The news is by your side.
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

پاکستان کب تک ’ڈو مور‘ سنے گا

ڈو مور کے مطالبات چاہے پاکستان کے اندر سے ہوں یا باہر سے،مطالبات نے افراتفری میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور دشمن افرتفری کی اس فضا میں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے در پے ہے۔تمام اداروں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے ، اپنے بیانات سے ملک میں افراتفری کو فروغ دینے سے گریز کرنا چاہئے۔

پاکستان کے لئے ڈو مور ایک جانا پہچانا لفظ ہے۔ڈو مور کے اردو معنی ہیں،مزید کریں۔دراصل ڈو مور لفظ نے پاکستان میں خاصی شہرت حاصل کرلی ہے،ڈو مور ایک مطالبہ ہے جو برسوں سے امریکہ پاکستان سے کرتا آ رہا ہے۔اس امریکی مطالبے سے جہاں پاکستانی عوام اکتا گئی ہے ،وہیں لفظ ڈو مور بھی نو مور کہنے پر مجبور ہے۔مگر سپر پاور امریکہ اور ٹرمپ حکومت کی سمجھ سے سب کچھ بالاتر ہے۔

اسکے پیچھے کچھ پہلو ہو سکتے ہیں،ٹرمپ کے خوشامدی ٹولے،ٹرمپ پسند ممالک کی چہ مگوئیاں اور ٹرمپ کے پاس ناقص علم اور نامکمل اور حقیقت کے برعکس معلومات وغیرہ۔یہ پہلو تو واقعی سچ ہے کہ پاکستان حکومت کا امریکی بہکاوے میں بار بار آنا یا پھر پابندیوں سے بچنے کی مجبوری۔جو بھی ہو امریکی چالاکیاں سر فہرست ہیں۔ورنہ پاکستان نے جتنا ڈومور پر عمل کیا ہے شاید ہی کوئی اور ملک کر پائے۔

ڈو مور کی اہمیت کا اندازہ لگائیے کہ امریکی صدر ڈومور کو اپنے بیانات کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔کرم ایجنسی سے پاک فوج کے آپریشن سے بازیاب ہونے والے کینڈین جوڑے پر واشنگٹن میں امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستانی حکام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امن کے لئے پاکستان نے ہمارے ڈومور مطالبے کو تسلیم کرلیا۔ٹرمپ کے نزدیک پاک امریکہ تعلقات کا اصل آغاز اب شروع ہوا ہے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں رہے۔

دوسری طرف ترجمان دفتر خارجہ پاکستان زکریا نفیس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور پاکستان نے مل جل کر مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کا اعادہ کر لیا ہے۔گزشتہ روز خواجہ آصف نے بھی کہا کہ امریکہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرے ہم آپریشن کریں گے۔مانتے ہیں کہ پاکستان کی ہمیشہ خارجہ پالیسی یہی رہی کہ تمام ممالک سے بہتر تعلقات استوار کئے جائیں۔مانتے ہیں امریکہ سپر پاور ہے،پاکستان پر پابندیاں بھی عائد کر سکتا ہے۔تعلقات ضرور قائم کئے جائیں اصولوں کی بنیاد پر برابری کی بنیاد پر اور اپنی خودمختاری و سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے۔

بہت ڈو مور کرلیا، اب دنیا ڈو مور کرے، آرمی چیف

گزارش ہے کہ امریکہ سے تعلقات کی مجبوری میں ملکی خودمختاری و سلامتی پر کوئی حرف نہیں آنا چاہئے۔بات رہی ٹرمپ کی کہ امریکی تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہیں۔بالکل غلط! یہ تو پاکستان ہی جانتا ہے کہ ان تعلقات کی مد میں پاکستان کو خسارہ ہی خسارہ ہوا۔ضرورت کے وقت ہمیشہ امریکہ نے پاکستان کو استعمال کیا اور جب کبھی پاکستان کو امریکہ کی ضرورت پڑی تو امریکہ نے ہمیشہ دھوکا دیا بلکہ بعض موقعوں پر پاکستانی مخالفین کی حمایت بھی کی۔

پاکستان امریکی ڈو مور کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے ستر ہزار سے زائد شہریوں کی جانیں گنوا بیٹھا ہے۔معیشت کا بیڑا غرق کیا۔مگر امریکہ بجائے شاباشی کے آج بھی پاکستان کے کردار پر شک کرتا ہے۔شک کی بنا پر امریکہ نے بدستور پاکستان کے ساتھ دھمکیوں اور ڈو مور کا مطالبہ قائم رکھا ہوا ہے۔اگر پاکستان امریکہ کے آگے جھک کر تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے تو یہ ہماری خودمختاری و سلامتی کے منافی ہے،اور ہمارا مذہب بھی ایسے تعلقات کی اجازت نہیں دیتا۔

پاکستانی حکومت کو اپنے خدشات بارے امریکی حکومت کو آگاہ کرنا چاہئے تاکہ امریکہ اپنی دھمکیوں سے باز آجائے اور مساوی تعلقات کو فروغ دے۔اگر آج ہماری قوم اور حکومتوں نے ڈومور کے معاملے کو سنجیدگی سے نہ سمجھا تو صدیوں تک ہماری نسلیں ڈومور کے مطالبے ہی پوری کرتی رہیں گی چاہے مطالبہ امریکہ کی طرف سے ہو ‘چین کی طرف سے ہو یا کسی اور بڑی پاور کی طرف سے۔

قارئین ! ویسے تو پاکستان میں عسکری قیادت کی طرف سے جمہوری حکومتوں سے پرفارمنس دکھانے کے مطالبے کی روایت بھی عرصہ سے چل رہی ہے۔مگر گزشتہ چند روز سے معیشت کی بات زیر بحث ہے جس پر آرمی کے مطالبے کو حکومت نے ردکرتے ہوئے ا سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔عسکری ترجمان نے حکومتی ترجمان کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ فوج اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

مختلف ذرائع کے مطابق حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔اس صورتِ حال میں اہم شخصیات سے گزارش ہے کہ بیان بازی سے گریز کریں اور مل جل کر خدشات دور کریں،حکومت اور عسکری قیادت دونوں ہی ملک کے لئے اہم ترین ہیں۔ ایک لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں اور دوسروں لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں۔افراتفری کو فروغ دینے کی بجائے تحمل سے کام لینا چاہئے تاکہ دشمن کو کسی قسم کا کوئی فائدہ نہ پہنچے اور پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن رہے ۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں