The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

ہم وہاں بستے ہیں‘ جہاں بیٹوں کا کاروبار ہوتا ہے

ہم اس بستی میں بستے ہیں جہاں بیٹوں کا سودا کیا جاتا ہے۔جی ہاں! ایک بار پھر کہوں گی کہ ہمارے اس مہذب معاشرے میں بیٹوں کا بزنس ہوتا ہے۔ بیٹا کاروبار سنبھالے نہ سنبھالے لیکن اس پر کاروبار ضرور کیا جاتا ہے اور اچھے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی بیشتر ایسے ایسے جاہل ہیں جو دینی اور دنیاوی فریضہ جان کر بیٹا بیچ دیتے ہیں۔آپ نے بھی ایسا ہی کیا ہو گا۔ نہیں کیا!تو پھر مستقبل میں کر لیں گے کیونکہ بیٹوں کا سودا کرنا ہماری روایت ہے۔ سودا بھی دیکھو کتنا فائدے کا ہے۔ بیٹا بیچ بھی دو اور رکھو بھی اپنے پاس ہی۔

ہمارے ہاں سب کام ہی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ بیٹے کی شادی کرنی ہو تو موجیں لگ جاتی ہیں۔ جتنا گھسیٹ سکتے ہو بیٹی کے باپ سے گھسیٹ لو۔ اور وہ مسکین بھی یہ سوچ کر بیٹھا ہوگا کہ میں تو بیٹی کا باپ ہوں، جو مرضی ہو جائے، میرے لئے تو یہ سودا گھاٹے کا ہی ہے۔ بیٹی بھی دوں گا۔ پھر اس کے اور پورے سسرال کے کپڑے بھی دوں گا (جیسے پہلے وہ جسم پرکیلے کے درخت سے پتے اتار کر باندھتے تھے)۔ سارا فرنیچر بھی میں ہی دوں گا (بیٹا شادی سے پہلے تو فرش پر سوتا تھا)۔ برتن بھی میں نے ہی دینے ہیں(یا شیخ! عرب سے تعلق رکھتے ہیں نا بیٹی کے سسرال والے ایک ہی برتن میں پورا خاندان نبٹ جاتا ہے، اب باقی برتن تو ظاہر ہے دینے پڑیں گے)۔ بستر تک مجھے ہی کرنے ہیں۔گرمی بہت پڑتی ہے بھئی، اے سی بھی دے دوں (نو کمنٹس)۔گاڑی دے سکتا ہوں تو وہ بھی دوں گا (بھکاریوں میں تو بیٹی نہیں بیاہ رہا، نہیں میں بالکل نہیں سوچوں گا)۔
یہ خیال تو ذہن میں بھی نہیں لاناکہ اگر ان نواب ابنِ نواب کو سب میں نے ہی دینا ہے بھئی تو میں اپنی بیٹی دوں ہی کیوں۔ بیٹا کیوں نا رخصت کروا لاؤں۔۔ توبہ ہے۔۔ ایسا ہو نہیں سکتا کیونکہ کاروبار کرنے کا اور پھر اس پر منافع لینے کا حق صرف بیٹے کے باپ کا ہے۔ یعنی بیٹے والوں نے تو اچھا خاصا سودا کر لیا۔ لڑکی بھی آ گئی بہو بن کر، اب یہ ضروری نہیں کہ اسے بیٹی سمجھا بھی جائے۔ اس کا فیصلہ لڑکی کے ساتھ کتنا مال آیا ہے، یہ دیکھ کر ہی کریں گے۔

اب اتنی قیمت ادا کر کے لڑکی اگرگھر آ کر اچانک چڑیل کا روپ سادھ لے تو مرچیں بھی بڑی لگتی ہیں۔ تب یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اس چڑیل نے تو خریدا ہی تھا نا،آپ نے تو سودا کیا تھا اپنے بیٹے کا۔ اب تو وہ بک گیا۔ اب کیوں اس بے چارے کو جورو کا غلام کہتے ہو۔ جو بویا تھا اب وہ کاٹو۔

اگر لڑکی کی لائی ہوئی جہیز نام کی لعنت سسرالیوں کے اعلیٰ معیار پر پوری نہیں اترتی تو کچھ بعید نہیں کہ اس کی پڑھی لکھی ساس اسے ہر موقع پر برجستہ طعنہ ماریں اور اگر بے چاری کی قسمت کسی ان پڑھ غریب کے ساتھ پھوٹی ہے تو یقیننا اپنے بیٹے کا اچھا منافع بخش سودا نہ ہونے کا بدلہ بھی وہ اسی لڑکی سے کچھ ایسے لیں گے کہ پھر میرا بیانیہ ضروری نہیں،کسی بھی اخبار کی سرخی میں اس کی خبر لگ جائے گی۔

مجھے اس باپ سے زیادہ شکایت ہے جو سالوں اپنی پھول سی بیٹی کو پالتا پوستا ہے، اسے تعلیم بھی دے دیتا ہے لیکن آخر میں جب بیٹی کی شادی کا وقت آتا ہے تو گھاٹے کا سودا کر لیتا ہے۔ بیٹی بھی دیتا ہے اور ساتھ اس کے سارا سازوسامان بھی۔ اس گھاٹے کے سودے کے بعد یہ امید بھی رکھتا ہے کہ اگلے اس کی بیٹی کی عزت کریں۔ مجھے بتائیے سودے بازی میں عزت کیسی؟ یہ کیسا قانون ہے جہاں اپنے جگر کا ٹکڑا بھی دے دو اور پھر عنایات کی بارش بھی کرو۔ کس نے بیٹی کے باپ کو اتنا مجبور بنا دیا؟ کیا شادی ایک کاروبار ہے؟ کیا مائیں بیٹا پیدا ہونے کی دعا اس لئے مانگتی ہیں تاکہ اگلی دفعہ گھاٹے کا سودا کرنے والوں کی صف میں وہ نہ کھڑی ہوں؟ افسوس ہم واقعی ایسی بستی میں ہی بس رہے ہیں جہاں بیٹوں کا منافع بخش کاروبار ہوتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں