The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

برداشت سے عاری معاشرے کا دکھ

میری الجھنوں کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ مجھ ایسے سوچتے رہنے والے کا علم محدود ہے۔ شاید میرے ارد گرد بسنے والے مجھے سمجھا نہیں پائے یا پھر میں ہی سمجھ نہیں پایا۔ مجھے لگتا ہے ایک عرصہ سے ہم تحقیق ، مکالمہ ، برداشت اور مطالعہ چھوڑ بیٹھے ہیں۔ خود میں مسلسل لکھتا جاتا ہوں کیونکہ مجھے اپنی تحریر کچھ لمحوں بعد انتہائی ناقص اور غیر معیاری لگنے لگتی ہے ۔ زندگی کی ایک اچھی تحریر لکھنے کے لیے مجھے سیںکڑوں تحریر لکھنی پڑ رہی ہیں ، بالکل ویسے ہی جیسے ایک محبت کے لیے مجھے درجنوں رویے برداشت کرنے پڑے۔

مجھے لگتا ہے کہ ہم نے صرف دنیاوی ہی نہیں بلکہ مذہبی علوم میں بھی اس پائے کی تحقیق کو فروغ نہیں دیا جو کہ وقت کی ضرورت تھا۔ ہمارے سیاسی ، سماجی اور مذہبی بیانیوں میں ابہام در آیا ہے اوراس کے ذمہ دار مجموعی طور پرہمارے راہنما اور دانشور ہی ہیں۔

میں نے جب قرآن حافظ کیا تب میرا یہی اختلاف تھا کہ ملک میں کوئی ایک ریسرچ سینٹر ایسا نہیں ملا جہاں زمانہ جدید کے مطابق احکاماتِ الہی کے نئے مفاہیم کو تلاش کیا جائے۔ میں نے اور مجھ جیسے لاکھوں نوجوانوں نے اگر قرآن اپنے سینے میں اتاربھی لیا تو دورِجدید میں اس کی کیا اہمیت ہو گی جب ایک لنک،ایک یو ایس بی یا ایک سی ڈی میں قرآن محفوظ کیا جاتا ہے، زمانہ قدیم میں البتہ حفاظ کی بدولت ہی یہ عظیم سرمایہ ہم تک پہنچا لیکن دور جدید میں شاید ذمہ داری اس سے آگے کی بنتی ہے۔

سیاسی نظریات اب کم از کم ہمارے ملک میں نہیں رہے۔ کیپیٹل ازم، سوشل ازم وغیرہ کی بحث مر چکی ہے۔ دائیں اوربائیں بازو کی لڑائی ختم ہو چکی۔ اب تو جہاں دیکھیں شخصیت پرستی کی سیاست ملتی ہے، چند خاندانوں کی حکومت ہمارا مقدرہو چکی۔ صحافت سے نظریہ ختم ہو چکا اور تعلیم سے مشن اٹھ چکا اور ہم ایسے درمیان میں کہیں کسی کھائی میں گرچکے ہیں۔

ہم میں سے بہت سوں کا تو آج تک یہی کانسیپٹ کلیئرنہیں ہو سکا کہ راشد منہاس اوران کے استاد میں سے اصل شہید کون تھا ؟ دونوں مسلمان تھے، دونوں نے اپنے اپنے وطن کے لیے جدوجہد کی ، دونوں کو نشان حیدر دیا گیا اور دونوں ایک ہی لڑائی میں فوت ہوئے ، دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل تھے۔ اگر جاسوسوں کو شہادت کے دائرے سے باہر نکال دیں تو میرے وطن کے اصل محافظوں کی شہادتوں پر سوال اٹھے گا جو مجھے پسند نہیں۔

کیا صرف وطن کے لیے جان دینا ہی شہادت ہے تو پھر شام اور سعودی جنگ میں لقمہ اجل بننے والے مسلمانوں کا کیا کروں ؟ افغان وار میں مدمقابل ہمارے جہادی اور شمالی اتحاد کے مسلم جنگجوؤں کا فیصلہ کیسے ہو ؟ یہ نہیں کہ اس پر کوئی تحقیق نہیں ہوئی ہو گی ، میرا گمان ہے کہ علمائے حق نے کہیں وضاحت ضرور کی ہو گی لیکن یہ ہماری بدنصیبی ہے کہ یہ وضاحت ہم ایسوں تک نہیں پہنچ پائی۔

میرا تعلق مڈل کلاس سے ہے، آپ فٹ پاتھیا بھی کہہ سکتے ہیں۔ مجھے یہ تھوڑی بہت طاقت اوردولت اس لئے بھی کمانی پڑی کہ ایک حادثے نے مجھ پر عیاں کیا کہ ہم نے، جی ہاں ! ہم سب نے ریاست کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب یہ سب نہ کمائیں تو کچلے جائیں گے۔

سوال یہ نہیں کہ مجبوراً ہی سہی مجھ ایسوں کو یہ جدوجہد کرنی پڑی ، سوال یہ ہے کہ اس کے باوجود احساس، تحقیق، مکالمہ، رواداری، برداشت، آزادی رائے اور نظریات سے عاری معاشرے میں ہم ایسے خوش کیوں نہیں ہیں ؟ خیال آتا ہے کہ یونہی روز ایک ہی طرح کی روکھی پھیکی زندگی گزار دینے سے تو بہتر ہے کہ کسی اگلی منزل کی جانب سفر کا آغاز کیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email