The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

مجنوں ہوا ہے شہر تو ویرانہ کیا کرے

مجھے رشک آتا ہے اس کسان پرجو پاکستان کے کسی دور افتادہ گاؤں میں اپنے آباؤاجداد کی طرح سورج کو مشرق سے ابھرتا اورمغرب میں غروب ہوتا موسموں کو بدلتا‘ فصلوں کواوربھیڑ بکریوں کو اورانسانوں کوجیتے مرتے دیکھا کیا ۔نہ جانا کہ اس کی دنیا کے آگے کیا ہے ۔ نہ اس کی ضرورت محسوس کی۔یہاں تک کہ ایک بھولے بھٹکے رپورٹرکا ادھر سے گزرہوا ۔ بھوک پیاس کے مارے رپورٹرنے ایک درخت کی چھاؤں میں آدھی روٹی کھا نے اور کنویں کے ڈول سے پانی پینے کے بعد دیکھا کہ وہ ایک بوڑھا سفید ریش کسان ہے۔

’’سڑک کدھر ہے بابا‘ جہاں سے بس مل جائے‘‘ اس نے پوچھا
کسان نے بے بسی سے دائیں بائیں دیکھا
’’اسلام آباد جانے کے لیے۔۔‘‘رپورٹر بولا
‘‘اسلام آباد؟‘‘ کسان نے داڑھی کھجائی۔’’یہ کہاں ہے؟’’
’’حد ہے بابا۔۔پاکستان کا تو پتا ہے نا؟‘‘ رپورٹر جھنجلایا
‘‘پاکستان؟۔۔ کبھی سنا نہیں۔۔’’
یہ فرضی کہانی نہیں۔۔پاکستان بننے کے 60 سال بعد کا واقعہ ہے۔۔وہ لاولد کسان اپنے باپ کا اکلوتابیٹا تھا اسی کی طرح روز اسی گھر سےنکلتا تواسی کھیت تک جاتا۔سال میں دوچار بار قریب کے قصبے سے اپنے اور بیوی کے لیے کپڑا لاتا‘ بیماری میں مولوی صاحب سے تعویذ لیتا‘ بیوی چکی پر آتا پیس لیتی‘ ایک گاےؑ کا دوددھ‘ دہی‘ مکھن‘ گھی ان کو کافی تھا۔ نمک مرچ کے ساتھ جو سبزی ملتی پک جاتی۔

وہاں نہ بجلی تھی‘ نہ اخبار اور نہ ریڈیو ٹی وی۔ اسے کون بتاتا کہ مغلوں کا زمانہ گیا‘ پھر سکھ آئے اس کے بعد انگریز اور اب مسلمانوں نے پاکستان حاصلکرلیا ہے اوراس کا کیپٹل اب اسلام آباد کا شہر آباد ہوئے بھی چالیس برس سے زیادہ ہوگئے۔ اسے جاننے کی ضرورت ہی نہ تھی۔

ضرورت مجھے بھی نہیں۔ یہ جاننے کی کہ پاناما گیٹ اسکینڈل کیا ہے‘ کرپشن کون کر رہا ہے اورکیوں‘ کس نے کس کے خلاف یا حق میں کیا کہا ہےٍ اور کیوں‘ سیاست میں کیا ہورہا ہے ۔کیا ہونا چاہیے کیا نہیں اور کیا ہوگا۔

یہ ایسی کہانیوں کی کتاب ہے جس میں نام بدل کے وہی واقعات لکھے ہوئے ہیں اور باربار پڑھنے سے مجھے ڈائیلاگ تک ازبر ہو چکے ہیں۔اب کیا اخبار اور ان کے منجھے ہوےؑ کالم نگار‘ کیا ٹی وی کے بریکنگ نیوز لانے والے‘ اینکر‘ تجزیہ کار اورکیا سوشل میڈیا کے احباب‘ شاعر‘ ادیب‘ پروفیسر‘ ڈاکٹر  سب پر پاناما کیس کا آسیب یوں سوار ہے کہ لگتا ہے صور اسرافیل کے پھونکے جانے کا وقت آگیا۔ قربِ قیامت کی جو نشانیاں ہر گزری صدی میں کسی نا کسی گرگ پارسا کو دکھائی دیتی رہیں۔ اب تو شک کی گنجائش ہی نہیں‘ تاریخ اور وقت کا تعین ہوگیا۔

جب کہ دنیا میں سورج اگلے دن طلوع ہوگا تو کہیں کچھ مختلف نہ ہوگا۔ صبح دم دودھ دہی کی دکانیں اسی طرح کھلیں گی‘ بچوں کو اسکول لے جانے والی وین اسی وقت پر ہارن دے گی۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے تیز گام اسی طرح وسل دیتی گزرے گی تو میرا ناشتا جاری ہوگا‘ میری ایک پوتی ٹھیک نو بجے فرسٹ ائیر کے سالانہ امتحان کا پیپر دیکھے گی، ٹول ٹیکس پلازہ پر گاڑیاں رکیں گی‘ لیکچرر بوٹنی فزکس پر لیکچر دیں گے‘  کسی مردہ جسم کا پوسٹ مارٹم ہوگا‘ محبت کرنے والے وہی کریں گے جو کرتے ہیں اوراس سے اگلے دن اور اس سے اگلے دن مختلف کچھ بھی نہ ہوگا لیکن جس آسیب سے مفر نہیں اس نے مجھے ہر سمت سے محصور کر رکھا ہے پاناما کیس ہے۔

سب کے حواس اور اعصاب کو کسی نادیدہ ہاتھ نے یوں مسحور کیا ہے کہ ہپناٹائز ہوجانے والوں کی طرح وہ نہیں جانتے کہ جو سوچ رہے ہیں یا بول رہے ہیں اورکررہے ہیں کیوں بے مقصد ہے؟جبکہ وہ تو سوچنے سمجھنے کی صحیح با مقصد سمت بتانے سمجھانے والے ہیں‘ وہ جن کے ہاتھوں نے سقراط کو زہر کا پیالہ دیا‘ ابن مریم پر پتھر اٹھائے‘ آخری نبی کو شہر بدر کیااور ایک سوچ کے اندھے مقلد کر دئیے گے تھے۔وہ بھیڑ سے الگ ہوکر سوچنے کی طاقت سے محروم بنا دیے گئے تھے۔ جیسے ہم بھی بارہا بنائے گئے۔ آج بھی فیس بک پر بعد از وقت کے اعترافات ہیں کہ وہ ضیااور بھٹو یا چوہدری افتخارکے پیچھے دیوانہ وار کیوں گئے۔

کاش یہ ممکن ہوتا کہ میں ایک مہینہ بھی کسی جگہ اکیلا صرف اپنے ساتھ رہتا اور لوٹ کر آتاتو سب وہیں ویسا ہی ملتا جیسا کہ ہمیشہ سے ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں