پانچویں نسل کی جنگ اور میڈیا

پاکستان کی مغربی سرحد جسےڈیورنڈ لائن کے نام سے جانا جاتا ہے تقریباً سو سال سے زائد افغانستان کی مختلف حکومتوں کی جانب سے اس کے وجود سے روگردانی کی جاتی رہی ہے۔ حتٰی کہ گزشتہ سال افغانستان کے سابق صدر حامد کرزائی کی جانب سے بھی بیان سامنے آیا کہ افغانستان کبھی بھی ڈیورنڈ لائن کو دو ملکوں کے مابین بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کرے گا۔ تاہم گزشتہ سالوں میں دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تعلقات میں کافی بہتری آئی مگر ڈیورنڈ لائن کے آر پار سیکورٹی کے معاملات کے حوالے سے عدم اعتماد کی فضاء کو بھی تقویت ملتی رہی۔ تقریباً اسی دوران باغی گرہوں کے ظہور اور منشیات کی آزادنہ غیر قانونی تجارت سے اس امر کی غمازی ہوتی ہے کہ دونوں ممالک کے مابین سرحدی معاملات کو اب باقاعدہ طور پر طے کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ یہ مسئلہ مستقبل قریب میں علاقائی امن کے لئے کسی بڑی مصیبت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ پاکستان اور افغانستان کے حکمرانوں کے مابین طے نہیں پایا تھا کہ جس پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں بلکہ یہ 1896ء میں برطانوی راج اور افغانستان کے اس وقت کے امیر کی باہمی وساطت اور مکمل رضامندی سے طے پایا تھا اور اس طرح یہ سرحد پاکستان کو برطانوی راج سے ورثے میں ملی۔ گو کہ تب افغانستان کو ایک خودمختار ریاست کی حیثیت حاصل تھی مگر پھر بھی اس کے سفارتی معاملات اور امور خارجہ برطانوی راج کے زیر دسترس تھے۔


پاک افغان سرحد پرباڑھ -مسائل کا تدارک یا ؟


واضح رہے کہ یہ سرحد پختون قوم پر مشتمل قبائلی علاقوں سے ہوتی ہوئی بلوچستان سے گزرتی ہے اور اس طرح پختون ، بلوچ اور دیگر بہت سے قومیتیں اس سرحد کی وجہ سے دو ملکوں میں منقسم ہوتی ہیں اور جس کو بنیاد بنا کر دشمن ہمیشہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف نسلی کارڈز کھیلتا ہے۔ علاوہ ازیں، دو ہزار چار سو تیس کلو میٹر رقبے پر محیط یہ ڈیورنڈ لائن پاکستان کے شمالی اور مغربی علاقوں ( خیبر پختون خواہ، قبائلی علاقہ جات، گلگت بلتستان اور بلوچستان) کوافغانستان کے شمال مشرقی اور جنوبی صوبوں سے جدا کرتی ہے۔ البتہ جغرافیائی سیاست اور تزویراتی اعتبار سے یہ سرحد دنیا کی سب سے خطرناک ترین سرحد کے طور پر جانی جاتی ہے۔

بلاشبہ دونوں ملکوں کی آپس کی چپقلش سے تیسری قوتیں بھرپورمستفید ہو رہی ہیں۔ جن میں انسرجنٹ گروپس کے علاوہ منشیات کا کاروبار کرنے والے انسانیت دشمن گروہ بھی شامل ہیں۔ یونائیٹد نیشن آفس آف ڈرگ اینڈ کرائم کےمطابق تقریباً 40 فیصد افغانی ہیروئن پاک افغان باڈر کے راستے باہر جاتی ہے۔ اور ایک رائے کے مطابق اسی سے حاصل ہونے والے آمدن سے دشمن قوتوں نے گزشتہ ڈیرھ دہائی سے پاکستان میں دہشت و شرپسندی کا بازار گرم کر رکھا ہےنیز اسی پیسے سے پاکستان مخالف انتشار پھیلانے والی نام نہاد تحریکوں کی بھی فنڈنگ ہوتی ہے۔

یہ ڈرگ سمگلر اور انسرجنٹ گروپس پاک افغان سرحد کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے صرف اس لئے استعمال کر رہے ہیں کیونکہ ڈیورنڈ لائن تاحال افغانستان کی جانب سے بطور بین الاقوامی سرحد اعتراف یافتہ نہیں ہے۔ جس سے باڈر مینجمنٹ اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے دو طرفہ اہمیت کے حامل معاملات کو بھی قوی زک پہنچتی ہے۔ ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ یہ دونوں قوتیں( ڈرگ سمگلرزاور انسرجنٹ گروپس) پاکستان اور افغانستان کے مابین ناسازگار حالات کو ہوا دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ اس سے ان کے معاشی واسٹریٹجک مفادات کو خاصا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

اس لئے یہ گمان کیا جاتا ہے کہ اگرافغانستان ڈیورنڈ لائن کو بطور ایک بین الاقوامی باڈر تسلیم کر لیتا ہے توباڈرمینجمنٹ کے اقدامات میں بہت بہتری آئے گی جس سے ان انتشار پسند جرائم پیشہ افراد کا چھپ چھپا کر غیر قانونی طریقوں سے سرحد کے دونوں جانب نقل و حمل کا مکمل تدارک ممکن ہو سکے گا۔ مگر بدقسمتی سے فی الحال زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس معلوم ہوتے ہیں کیونکہ معاملات بہتری کی بجائے خرابی کی طرف گامزن ہیں۔ چونکہ امریکہ اور بھارت نے پاکستان سے بھارت کو براستہ واہگہ ا فغانستان تک رسائی دینے کا مشترکہ مطالبہ کیا ہے اور افغان صدر اشرف غنی نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر بھارت کو پاکستان نے افغانستان تک رسائی نہ دی تو وہ جواباً پاکستان کا وسط ایشیائی ریاستوں(سنٹرل ایشیائی ریبلکس) سے رابطہ کاٹ دیں گے۔

واضح رہے کہ یہ دھمکی ایک ایسے انسان کی ہے کہ جس کا کنٹرول کابل پر بھی نہیں۔ مگر بلاشبہ بھارت اور افغانستان کی پیار کی پینگیں دن بدن اونچی ہوتی جا رہی ہیں اور بھارت نے پہلی بار چاہ بہار ایران کے راستے 11 لاکھ ٹن گندم افغانستان بھیجی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت افغانستان اور پاکستان کو ابدی طور پر دور کرنے کے لئے سر توڑ کوششوں میں مگن ہے۔ علاوہ ازیں، وہ نہایت چالاقی سے افغانستان کا تجارتی انحصار پاکستان پر سے ختم کر کے اسے اپنے پاکستان دشمن عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔

سب سے تکلیف دہ امر یہ ہے کہ پاکستان (بالخصوص پاک افغان سرحد کے ملحقہ علاقوں کے) چند زمینی حقائق بہت حساس نوعیت کے حامل ہیں جس کی وجہ سے پاکستان مخالف قوتوں کو دعوت ملتی ہے کہ وہ جلتی پر اور تیل ڈالیں. نیز پاکستان کی کمزوریوں پر بتدریج وار کریں۔ بدقسمتی سے پاکستان بطور ملک، لسانی، سماجی، سیاسی، مذہبی، ثقافتی، نظریاتی اور صوبائی اعتبار سے نہایت متنوع حیثیت کا حامل ہے اس کا معاشرہ کثیرالنسلی اور فرقہ ورانہ بنیادوں ہرمنقسم ہے۔ الغرض ہر فرد کی متعدد مذہبی و سماجی شناختیں ہیں جس کے پیش نظر دشمن قوتوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ ہماری قومی اور ملکی شناخت کو مٹا کر ہمیں نسلی، صوبائی، مذہبی بنیادوں پر اکسا کر اپنے ہی ہم وطنوں کے سامنے لاکر کھڑا کردیں اور اپنے ہی ریاست کے خلاف آواز بلند کرنے پر مجبور کردیں۔


دشمن کا ایک اور وارمگر پرانا ہتھیار


اسی کو پانچویں نسل کی جنگ کہتے ہیں جس میں لڑائی روایتی سرحدوں سے ہٹ کر لسانی، سماجی، مذہبی، ثقافتی اور نظریاتی سرحدوں پر لڑی جاتی ہے۔ اس میں دشمن ہدف ملک کے افراد کو اپنے پروپیگنڈے پرمبنی بیانیے کے ذریعے پہلے کنفیوژ کرتا ہے پھر انہیں اپنے ہی ملک کے خلاف باغی بناتا ہے۔ پانچویں نسل کی جنگ کے نتیجے میں ابھرنے والی اس گھمیر صورتحال کے تدارک کے لئے حکومت اور سول سوسائٹی کے علاوہ ملک کے میڈیا کا بھی نہایت کلیدی کردار ہے۔ کیونکہ نظریات کی کشمکش اور بیانیے کی ان جنگوں میں اگر کوئی قومی لبادہ اوڑے یک زبان ہو کر دشمن کے ہاتھوں یرغمال بننے والے ان افراد کے دلوں و دماغوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے تو وہ صرف ملکی میڈیا ہی ہے۔

دور حاضر کے ماڈرن وار فیئر میں میڈیا اوراس کے اثررسوخ کا نمایاں مقام ہے جو’سافٹ پاور’ کہلاتا ہے جس کے تحت منظم انداز میں مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ ہدف معاشرے کے حساس گروپسز کی ذہن سازی( پرسیپشن مینجمنٹ) اور رائے سازی( اوپینین میکنگ) کی جاتی ہے۔ اور اس حوالے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران بالخصوص بعد ازآپریشن ضرب عضب پاکستانی میڈیا کا کردار بلا شبہ ناقابل فراموش ہے۔ مگر ابھی تک ہم مخالف پروپیگنڈہ کی روک تھام ( یعنی کاؤنٹر ہوسٹائل پروپیگنڈہ) میں کافی کمزور سمجھے جاتے ہیں۔ جبکہ ہماری نسبت بھارتی میڈیا پروپیگنڈہ وار فیئر میں کافی تگڑا اور منجھا ہوا کھلاڑی ہے ۔

المختصر،عالمی منظرنامہ یکسر تغیرات کا شکار رہتا ہے جس کے پیش نظر ملکوں کے مفادات میں بھی پیچ و خم آتے ہیں۔ نیز دفاعی و حربی حکمت عملیاں بھی اسی حساب سے طے پاتی ہیں۔ لہٰذا اس بدلتے منظرنامے میں ملکی میڈیا کو بھی گابےبگاہےاعتماد میں لیا جانا چاہیئے تاکہ وہ بھی اس جدید نوعیت کی جنگ میں ریاست کے ساتھ ہمقدم ہو کر چل سکے۔ اور پاکستان سےبلوچ اور پختون کارڈز پرمبنی اس انتشار و خلفشار کا تدارک ممکن بنایا جا سکے جس کی بنیاد خالصتاً بھارتی پروپیگنڈے اور ان کے ترتیب دیئے ہوئے پاکستان مخالف نام نہاد بیانیے پر قائم ہے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

ایمان ملک: ایمان ملک نیشنل ڈیفنس یونی ورسٹی میں ’دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے قومی بیانیے‘ پرتحقیق کررہی ہیں‘ بلاگنگ کرتی ہیں اور شعر کہنے کا شغف رکھتی ہیں