ایک قوم بن کر لڑنے والے پاکستان کی جیت لازم تھی

بلاشبہ جنگ قومیں لڑتی ہیں ، ملک کی افواج صرف حربی محاذ سنبھالتی ہیں، مگر ہماری قوم کا ہر بچہ ہر نوجوان فوجی بن کر پاک بھارت کے اس حالیہ تنازعے میں سامنے آیا ہے اور انہوں نے سماجی میڈیا کے محاذ کو اتنی خوبصورتی سے سنبھالا کہ جو کمی بیشیاں پہلے ہمارے انگریزی میڈیا کی عدم موجودگی کی وجہ سے پائی جاتی تھیں اور جس کی بناء پر پاکستان کا مؤقف اور بیانیہ دنیا تک نہیں پہنچ پاتا تھا، اس بار اس کمی کا مکمل تدارک سماجی میڈیا پر کیا گیا۔ اور ہمیں ‘پاکستان آرمی زندہ باد ‘ ٹویٹر پر دنیا بھر کے ٹاپ ٹرینڈ کے طور پر دکھائی دیا۔ ہر بھارتی پروپیگنڈے کا جواب ہمارے نوجوانوں نے بروقت اور برملا دیا۔ حتیٰ کہ بھارتی حکومت کے جھوٹے دعوؤں اور بے بنیاد نعروں کی قلعی ہمارے چوکس سماجی میڈیا نے کھول کر اقوام عالم کے سامنے رکھ دی جس کی وجہ سے بین الاقوامی شخصیات بھی پاکستان کی صلح و امن پسند رویے کے معترف ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔ اس کے برعکس بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹا ڈرامہ بری طرح ہر محاذ پر پٹ گیا، چاہے وہ سفارتی محاذ ہو یا نفسیاتی، عسکری محاذ ہو یا میڈیا ہو ہر طرف سے بھارت کو ہتک آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

بھارت میں حزب اختلاف ، حکومت ، میڈیا ، بھارتی افواج اور ان کی عوام میں واضح خلیج دکھائی دی اور سب کا قبلہ مختلف تھا۔ اس کے برعکس پاکستان میں سیاسی قائدین، میڈیا، فنکار برادری، نوجوان نسل غر ض پورا پاکستان افواج پاکستان کی پشت پر کھڑا دکھائی دیا جس سے پاکستان دشمنوں کو واضح پیغام گیا کہ دیکھ لو ہم سب ایک ہیں، ہم سے ٹکرانے کی ہمت مت کرنا ورنہ منہ کی کھانی پڑے گی۔ علاوہ ازیں، بھارتی میڈیا کے برعکس پاکستانی میڈیا کا طرزعمل نہایت سنجیدہ اور معقول تھا حتیٰ کہ پاکستانی میڈیا نے دفاعی میدان میں پاکستان کی واضح جیت کے باوجود بڑھکیں نہیں ماریں، للکارا نہیں بھارت کو، جنگ پر اکسایا نہیں اپنی عوام کو بلکہ اپنے ناظرین کو تحمل و برداشت سے اس سارے تنازعے کی کوریج کرتے ہوئے پر امیداور پر امن رکھا ، نیز پاکستانی میڈیا ریاست کے ایک اہم ستون کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ بلاشبہ بھارتی میڈیا کو پاکستانی میڈیا سے سیکھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ بھارتی میڈیا پر ابھی تک جنگی جنون سوار ہے۔ اور وہ مودی سرکار کو پاکستان سے جنگ کے صلاح مشورے دے رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کے بھڑکتے جذبات میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب پاکستان نے بھارت کو باقاعدہ طور پر سرپرائز دیا اور اس کے ڈویژن اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹر اور سپلائی ڈپو پر بم گرائے جس کا بدلہ لینے جب بھارتی سورما پاکستان کی فضاؤں میں داخل ہوئے تو پاکستانی جانبازوں نے ان کے دو طیارے مار گرائے اور بھارتی پائلٹ کو بھی حراست میں لے لیا۔ جسے بعد ازاں، وزیر اعظم پاکستان کے حکم کے مطابق پورے عزت و احترام سے بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔ مگر اسے بھی بھارتی میڈیا نے مودی سرکار کی ڈپلومیسی کی جیت قرار دیا اور وہ مسلسل جنگ کا راگ الاپتا رہا۔

ادھر بین الاقوامی میڈیا نے بھارتی دعوؤں کی تحقیق شروع کی کہ جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت نے بالا کوٹ/ پاکستان میں دہشت گرد کیمپ پر حملہ کیا اور تین سو سے زائد افراد اس حملے میں مارے گئے۔ پوری دنیا کے تمام نیوز چینلز اور نیوز ایجنسیز نے بھارتی دعوؤں کو مسترد کر دیا اور پاکستانی ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور کی بات کی تصدیق کر دی کہ نہ تو پاکستان کا کوئی بھی طیارہ بھارت نے گرایا ہے اور نہ بالا کوٹ میں کوئی بھی جانی و مالی نقصان ہوا ہے بلکہ بھارت جھوٹا واویلا مچا رہا ہے۔

اس سارے ڈرامے سے بھارت کو قوی نقصان پہنچا ہے اسے عسکری، سفارتی، الغرض انفارمیشن وار فیئر میں بھی منہ کی کھانا پڑی ہے کیونکہ پاکستان نے اس کی توقع سے بڑھ کر تدبر اور منصوبہ بندی سے کام لیا ہے جس کے ذریعے بھارت کو حواس باختہ مات ہوئی۔ بھارت کی اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ بھارتی جنونی میڈیا تو ہے ہی جس نے بھارت کے لئے خود آگے بڑھ بڑھ کر ایک دشمن کر کردار ادا کیا ہے علاوہ ازیں، بھارت کی منقسم شدہ سیاسی قیادت اور نااہل اور غیر تربیت یافتہ افواج قابل ذکر عوامل ہیں جو بھارت کے لئے عالمی سطح پر جنگ ہنسائی کا سبب بنے۔

بھارت کو انفار میشن وار فئیر میں بھی شکست فا ش ہوئی کیونکہ بھارت خود ہائبرڈ وار فئیر کے اس اہم ترین حربے سے ناواقف تھا اوراسے پاک بھارت کے حالیہ تنازعے کے دوران بھارتی عوام اور میڈیا کی مثبت طرز پر ذہن سازی بھی کرنی نہیں آئی ۔ واضح رہے ذہن سازی دودرحاضر کی جدید جنگ کا لازمی جزو گردانا جاتا ہے۔ اس کے لئے صرف کھوکھلا پروپیگنڈہ ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اپنی قوم اور میڈیا کو با حوصلہ اور باہمت رکھ کر عالمی سطح پر ملک کے لئے بطور سفارتکار نفسیاتی محاذ کو بھی سنبھالنا ناگزیر ہوتا ہے۔

امریکہ کے سب سے بڑے اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ نے دو روز قبل بھارت کی اس ناگفتہ بہ اور قسم پرسی کی حالت پراسٹوری لکھتے ہوئے مدلل انداز میں بیان کیا ہے کہ بھارت جو کہ اپنے افواج کو چین کی افواج کے مدمقابل لانے کی غرض سے تیار کر رہا ہے مگر اس کی افواج نہایت غیر تربیت یافتہ اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط سے عاری ہیں۔ بھارتی افواج تعداد میں پاکستانی افواج سے دوگنا ہونے کے باوجود پاکستانی افواج سےحالیہ پاک بھارت تنازعے میں بری طرح شکست سے دوچار ہوئی ہیں۔ بھارتی نیوی، ائیر فورس، اور بری فوج آپس میں مل جل کر کام کرنے کے بجائے بجٹ کی منصفانہ تقسیم کے لئے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگیں رہتی ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی اسٹوری میں لکھا ہے کہ بھارتی افواج کی پاکستانی افواج کے مقابلے میں حالیہ کارکردگی پوری دنیا کے لئے مایوس کن اور حیران کن ثابت ہوئی ہے۔ الغرض، نیویارک ٹائمز کی اسٹوری نے بھارت کو آئینہ دکھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

عرصہ دراز سے بھارتی افواج کے سپاہیوں کی سماجی میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہوتی چلی آرہی ہیں جس میں وہ سہولیات کی عدم دستیابی، غیر معیاری کھانے پینے کی اشیاء اور بعد ازاں قلت اور اپنے افسران بالا کے غیر مناست اور ہتک آمیز رویے سے نالاں دکھائی دیتے نظر آتے ہیں۔ ابھی تو ان کا کوئی احتجاج بھی چل رہا ہے۔ بہر حال، بھارتی فوج کے اس عسکری پیشہ ورانہ نظم و ضبط کے منافی رویے کے پس پردہ متعدد محرکات کار فرما نظر آتے ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے جو قومیت ہمیشہ لڑنے کے لئے ہراول دستے میں شامل ہوتی ہے وہ ہے سکھ قوم، جسے پاکستان نے پہلے ہی ‘کرتارپور راہداری’ کھول کر رام کر لیا ہے اور رہی کہی کسر پاک بھارت حالیہ تنازعے میں بھارتی حکام کے رویے نے پوری کر دی جب ڈیڑھ لاکھ سے زائد بھارتی سکھ فوجیوں کو عدم اعتماد کی بناء پر لائن آف کنٹرول سے ہٹا کر نیپال اور چین کی سرحدوں پر تعینات کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں، ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک بھی بھارتی افواج میں نمایاں ہے جہاں نچلی ذات کے ہندو فوجیوں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ روا رکھا جاتا ہے اس لئے ان کے افسران اور جوان آپس میں گھلنے ملنے کی بجائے آپس میں ایک دوسرے کے لئے بیر پالتے رہتے ہیں۔ ان کا کوئی بھی جوان اپنے افسر کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈالنے کو قطعاً تیار نہیں ہے۔

مزید براں، میرٹ کے سنہری اصولوں سے عاری بھارتی افواج تمام جنگی و عسکری ساز و سامان باہر سے درآمد کرتی ہیں اس کے برعکس پاکستان ٹینکس سے لے کر طیاروں تک بیشتر سامان نہ صرف خود تیار کرتا ہے بلکہ اسے بر آمد کر کے ملک کے ذرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا موجب بھی بنتا ہے۔

سونے پر سہاگہ، ہیرو ہیرو کی رٹ لگانے والا بھارتی میڈیا اپنے پائلٹ ابھینندن کی رہائی کے بعد اس کے ساتھ ہونے والے غیر معیاری سلوک پر چپ سادھے بیٹھے رہا، حتیٰ کہ آج بھارتی ائیر چیف نے اسے ذہنی مسائل کی شکایات کی بناء پر بھارتی ائیر فورس سے ڈسچارج کرنے کا فیصلہ بھی سنا دیا ہے۔ بھارت کے ابھی نندن کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس سلوک سے بھی ان کی افواج کے مورال پر برے اثرات یقیناً مرتب ہوئے ہونگے کیونکہ ابھی نندن کے دیگر کورس میٹس اور یونٹ میٹس تو اس کی حب الوطنی سے متعلق واقف ہوں گے جس کی بناء پر وہ حکام بالا کے احکامات کے عین مطابق طیارہ لے کر پاکستان تک میں گھس آیا تھا۔

اسے پاکستان سے پورا عزت و احترام ملا ،جس کا وہ اپنے عہدے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق استحقاق رکھتا تھا مگر بھارت نے اپنے ہی ہیرو کے استحقاق کو دنیا بھر کے سامنے مجروح کیا نیز اس کی بھارتی وزیر دفاع سے ملاقات کی ہتک آمیز تصاویر نشر کر کے اس کی جگ ہنسائی بھی کرائی جس سے دیگر بھارتی ائیر فورس کے پائلٹس کے جذبات ضرور مجروح ہوئے ہونگے ۔ بہر کیف پاکستان نے بھارتی پائلٹ کو پورا پروٹوکول دے کر اور اس کا پاکستانی افواج سے متعلق ویڈیو بیان نشر کر کے بھارت کو اس محاذ پر بھی نفسیاتی شکست دی ہے۔

اب پوری دنیا اوربالخصوص تمام بھارتی قیادت یہ تسلیم کر چکی ہے کہ بھارت اس حالیہ تنازعے میں پاکستان کو رتی بھر بھی نقصان نہیں پہنچا پایا بلکہ الٹا اس کی خطے میں جھوٹی چودراہٹ کے نام نہاد دعوؤں کی بھی ہنڈیا بیچ چورراہے میں پھوٹ گئی ہے۔ اور قوی امید ہے کہ اب بھارت کے آئے روز پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کے نعروں کا بھی انسداد ہو جائے گا۔ نیز اس سے دیگر عالمی طاقتوں کو بھی واضح پیغام گیا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اگر کسی نے اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جسارت بھی کی تو اس کا ٹاکرا پاکستان کی جانب سے صرف اس کی افواج ہی سے نہیں بلکہ بائیس کروڑ عوام سے ہوگا۔

اب صرف پاکستان کو کرنا یہ ہے کہ وہ اپنی معیشت پر توجہ دے اور اس کی بہتری کے لئے بھرپور اقدامات لے کیونکہ دنیا میں عزت صرف اسی کی ہوتی ہے جس کی جیب بھری ہوئی ہو۔ اس لئے پاکستان کو چاہیئے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرے کہ ملک کو انددرنی چوروں اور لٹیروں سے محفوظ رکھے کیونکہ پاکستان کی سالمیت کو بڑا خطرہ انہی گھر کے بھیدیوں سے ہیں جو پہلے بھی پاکستان کو ناقابل فراموش نقصان پہنچا چکے ہیں۔ عوام سے صرف اتنی سی اپیل ہے کہ تھوڑا صبر و تحمل سے کام لیں مہنگائی ہے اس میں کوئی شک نہیں مگر مشکل ترین یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ پاکستان نے بڑی ہمت کر کے بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی آشیر باد یافتہ موروثی سیاست سے اپنے ملک کی جان چھڑوائی ہے اگر آج بھی وہی ایوان اقتدار میں بیٹھے ہوتے تو آپ کے سامنے نتائج یکسر مختلف ہوتے اس بارے میں سوچیے گا ضرور۔

ایمان ملک: ایمان ملک نیشنل ڈیفنس یونی ورسٹی میں ’دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے قومی بیانیے‘ پرتحقیق کررہی ہیں‘ بلاگنگ کرتی ہیں اور شعر کہنے کا شغف رکھتی ہیں