The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

برداشت سے عاری معاشرے کا دکھ

میری الجھنوں کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ مجھ ایسے سوچتے رہنے والے کا علم محدود ہے۔ شاید میرے ارد گرد بسنے والے مجھے سمجھا نہیں پائے یا پھر میں ہی سمجھ نہیں پایا۔ مجھے لگتا ہے ایک عرصہ سے ہم تحقیق ، مکالمہ ، برداشت اور مطالعہ چھوڑ بیٹھے ہیں۔ خود میں مسلسل لکھتا جاتا ہوں کیونکہ مجھے اپنی تحریر کچھ لمحوں بعد انتہائی ناقص اور غیر معیاری لگنے لگتی ہے ۔ زندگی کی ایک اچھی تحریر لکھنے کے لیے مجھے سیںکڑوں تحریر لکھنی پڑ رہی ہیں ، بالکل ویسے ہی جیسے ایک محبت کے لیے مجھے درجنوں رویے برداشت کرنے پڑے۔

مجھے لگتا ہے کہ ہم نے صرف دنیاوی ہی نہیں بلکہ مذہبی علوم میں بھی اس پائے کی تحقیق کو فروغ نہیں دیا جو کہ وقت کی ضرورت تھا۔ ہمارے سیاسی ، سماجی اور مذہبی بیانیوں میں ابہام در آیا ہے اوراس کے ذمہ دار مجموعی طور پرہمارے راہنما اور دانشور ہی ہیں۔

میں نے جب قرآن حافظ کیا تب میرا یہی اختلاف تھا کہ ملک میں کوئی ایک ریسرچ سینٹر ایسا نہیں ملا جہاں زمانہ جدید کے مطابق احکاماتِ الہی کے نئے مفاہیم کو تلاش کیا جائے۔ میں نے اور مجھ جیسے لاکھوں نوجوانوں نے اگر قرآن اپنے سینے میں اتاربھی لیا تو دورِجدید میں اس کی کیا اہمیت ہو گی جب ایک لنک،ایک یو ایس بی یا ایک سی ڈی میں قرآن محفوظ کیا جاتا ہے، زمانہ قدیم میں البتہ حفاظ کی بدولت ہی یہ عظیم سرمایہ ہم تک پہنچا لیکن دور جدید میں شاید ذمہ داری اس سے آگے کی بنتی ہے۔

سیاسی نظریات اب کم از کم ہمارے ملک میں نہیں رہے۔ کیپیٹل ازم، سوشل ازم وغیرہ کی بحث مر چکی ہے۔ دائیں اوربائیں بازو کی لڑائی ختم ہو چکی۔ اب تو جہاں دیکھیں شخصیت پرستی کی سیاست ملتی ہے، چند خاندانوں کی حکومت ہمارا مقدرہو چکی۔ صحافت سے نظریہ ختم ہو چکا اور تعلیم سے مشن اٹھ چکا اور ہم ایسے درمیان میں کہیں کسی کھائی میں گرچکے ہیں۔

ہم میں سے بہت سوں کا تو آج تک یہی کانسیپٹ کلیئرنہیں ہو سکا کہ راشد منہاس اوران کے استاد میں سے اصل شہید کون تھا ؟ دونوں مسلمان تھے، دونوں نے اپنے اپنے وطن کے لیے جدوجہد کی ، دونوں کو نشان حیدر دیا گیا اور دونوں ایک ہی لڑائی میں فوت ہوئے ، دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل تھے۔ اگر جاسوسوں کو شہادت کے دائرے سے باہر نکال دیں تو میرے وطن کے اصل محافظوں کی شہادتوں پر سوال اٹھے گا جو مجھے پسند نہیں۔

کیا صرف وطن کے لیے جان دینا ہی شہادت ہے تو پھر شام اور سعودی جنگ میں لقمہ اجل بننے والے مسلمانوں کا کیا کروں ؟ افغان وار میں مدمقابل ہمارے جہادی اور شمالی اتحاد کے مسلم جنگجوؤں کا فیصلہ کیسے ہو ؟ یہ نہیں کہ اس پر کوئی تحقیق نہیں ہوئی ہو گی ، میرا گمان ہے کہ علمائے حق نے کہیں وضاحت ضرور کی ہو گی لیکن یہ ہماری بدنصیبی ہے کہ یہ وضاحت ہم ایسوں تک نہیں پہنچ پائی۔

میرا تعلق مڈل کلاس سے ہے، آپ فٹ پاتھیا بھی کہہ سکتے ہیں۔ مجھے یہ تھوڑی بہت طاقت اوردولت اس لئے بھی کمانی پڑی کہ ایک حادثے نے مجھ پر عیاں کیا کہ ہم نے، جی ہاں ! ہم سب نے ریاست کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب یہ سب نہ کمائیں تو کچلے جائیں گے۔

سوال یہ نہیں کہ مجبوراً ہی سہی مجھ ایسوں کو یہ جدوجہد کرنی پڑی ، سوال یہ ہے کہ اس کے باوجود احساس، تحقیق، مکالمہ، رواداری، برداشت، آزادی رائے اور نظریات سے عاری معاشرے میں ہم ایسے خوش کیوں نہیں ہیں ؟ خیال آتا ہے کہ یونہی روز ایک ہی طرح کی روکھی پھیکی زندگی گزار دینے سے تو بہتر ہے کہ کسی اگلی منزل کی جانب سفر کا آغاز کیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں