The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

ہم خواتین کو عزت کیوں نہیں دیتے؟

خواتین کا عالمی دن ہو یا پھر کچھ اور یہ ہماری روایت ہے کہ انہیں خوشی دینے سے ہم کتراتے ہیں، ہاں البتہ اگر غرض ہو تو انہی خواتین کو ہم سر پر بٹھاتے دکھتے ہیں۔

دفاتر میں کام کرنے والے مرد حضرات ہوں یا گھر کی کفالت کرنے والے باپ بھائی اُن کے ذہنوں میں حکمرانی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے اس لیے وہ اپنی رعایا (خواتین) کی پریشانیوں سے ناواقف رہتے ہیں۔

مذہبی گھرانہ ہو یا پھر لبرل فیملی کہیں بھی خاتون اگر گھر دیر سے پہنچھے تو اُس سے تفتیش کی جاتی ہے اور ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جس سے گمان ہوتا ہے شاید وہ کچھ غلط کر کے آئی ہے۔

عام طور پر ہمارے معاشرے میں خواتین کے دفاتر میں کام کرنے یا انہیں روزی کمانے پر اعتراض کیا جاتا ہے، ایک بہن اگر کسی جگہ پر اپنی تعلیمی قابلیت کے حساب سے نوکری حاصل کرتی ہے اور معاشرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اپنا آپ منوانا چاہتی ہے تو ارد گرد کے لوگ اور ماحول بھائی کی غیرت کو للکارنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

بیسویں صدی میں رہنے کے باوجود دنیا میں موجود خواتین بے پناہ مسائل کا شکار ہیں، کہیں وہ اپنی مرضی سے گھر سے نہیں نکل سکتی تو کسی ملک میں اُن کے مرضی سے حجاب اڑھنے پر پابندی ہے، کہیں وہ پینٹ شرٹ پہننے پر تشدد کا نشانہ بنائی جاتی ہیں تو کہیں وہ سر پر دوپٹہ اوڑھ کر نکلنے پر آوارہ مردوں کی تضحیک کا نشانہ بنائی جاتی ہیں۔

دنیا کے کسی خطے میں تو خواتین کی پسند پر انہیں سرعام کوڑے مارے جاتے ہیں تو کہیں بھائی کی غلطی پر بہن یا بیوی (خاتون) ونی کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے، غیرت کا عالم تو یہ بھی ہے کہ ایک بھائی جو اپنے ساتھ کسی دوسری خاتون کو بھگا کر پسند کی شادی کا خواہش مند ہوتا ہے وہی بھائی بہن کو اس کی مرضی کا حق دینے کے خلاف ہے۔

گھر سے دفتر یا تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والی خاتون پہلے تو دروازے سے بس اسٹاپ تک انتقامی نظروں کا نشانہ بنائی جاتی ہے پھر اگر وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرے تو وہاں بھی بچنا محال ہوتا ہے، دفتر یا تعلیمی درس گاہ میں بھی اُسے آڑی ترچی ، تیڑھی اور سیدھی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔

واپسی میں اگردیر ہوجائے تو گھر آکر شکی نظروں سے اُس سے سوالات کیے جاتے ہیں اور ایک سانس میں جواب نہ دینے پر مرد کی اپنی ہی سوچ پختہ ہوجاتی ہے، دفاتر میں کام کرنے والی خواتین اپنے ارد گرد کے ماحول سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اُن کو کب تک کن نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔

جس پڑھے لکھے معاشرے میں خواتین کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے تو قومیں ترقی کے بجائے پستی کی طرف چل پڑتی ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہے اور اس بات کا اندازہ مرد حضرات کو اچھی طرح سے ہے مگر وہ اس کا برملا اظہار اپنی رعایا (بیوی، بہن، بیٹی، ماں) سے اس لیے نہیں کرتے کہ اُس کو اپنی سلطنت کمزور ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

معاشرے میں حقیقی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کو شریعت کے مطابق جینے کا حق دیا جائے اور اُن کو بھی اختیار دیا جائے تاہم اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ فیصلے کے وقت عورت کے علم میں کسی بات کا ہونا ضروری ہے اور اُسے صفائی کا موقع فراہم کیا جائے۔جیسے ایک لڑکا کسی لڑکی سے مانوس ہوتا ہے اور اُس کی غلطی پر اُسے صفائیاں پیش کرنے کا موقع دیتا ہے بالکل اسی طرح وہ اپنی بہن، ماں، بیوی، بیٹی سے  محبت کا برملا اظہار کرے اور طبیعت خراب ہونے یا کھانا نہ کھانے کی صورت میں اُس سے بھی اُسی طرح دریافت کرے۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں