The news is by your side.
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

پولیس میں رشوت ستانی کی پہلی اینٹ

پہلے مجھے خوشگوارحیرت ہوتی تھی جب لوگ میڈیا سے بہت زیادہ امید رکھتے تھے اور اس خوش فہمی میں اتنا آگے نکل جاتے تھے کہ اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کیلئے میڈیا ہاوسز کے چکر لگاتے اور بعض معاملات میں انہیں ہم صحافیوں کی بدولت انصاف مل جاتا یا ان کی آواز ہم متعلقہ اداروں یا افراد تک پہنچا پاتے تھے شاید یہی وجہ ہے کہ اب لوگ میڈیا سے بہت زیادہ امید یں لگا بیٹھے ہیں لیکن بے بسی کے ساتھ اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ آج میڈیا کی ترجیحات میں بڑے ملکی اوربین الاقوامی مسائل اوران سے متعلق خبریں ہیں۔ عام آدمی کے مسائل اوراس سے منسلک خبروں کو وقت اورجگہ ہی نہیں مل پاتی لیکن پھربھی لوگ میڈیا کوامید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ وہ پانچوں بھی اپنا سب سے بڑا مسئلہ لے کرمیرے دفترپہنچے۔

پانچوں نوجوانوں میں ہرایک اپنے اپنے ضبط کے مطابق چہرے پر تاثرات لئے ہوئے تھا پولیس کی سخت ٹریننگ،مستقبل کے حوالے سے بے یقینی اور بے پناہ معاشی مسائل کے باعث ان نوجوانوں کے چہرے کی رونق اورآنکھوں کی چمک ماند پڑچکی تھی نم آنکھوں کے ساتھ ان میں سے ایک نے بتایا کہ سال 2014 کے اوائل میں پولیس میں بھرتی ہونے والے 2200 سے زائد نئے ہلکاروں کو 10ماہ ہوگئے ہیں لیکن انہیں آج تک تنخواہ نہیں مل سکی، سعید آباد ٹریننگ سینٹرمیں اپنی ابتدائی تربیت کا عرصہ مکمل کرچکے ہیں اوراس وقت رزاق آباد ٹریننگ سینٹر میں کمانڈو کورس کررہے ہیں جبکہ اس دوران ٹریننگ سینٹراورگھریلو اخراجات جس طرح انہوں نے پورے کئے وہی جانتے ہیں۔ دوست احباب اور رشتے داروں سے قرض لینا پڑگیا اوراب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ رشتے داروں نے قرض دینے سے بھی انکارکردیا ہے۔

ایک شادی شدہ اہلکار جس کے تین بچے ہیں نے بتایا کہ گھرمیں نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے اسکولوں میں زیر تعلیم اس کے بچوں کے نام اسکول سے خاج کرنے کے نوٹس مل رہے ہیں بچوں کو ٹیوشن بھیجنا بند کردیا ہے اہلکاروں نے بتایا کہ تنخواہ کے حوالے سے انہوں نے متعلقہ زون، متعلقہ ڈی آئی جیز سمیت آئی جی سندھ سے بھی رابطہ کیا لیکن تمام ترکوششیں بے سود ثابت ہوئیں اس ضمن میں آئی آئی چند ریگرروڈ پر واقع سینٹرل پولیس آفس کے سامنے مظاہرہ بھی کیا لیکن وہ بھی رائیگاں گیا۔ کئی مرتبہ اعلیٰ حکام نے انہیں تنخواہ کی ادائیگی کا یقین دلایا لیکن عملی طور پر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے جس سے وہ اذیت میں مبتلا ہیں۔

مجھے اپنی کہانی سناتے ان اہلکاروں میں ایک سخت جسامت والے نوجوان نے جذباتی انداز میں کہا کہ سرمجھے تو کوئی قرض نہیں دے رہا میں پولیس چھوڑدوں گا، میں نے سوال کیا کہ تم ایک ٹرینڈ پولیس اہلکارہو پولیس چھوڑ کر کیا کرو گے؟ کہنے لگا کچھ بھی کرلوں گا کچھ بھی جائزنہیں تو ناجائز ہمارے ساتھ بھی تو ہمارا محکمہ اتنے عرصے سے انصاف نہیں کررہا جب ہم ٹریننگ پرتھے تو آوٹ ڈیوٹی لگاتے، حساس علاقوں میں پولیو مہم کے دوران ڈیوٹیاں کراتے، جلسے جلوسوں کی سیکورٹی میں بھی ہم کھڑے ہوتے لیکن تنخواہ کا ٹائم آیا ہے تو کوئی بھی پوچھنے والا نہیں۔ جذباتی انداز میں ہرحد پارکردینے کے اندازمیں نوجوان اہلکارگویا ہوا ہماری جیب خالی ہے ہم اپنے بوڑھے اور بیمار ماں باپ کے علاج اور دیگر اخراجات پورے نہیں کرسکتے مگر ٹریننگ سینٹر میں ہم سے ہر ماہ 4 سے 5 ہزار روپے میس کٹنگ کے نام پرمانگے جارہے ہیں نوجوان نے فیصلہ کن انداز میں کہا کہ چھوڑ دوں گا پولیس اب اگرتنخواہ نہیں ملی۔

اپنا مسئلہ بتا کراہلکارتو چلے گئے مگرمیں سکتے میں ہوں اگراس جذباتی نوجوان اوراس کے دیگر ساتھیوں نے محکمہ پولیس چھوڑ دیا اورکچھ بھی جائزیاناجائزکرنے کی ٹھان لی تو؟؟؟ اوراگر ان حالات سے گذر کر یہ پولیس اہلکارعملی میدان میں آ بھی گئے تو کیا رشوت نہیں لیں گے؟ کیا عوام کی خدمت اور انصاف کا علم بلند رکھیں گے؟؟۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس میں نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں کو جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی تربیت بھی کی جائے اور اس لئے بھی حکومت اور محکمہ پولیس کو اپنے اہلکاروں کی معاشی مسائل ترجیحی بنیادوں پرحل کرنے چاہئیے کہ وہ بے راہ روی کا شکارنہ ہوں اور مستقبل میں ایسے فرض شناس پولیس اہلکاربن سکیں جنہیں دیکھ کر شہریوں کو تحفظ کا احساس ہو۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں