The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

غنڈہ گردی یا طلبہ سیاست

طلبہ سیاست ہمیں ڈاکٹر پیٹر ایچ آرماکوسٹ سے بہتر کوئی نہ سمجھا پایا ۔ ڈاکٹر پیٹر ڈبل پی ایچ ڈی اسکالر ہیں اور اب پاکستان سے واپس اپنے ملک جا چکے ہیں۔ یہ امریکا میں خوشگوارریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے پوتے پوتیوں کے ہمراہ تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ ڈاکٹرپیٹرجب پاکستان آئے تب ایف سی کالج لاہور جمیعت کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ یونی ورسٹی کے گیٹ سے کیمپس تک دھول اڑتی تھی۔ ڈاکٹرپیٹر کی بطورریکٹر/ چیئرمین آمد کے ساتھ ہی ہنگامے پھوٹ پڑے۔ ایف سی کالج کو پرائیوٹائز کرتے ہوئے کرسچن کمیونٹی کے حوالے کیاجارہا تھا اور امریکا کا ایک بورڈآف گورنرز اس کے معاملات دیکھنے لگا تھا۔ یہاں موجود سینئر سرکاری اساتذہ کی اکثریت اس کالج کی حسین یادیں سمیٹ کر گورنمنٹ کالج منتقل ہو گئی جبکہ چند ایک نے یہیں پڑھانے کا فیصلہ کیا۔ ان دنوں کالج میں طلبہ سیاست کے نام پرمیگا فون پر نعرے لگتے تھے۔ ایک روزڈاکٹرپیٹرنے دیکھا کہ کالج کی گراؤنڈ میں طلبہ اکٹھے ہیں اور نعرے بازی ہو رہی ہے۔ اس انگریز استاد نے سوال کیا کہ : یہ کیا ہو رہا ہے ۔ بتانے والے نے بتا دیا کہ یہاں طلبہ تنظیم کااحتجاج ہے جس میں روایت کے مطابق دیگرکالجز کے طلبہ بھی بلائے گئے ہیں اور انہوں نے طلبہ کو کلاسز میں جانے سے روک دیا ہے ۔انگریز اسکالر نے بے ساختہ کہا : جو پڑھنے کے لئے فیس دیتے ہیں انہیں کلاسز میں جانے سے کون روک سکتا ہے؟۔

ڈاکٹر پیٹر نے اس موقع پر براہ راست اپنی سکیورٹی یا عملے کو اس معاملے میں نہیں گھسیٹا بلکہ پنجاب پولیس کی اعلیٰ کمانڈ سے رابطہ کر کے بتایا کہ میرے کالج میں بعض عناصرطلبہ کی تعلیم میں رکاوٹ بن رہے ہیں، انہیں یہاں سے ہٹایا جائے۔ عینی شاہد کے مطابق کچھ دیر بعد پولیس کی بھاری نفری نے اس گراؤنڈ کو اپنے گھیرے میں لے لیا اورلاٹھی چارج شروع ہو گیا۔ طلبہ تنظیم کے عہدے داران سمیت دیگرطلبہ بھی گرفتار کر لئے گئے۔ یہ اس گراؤنڈ کا آخری احتجاجی جلسہ تھا۔ ڈاکٹر پیٹرنے اپنے ملک کی طرح ہر معاملے میں پولیس کو ہی آگے کیا ۔ کالج میں اپنی طاقت منوانے کے بعد ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہاسٹل میں مقیم غیرطلبہ عناصر کو ہاسٹل بدر کرنا تھا۔ انہی دنوں کالج میں چھٹیاں ہوئیں تو ہاسٹل خالی ہو گئے۔ ڈاکٹر پیٹر نے ایک بار پھر پولیس کی ہائی کمانڈ سے رابطہ کیا اور یہ مسئلہ حل کرنے کی درخواست کی ۔ پولیس آفیشلز نے خالی ہاسٹل کے ہرکمرے میں پولیس نفری تعینات کردی۔ چھٹیوں کے بعد ہاسٹل آنے والے جن طلبہ کے پاس رہائشی اجازت نامہ نہیں تھا انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد سے ایف سی کالج کے نیلا گنبد والے ہاسٹل میں صرف وہی طلبہ رہتے ہیں جنہیں ہاسٹل کی سہولت دی گئی ہے ۔یہ ایک غیر ملکی کی جانب سے انتظامیہ پراعتماد کا نتیجہ ہے۔

اصل کہانی اب شروع ہوتی ہے۔ ڈاکٹر پیٹریہ جاننا چاہتے تھے کہ آخر طلبہ ان کے خلاف کیوں ہیں اوراحتجاجی مظاہرے کیوں کئے جا رہے ہیں۔ انہیں بتایا گیاکہ طلبہ کی اکثریت طلبہ سیاست کو مستقبل میں کامیابی کا ذریعہ سمجھتی ہے اس روز ڈاکٹر پیٹرنے طلبہ کو طلبہ سیاست  سکھانے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ امریکا گئے اور بورڈ آف گورنرز سے طلبہ کے لئے لاکھوں روپے کا بجٹ منظور کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے یونیورسٹی میں ایک نئی طلبہ سیاست کی بنیاد رکھی ۔ انہوں نے تمام ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس اور اساتذہ کا اجلاس بلایا اور ڈرامہ ، ڈیبیٹ ، کھیل سمیت ہر مضمون کے نام سے بھی ایک سوسائٹی تشکیل دینے کا حکم دیا۔ اگلے مرحلے میں ایف سی کالج میں کم و بیش دو درجن سوسائٹیز بن گئیں۔ ان کا اگلا حکم تھا کہ اب ممبرشپ کیمپ لگایا جائے اورہرطالب علم کو یہ اجازت ہے کہ وہ ایک یا ساری سوسائٹیز کی ممبر شپ لے سکتا ہے لیکن وہ جس سوسائٹی کی ممبر شپ لے گا اسے صرف اس کا الیکشن لڑنے یا ووٹ دینے کی اجازت ہو گی ۔ یونی ورسٹی انتطامیہ کی جانب سے ہر سوسائٹی کو ممبر شپ کیمپ لگوا کردیا گیا ۔ ہر سوسائٹی کے ایڈوائزر کے طور پر اسی شعبہ کا پروفیسر منتخب ہوا۔ اس سسٹم کے تحت طلبہ میں الیکشن ہوئے اور طلبہ لیڈرز کی ایک بڑی کھیپ سامنے آ گئی۔ اب ڈاکٹر پیٹر نے تمام سوسائٹیز کی باڈیز کو ایک سال کا بجٹ تیار کرنے کا کہا ۔ ایک سال میں وہ اپنی سوسائٹی سے متعلق جو پروگرام منعقد کروانا چاہتے تھے ان کی فہرست اور تخمینہ کا حساب لگایا گیا۔

اگلے مرحلے میں پارلیمانی بجٹ کی طرز پر ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا ۔ انہوں نے صاف بتایا کہ اس سال ہمارے پاس 12 لاکھ کا بجٹ ہے۔ تمام سوسائٹیز اپنا اپنا بجٹ پیش کریں گی اور باقی سوسائٹیز کے راہنما اس بجٹ کو کم کرنے کے لئے دلائل دیں گے ۔ ایک بینراگر 500 میں بنتا ہے لیکن کوئی اور یہی بینر 300 میں بنوا سکتا ہے تو وہ 200 روپے اس بجٹ سے کٹوا سکتا ہے۔ اس بحث کے نتیجے میں12 لاکھ روپے کا سالانہ بجٹ ہر سوسائٹی میں اس کی ضروریات کے مطابق تقسیم ہو گیا ۔ اب اس دانشور نے ایک اور اعلان کیا کہ سب نے اپنا اپنا بجٹ ایک سال میں ختم کرنا ہے ورنہ اگلے سال اس سوسائٹی کابجٹ کم کر دیا جائے گا ۔ دوسرا اعلان یہ ہوا کہ رقم کسی کو براہ راست نہیں دی جائے گی لیکن انتظامی معاملات براہ راست طلبہ کے ہاتھ میں ہوں گے وہ ہر پروگرام کے بعد اس کی رسیدیں اکاؤنٹ آفس میں جمع کروا کر مطلوبہ رقم حاصل کر سکیں گے۔

ایف سی کالج میں اب جمیعت یا کوئی اور قابل قدر طلبہ تنظیم نہیں ہے لیکن ہر سال اس یونی ورسٹی سے لگ بھگ 25 سے زائد سوسائیٹیز کے بینر تلے لگ بھگ ڈیڑھ سو سٹوڈنٹ لیڈرزسامنے آتے ہیں ۔ یہاں الیکشن کمپین سے لے کر بجٹ پیش کرنے تک کی عملی تربیت دی جاتی ہے ۔ مقابلے کی اس فضا میں ہرسوسائٹی نے ہر ماہ کم از کم دو پروگرامز کا انعقاد کرنا ہوتا ہے، اس لئے ایف سی کالج کے ہالز میں ہر روز کم از کم دو تین پروگرامز جاری رہتے ہیں ۔ یہ وہ طلبہ سیاست تھی جس نے ایف سی کالج کے طالب علموں کو فساد کی بجائے حقیقی لیڈر شپ سکھائی۔

کچھ روز قبل جامعہ پنجاب میں طلبہ تنظیموں کے درمیان ہونے والے فساد کی خبروں سے ایک بار پھرڈاکٹر پیٹر ایچ آرماکوسٹ یاد آئے ۔ ٹی وی چینلز پر سی سی پی او امین وینس اور ڈی آئی جی حیدر اشرف سمیت دیگر پولیس افسران طلبہ سے مذاکرات کرتے نظر آئے ۔ یہ وہ آفیسرز ہیں جن کا ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے کہ مشکل سے مشکل حالات کو کنٹرول کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں اور کئی باراپنی قابلیت منوا چکے ہیں ۔ سوچتا ہوں کہ پولیس کے ہاتھ باندھ کرانہیں طلبہ کے نام پر چند غنڈوں سے مذاکرات کا کہہ کر ہم کس کلچر کو پروان چڑھا رہے ہیں ؟ کیا ایسی مشقوں سے ہم طلبہ کو ان کے اصل راستے سے ہٹا نہیں رہے۔

ماضی میں اسی کلچر نے ہمیں ایسے سٹوڈنٹس لیڈر فراہم کئے جو نہ قانون کو تسلیم کرتے تھے اور نہ ہی ریاست کی رٹ مانتے تھے ۔ یہ ساری کھیپ اعلیٰ عہدوں اور کامیاب زندگی کی بجائے سیاست دانوں کے ہاتھوں استعمال ہونے کے بعد پولیس مقابلوں اور ذاتی دشمنیوں میں ماری گئی۔ آج آپ مذاکرات کے نام پر ان طلبہ کے دل سے فورس کا رعب ختم کریں گے تو کل یہی لوگ مقابلے میں مارے جانے والوں کے نقش قدم پر چلتے ملیں گے۔ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہے ۔ ہم اپنے بچوں کے لئے کیسا ماحول چاہتے ہیں ۔ ان طالب علموں کو طالبان نہ بنائیں۔ دو گروپوں کی لڑائی میں پولیس کے کاندھے پر مذاکرات کی پستول رکھ کر نہیں چلائی جاتی ۔ مذاکرات یونی ورسٹی انتظامیہ یا سول انتظامیہ کرتی ہے اور ان کی ناکامی کے بعد پولیس کو مکمل اختیارات دے کرریاست کی رٹ قائم کرنے بھیجا جاتا ہے ۔ہم پولیس کو برا بھلا تو کہتے ہیں لیکن ایسے معاملات میں خود ہی اس کے ہاتھ بھی باندھ دیتے ہیں ۔ آج ایک بار پولیس کو اختیارات دے دیئے گئے تو یقینا مستقبل میں ایک اچھا ماحول ہمارے بچوں کا منتظر ہو گا۔ یاد آتا ہے کہ ایم اے او کالج میں بھی پولیس کو اختیاردیا گیا تھا۔ آج وہ کالج طلبہ سیاست کے نام پر ہونے والی غنڈہ گردی سے پاک ہو چکا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں