The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

کراچی آپریشن: پولیس کے پلے کچھ بھی نہیں

کراچی میں دہشتگردی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جس میں شدت پسند تنظیموں کی دہشتگردی، جرائم پیشہ گینگز کی لڑائیاں اورسیاسی جماعتوں میں شامل عسکری ونگز کی کاروائیاں شامل ہیں۔ جرائم کی بیخ کنی کیلئے دسمبر 2013سے جاری آپریشن میں پولیس اوررینجرزکی کاروائیوں کا اگرجائزہ لیا جائے تو پولیس نے روٹین پولیسنگ سے زیادہ بڑھ کر کچھ نہیں کیا کراچی کو درپیش مسائل دہشتگردی،اغواء برائے تاوان اوربھتہ خوری کے خاتمے کے حوالے سے پولیس کے دعووں کی اگرگہرائی میں جائیں تو یہ بات معلوم ہوتی ہے رینجرزاوردیگر حساس اداروں کی کاروائیوں میں گرفتاراہم ملزمان کی میڈیا میں گرفتاری ظاہرکرنے سے زیادہ پولیس کچھ نہیں کررہی۔

پولیس کا کام عوام کی جان و مال کا تحفظ اورامن کے قیام کے علاوہ واقعات کی تفتیش ہونا چاہئے تھا لیکن کراچی میں اسٹریٹ کرائمز اورڈکیتیوں کی روک تھام میں پولیس ناکام رہی ہے، اغواء برائے تاوان اور زمینوں پر قبضے روکنا توکجا پولیس خود ایسے جرائم میں ملوث پائی گئی (رینجرز نے ڈسٹرکٹ ایسٹ کے علاقے شارع فیصل سے اغواء برائے تاوان میں ملوث پولیس اہلکاروں کا گینگ بھی پکڑا) تفتیش کے شعبے میں بھی پولیس کا معاملہ صفر ہے اہم کیسزمیں مقدمہ درج کرنے اورشواہد اکھٹے کرنے سے زیادہ پولیس کوئی پیشرفت نہیں کرپاتی مثلاحالیہ ہائی پروفائل کیسز کی بات کی جائے تو ایس ایچ او اعجازخواجہ، سماجی کارکن سبین محمود کے قتل اورامریکی ڈاکٹرڈیبرالوبو پرحملے کی تحقیقات میں پولیس کوئی پیشرفت نہیں کرسکی۔

پولیس ہیڈ آفس کی ایک تقریب میں ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادرتھیبو نے میڈیا کے نمائندوں سے غیررسمی گفتگو کے دوران شکوہ کیا کہ میڈیا میں ہونے والی غیرمحتاط رپورٹنگ سے عالمی سطح پر کراچی کا نام بدنام ہورہا ہے مگراس معاملہ پربحیثیت صحافی میری رائے یہ ہے کہ پولیس کا جرائم میں ملوث ہونے یا جرائم کی سرپرستی کی وجہ سے کراچی عالمی سطح پر زیادہ بدنام ہورہا ہے میڈیا سے زیادہ پولیس کو اصلاح کی ضرورت ہے۔

اسی تقریب میں جب آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اوردیگرجرائم کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا جس پرایک صحافی نے سوال کیا کہ اگرشہر میں امن قائم ہوگیا ہے تو کیا رینجرزکو کراچی سے واپس بھیج دیا جائے؟ اس سوال کا جواب آئی جی صاحب گول کرگئے۔

کراچی میں جاری آپریشن کی بعض پہلوں پربحث بھی ہوسکتی ہے لیکن اب تک جاری رہنے والے آپریشن میں سے اگر رینجرزکی کاروائیوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو پولیس کے کھاتے میں کچھ بھی نہیں ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں