The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

اے آروائی ڈیجیٹل کے ناظرین کو لبھانے والے ڈرامے

ہمارے پروگرامز کی ناظرین جس طرح حوصلہ افزائی کرتے ہیں، ہم ان کے مشکور ہیں اور یہ انہی کی دی ہوئی محبت ہے کہ ہم لگاتار کام کرکے بھی نہیں تھکتے، ان کی وجہ سے ہم میں نئے جذبے اجاگر ہوتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے ناظرین کے لئے نئے نئے پروگرامز جو بے مثال ہوں، پیش کرتے رہیں۔

آئیے قارئین اور ناظرین اب چلتے ہیں۔۔۔ پروگرامز کی طرف سیریل ”وہ میرا دل تھا“ کو جو مقبولیت ملی، وہ بے مثال تھیں۔ اس سیریل کو تحریر کیا ہے، فائزہ افتخار نے جبکہ ہدایت محسن علی کی ہیں۔پچھلے دنوں بہروز سبزواری اے آروائی آئے تو انہوں نے بتایا کہ اداکاری کرتے اب عمر گزر گئی مگر آج بھی اداکاری کے حوالے سے طفلِ مکتب کے مقام پر کھڑا ہوں، ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مجھے اپنے صاحب زادے شہروز سبزواری سے بہت امیدیں ہیں اور وہ اپنی محنت کے حوالے سے ایک اچھا اداکار ثابت ہوگا۔ میں اسے یہ سبق دیتا ہوں کہ اپنے کام کو ہمیشہ ایمانداری سے کرنا۔اس سیریل کے نمایاں فنکاروں میں سمیع خان، مدیحہ امام، فرقان قریشی اور شاہین خان قابلِ ذکر ہیں۔ ”وہ میرا دل تھا“ ہر ہفتے کی رات 9 بجےاے آروائی ڈیجیٹل سے دکھائی جائے گی۔

اے آروائی ڈیجیٹل سے آن ائر ہونے والے سوپ ”کٹو“ کے پروڈیوسر ہمایوں سعید اور شہزاد منیب ہیں، اس سوپ کے حوالے سے ہمایوں سعید بتارہے تھے کہ الماس فدائی نے ”کٹو“ کا کردار کرکے اپنے آپ کو منوالیا ہے۔
میں اپنے ناظرین کا بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے سوپ ”کٹو“ کو بہت پسند کیا۔ اپنی سپرہٹ فلم ”پنجاب نہیں جاؤں گی“ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ میں کوششں کرتا ہوں کہ ٹی وی ڈرامہ ہو یا فلم، پوری توجہ سے کام کروں۔ شائقین فلم نے جس طرح میری فلم کے حوالے سے حوصلہ افزائی کی، میں ان کا مشکور ہوں اور یقیناً سوپ ”کٹو“ کو بھی ناظرین سراہیں گے کہ میرے پرستاروں نے میری محنت کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے۔

سوپ ”کٹو“ کی کہانی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ”کٹو“ ایک بیس سالہ موٹی سمجھ دار باتیں کرنے والی لیکن بے وقوف اور ایک ادھورے خواب دیکھنے والی لڑکی کا نام ہے جبکہ ریاض کٹو کا باپ ہے، جگنو، کٹو کا جیٹھ ہے جو انتہائی کینہ پرور انسان ہے اور تارا، کٹو کی جٹھانی ہے، خود اس کا تعلق غریب گھرانے سے ہے مگر غریب سسرال پر رعب جھاڑتی رہتی ہے۔ شہناز ساٹھ سالہ ایک مکار، چالاک بڑھیا ہے اور طبیعت میں اس کے سازش پائی جاتی ہے۔

کٹو کا شوہر سلطان ایک مطلب پرست انسان ہے جو اپنے سکون کے لئے گھر کا سکون برباد کرنے پر تلا ہوا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ گھر میں رہنے والے کہیں اور چلے جائیں تاکہ وہ اپنی زندگی سکون سے گزار سکے۔ کٹو کا دیور سجیلا اسے ہر وقت ہیرو بن کر پھرنا بہت اچھا لگتا ہے، وہ اپنے غریب بھائیوں کی طرح زندگی گزارنا نہیں چاہتا، چرب زبان، عاشق مزاج، فرسٹیڈ اور فلمی گانے سننے کا بہت شوقین ہے۔

انارکلی، کٹو کی دیورانی ہے جو بہت چھیل چھبیلی قسم کی لڑکی ہے۔ اختر عرف مغلِ اعظم سوکھا سڑا چڑ چڑا، ایک نمبر کا جھکی آدمی ہے، اس کی کیمیکل کی دکان ہے، یہ کٹو کا باپ ہے جو لوگوں میں پھوٹ ڈلوانے کا ماہر ہے۔ گلنار آپا، انارکلی کی ماں ہے جو توہم پرست، ہر چھوٹی بڑی مشکل کو دیکھنے کے بعد کہتی ہے کہ کسی نے کچھ کروادیا ہے، لوگوں کے عیب ڈھونڈ کر انہیں پھیلانے والی چغل خور عورت، کمیٹیاں ڈالنے کے بعد ہر ایک کی کمیٹی میں ہیر پھیر کرکے پیسے کھاجانے والی عورت ہے۔

ہمایوں سعید نے بتایا کہ میں نے اور میری ٹیم نے اس پر خصوصی محنت کی ہے اور اب مجھے احساس ہورہا ہے کہ محنت رائیگاں نہیں جاتی۔ ناظرین کی ایک بڑی تعداد نے اس سوپ کو بہت پسند کیا اور روز بروز اس کی پسندیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اپنے نئے پروجیکٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کئی پراجیکٹ نگاہ میں ہیں، جن پر زور و شور سے کام ہورہا ہے اور میرا یہ سوپ قابلِ ذکر ہے۔

قارئین گرامی اس سوپ کو تحریر کیا ہے زوہا حسن نے جبکہ ہدایت شاہد عزیز کی ہیں۔ اس کے فنکاروں میں الماس فدائی، ذوالقرنین حیدر، ثناءبٹ، شہزاد رضا، کنیز زینب، انیتا کنفر، عمران بخاری، علی انجم، اسد محمود، درِشہوار، خرم عادی، عائشہ صنم خان، نایاب خان، آصف شہزاد ملک، عاقب خان، عمارہ سعید اور اسلم شیخ قابلِ ذکر ہیں۔ سوپ ”کٹو“ ہر بدھ اور جمعرات کی رات 7 بجےاے آروائی ڈیجیٹل سے دکھایا جائے گا۔

سوپ ”درد کا رشتہ“ میں سبین نامی ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو اپنی سوتیلی ماں اور بہنوں کے ساتھ رہتی ہے، اس کی بہنیں خوب صورت اور فیشن ایبل ہیں، سوتیلی ماں بھی تیز و طرار قسم کی عورت ہے جبکہ سبین کا باپ احمدعلی سیدھا سادہ اور نیک فطرت انسان ہے۔ احمدعلی کی پہلی بیوی کے فوت ہونے کے بعد احمدعلی کی ماں نے اپنی بھانجی رابعہ سے احمدعلی کی شادی کروادی ہے۔ رابعہ ایک چالاک اور چاپلوس قسم کی عورت تھی، رابعہ کی بیٹیاں اسمارٹ اور خوب صورت تھیں جبکہ سبین سانولی سلونی سی لڑکی تھی اور اس نے انٹر تک تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کی سوتیلی بہنیں ملیحہ اور مدیحہ کا سلوک سبین سے بہت خراب تھا۔ سبین کو مطالعے کا بہت شوق تھا، رابعہ کا رشتہ آتا ہے مگر لڑکے والے سبین کو پسند کرلیتے ہیں اور وہ سبین کی شادی اپنے بیٹے سے کرنا چاہتے ہیں جبکہ رابعہ کو انہوں نے پسند نہیں کیا جبکہ وہ پہلے ہی اپنی سوتیلی ماں، سوتیلی بہنوں کے عتاب میں ہے، بس یہاں سے سبین کی زندگی مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے اور سبین پر کیا کیا مشکلات آتی ہیں جو بہت طویل ہیں اور وہ سوپ ”درد کا رشتہ“ دیکھنے کے بعد ہی نظر آئیں گی۔

سینئر آرٹسٹ حمیرا ظہیر کسی تعارف کی محتاج نہیں، انہوں نے ایک ملاقات میں بتایا کہ بالکل گھریلو قسم کی کہانی ہے، ویسے تو میں نے بے شمار ٹی وی ڈراموں میں کام کیا مگر اس سوپ میں کام کرکے نیا پن محسوس ہوا۔
ذہین طاہرہ سینئر آرٹسٹ ہیں، انہوں نے بتایا کہ اس میں ہمارے دو سینئر اداکار تھے، حمیرا ظہیر اور عثمان پیر زادہ کے ساتھ اس سوپ میں کام کرکے بہت اچھا لگا کہ جہاں حمیرا ظہیر اور عثمان پیر زادہ سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں، وہیں پی ٹی وی کا زمانہ بھی یاد آگیا کہ سب فیملی کی طرح کام کرتے تھے۔

نزہت سمن نے اتنی خوب صورت اسٹوری لکھی ہے جس کے لئے وہ مبارک باد کی مستحق ہیں اور حمیرا ظہیر بھی نزہت سمن کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بولیں کہ نزہت سمن بہت پرانی لکھاری ہیں، جو بہت خوب لکھتی ہیں۔

گزشتہ دنوں مصنف نزہت سمناے آروائی ڈیجیٹل آئی تھیں تو راقم کی ان سے ملاقات ہوئی، انہوں نے ڈیجیٹل سے آن ائر ہونے والے سوپ ”دہلیز“ کے بارے میں بتایا کہ اس سوپ کو شائقین ٹی وی ڈرامہ نے بہت پسند کیا، یہ میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نزہت سمن نے بتایا کہ بے شمار سوپ اور سیریل تحریر کئے اور اس مالک کا احسان ہے کہ ہر جگہ داد سمیٹی۔

اے آروائی ڈیجیٹل سے آن ائر ہونے والے ڈرامے بہت پسند کئے گئے، جن میں ”محمود آباد کی ملکائیں، مریم کیسے جئے گی، بندھن اور دل برباد“ قابلِ ذکر ہیں۔ سوپ ”درد کے رشتے“ کو تحریر کیا ہے سہیل یونس نے جبکہ اسٹوری لکھی ہے نزہت سمن نے اور ہدایت ناصر ولی کی ہیں۔ ڈرامے کے فنکاروں میں مشل ممتاز، روحیل پیر زادہ، عثمان پیر زادہ، علی حسن، حمیرا ظہیر، نازلی نثار، ذہین طاہرہ، فوزیہ مشتاق، ایمان بٹ، ایم سلیم اور حفصہ بٹ قابل ذکر ہیں۔ سوپ ”درد کا رشتہ“ پیر سے جمعرات تک رات 10 بجے دکھایا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email