The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

دہشت گرد کو گولی کہاں مارنی ہے؟

آج تیسرا دن ہورہا ہے۔ راولپنڈی میں ناکے پر موجود سپاہی محمد زعفران شہید ہو گیا ، اس کے ساتھ موجود دیگر اہلکار گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے لیکن مجھے سوشل میڈیا پر کوئی ہلچل نظر نہیں آئی ۔ مجھے کسی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کا بلاگ نہیں ملا، مجھے کسی دانشور کالم نگار کا قلم ہلتا نظر نہیں آیا ، مجھے انسانی حقوق کے علم برداروں کا دل دھڑکتا محسوس نہیں ہوا ، کہیں شمع جلی نہ کہیں کتبے اٹھا کر اظہار یکجہتی ہوا ۔ بس راولپنڈی پولیس لائن میں آئی جی پولیس امجد جاوید سلیمی ، آر پی او ، سی پی سمیت کچھ پولیس آفیسر اور اہلکار اکٹھے ہوئے اور شہید کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ،شہید کے دوستوں نے آنسو بہائے ، زخمی ساتھی ہسپتال کے بیڈ سے سر ٹکراتے روتے رہے اور داستان ختم ہو گئی ۔

اس شخص کی داستان جس کی شادی کو سات سال ہوئے تھے ، جس کی پولیس سروس صرف چھ سال تھی اور جس کے دو چھوٹے بچے تھے ، جس کی بیوی اب شہید کی بیوہ ہے ۔ جس کے بچے یتیم ہیں ۔ یہ سوال مجھے سماج کے دانشوروں سے پوچھنا ہے ۔ کیا واقعی شہید سپاہی کی داستان یہیں تک تھی ؟ کیا داستان ختم ہو گئی؟۔

ایک اور سوال بھی ذہن میں آتا ہے ۔ اگر سپاہی زعفران شہید نہ ہوتا ، اگر وہ مدمقابل دہشت گرد کو گولیاں مار دیتا ۔ اگر پولیس اہلکار بھی بچ جاتے اور حملہ آور مارا جاتا تو داستان کہاں تک جاتی؟۔ سوشل میڈیا کے دانشور اس دہشت گرد کے حق میں پوسٹ لگاتے ، بلاگر بلاگ لکھتے ، دانشور کالم لکھتے ، دو چار پروگرام ہوتے ۔ تاویلیں گھڑی جاتیں کہ زعفران نے گولی کیوں چلائی ، چلائی ہی تھی تو ٹانگ پر کیوں نہ ماری ، زخمی کیوں نہ کر دیا ، میدان عمل کی صورت حال سے نا بلد دانشوروں کی تاویلوں اور دلیلوں کی بدولت زعفران کے خلاف انکوائری ہوتی اور ممکن ہے وہ معطل بھی ہو جاتا ۔

صاحبو ! خبر ہو کہ راولپنڈی میں پنجاب پولیس کا سپاہی زعفران حملہ آور کی ٹانگ تلاش کرتا رہا لیکن کمبخت حملہ آور نے ٹانگ آگے نہیں کی ۔ دشمن کی ٹانگ دیکھ کر گولی مارنے کے چکر میں سپاہی زعفران شہید ہوگیا۔ آئی جی پنجاب اور راولپنڈی کے آر پی او ، ڈی پی او سمیت اس کے دیگر افسران اور ساتھیوں نے جمعہ کی صبح شہید سپاہی کو سیلوٹ کیا، اس کی نماز جنازہ ادا کی ، ایک دوسرے کو گلے لگا کر زعفران کا پرسہ دیا اور یوں ہماری بے حسی کی یہ داستان ختم ہو گئی۔

شاید کبھی ہم ایسا کوئی سر پھرا سوال پوچھ لے کہ سوشل میڈیا جتنا کسی دہشت گرد کی موت پر روتا ہے اس سے آدھے آنسو اپنے شہیدوں پر کیوں نہیں بہاتا؟۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں