنا چاہتا نہ ہو وہ لیڈر بن جاتا ہے اور اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے سیاست شروع کر دیتا ہے اور کام کرنے والوں کی رہنمائی کر کے انہیں بھی گمراہ کرنے نکل کھڑا ہوتا ہے۔

اپنے صحافتی فرائض سرانجام دینے کے دوران میں ایسے بہت سے ڈاکٹروں سے واقف ہوں جو بلاشبہ محنت کر رہے ہیں، اپنے شعبے سے انصاف کر رہے ہیں اور جہاں لڑ رہے ہیں اپنی برادری کے حق کے لئے لڑ رہے ہیں، لیکن وہیں ایسی بھی بڑی مثالیں ہیں جو کمیونٹی کی جنگ نہیں لڑتے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لئے پورے کا پورا ڈاکٹر طبقہ ہی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

آپ سب کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ جناب، ایک صحافی جو آپ کی اچھی اور بری حرکتوں کی کوریج کرتا ہے، وہ اتنا بے وقوف نہیں ہوتا۔ آپ کی طرف سے دی جانے والی خبر کی حقیقت جاننے میں اسے زیادہ وقت نہیں لگتا اور اس صحافی سے کبھی اس کی ڈیوٹی ٹائمنگز اور تنخواہ بھی پوچھیے گا اور اسے داد ضرور دیئے گا کہ وہ آپ کی جنگ کھڑا لڑتا ہے، آپ کے ساتھ خواہ مخواہ میں ڈنڈے بھی کھا لیتا ہے۔ آپ کو یہ ضرورکہتا ہے کہ کام کرو، یہ نہیں کہتا کہ ایسے کرو، یہ دوا کیوں دی، یہ دو، ڈرپ کیوں لگائی، مت لگاؤ۔ کیونکہ یہ آپ کا کام ہے۔ اسی طرح خبر دینا صحافی کا کام ہے اور وہ کرتا ہے، آپ اپنے کام سے کام رکھیے، اسے یہ مت بتائیے کہ خبر کیسے دینی ہے، کیونکہ یہ آپ کا نہیں اس کا کام ہے۔ یہ صحافی اپنی ڈیوٹی کے دوران ٹائمنگ کی شکایت نہیں کرتا، ایمرجنسی میں خبر کی کھوج میں بھاگتا دوڑتا نظر آتا ہے۔ کم تنخواہ پر کام کرنا نہیں چھوڑ دیتا۔ ہڑتال کر کے تالے نہیں مار دیتا۔کسی کو بلیک میل نہیں کرتا۔ لیکن آپ کے لئے لڑتا ہے۔ اوراگر وہ آپ کے خلاف خبر دے گا تو آپ اسے بکاؤ قرار دے دیں گے، لیکن دوسروں پر کیچڑ اچھال کر آپ خود کو صحیح تو نہیں ثابت کر سکتے۔ باقی اچھے پرے لوگ تو ہر شعبے میں ہوتے ہیں۔

ان ڈاکٹروں کے لئے آخری پیغام جن کو ہم نے بطور قوم ترلے منتیں کر کے ڈاکٹر بننے پر اتنا مجبور کیا کہ وہ نجی میڈیکل کالجوں اور بیرونِ ملک نامعلوم یونیورسٹیوں میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر کے آئے۔ بھائی آپ کی مہربانی کہ آپ ڈاکٹر بن گئے۔ ہم نہیں کہتے کہ مسیحا بنو بس انسان بن جاؤتو ہم پر ایک اور احسان ہو گا۔

Print Friendly, PDF & Email