The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

سندھ میں سیاست زدہ پولیس

مئی 2015 کے اخبارات کی سرخیاں چیخ چیخ کرکہہ رہی ہیں کہ کو رکمانڈرکراچی لیفٹینٹ جنرل نوید مختار بھی یہی سمجھتے ہیں جو سندھ اور بالخصوص کراچی کے شہری سمجھتے ہیں کہ امن کے قیام کیلئے یہاں پولیس اور انتظامیہ کو آزاد ہونے کی ضرورت ہے یہ حقیقت ہے کہ روشنیوں کا شہر عسکری ونگ رکھنے والی سیاسی جماعتوں ،منشیات فروشوں اور شدت پسند تنطیموں کا شہر بن چکا ہے اور ایسے میں اس شہر کی اصل شناخت مٹتی چلی جارہی ہے چونکہ میری صحافتی ذمہ داریوں میں کا اہم موضوع کراچی پولیس ہے اس لئے میں اپنے تبصرے کو مختصر لیکن موثر رکھنے کیلئے پولیس میں سیاسی مداخلت کو زیربحث لاوٗ نگا۔

یہ حقیقت ہے کہ پولیس میں موجود خرابیوں کی سب سے بڑی جڑاس پولیس پر سیاسی دباوٗ ہے جس کے بارے میں جب بھی پولیس افسران سے صحافی سوال کرتے ہیں تو ہمیشہ ان کا جواب نفی میں ہوتا ہے مگرسمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں کے دراصل یہ انکار بھی سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے، اہم تعیناتیوں پرافسران میرٹ پرنہیں لگائے جاتے بلکہ حکمران جماعت کے منظور نظرہونا ہی دراصل یہاں سب سے بڑا میرٹ ہے واضح رہے کہ ایپکس کمیٹی کے تحت اب تک کراچی میں بہت زیادہ بڑے عہدوں پرقابل ذکر تبادلے اور تعیناتیاں نہیں ہوئی جبکہ قومی ایکشن پلان کے آغاز میں یہ سمجھا جارہا تھا کہ اس پلان پر عملدرآمد کیلئے پولیس میں شاید بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی لیکن ایسا نہیں ہوسکا نتیجتاً سیاسی دباؤ میں تشکیل دیئے جانے والا پولیس کا ڈھانچا تاحال قائم ہے اور اگر کراچی اپریشن میں سے رینجرز کی کارکردگی کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو پولیس کے پاس کوئی ایسا قابل ذکر کارنامہ نہیں جس پر وہ ناز کرسکے۔

مجھے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ قیادت سے اپنے اختلافات کے اظہار کیلئے اختیار کئے جانے والے لب ولہجے سمیت بعض معاملات میں مجھے پیپلز پارٹی کے اس سابق وزیرداخلہ سے اختلاف ہے لیکن پولیس میں سیاسی مداخلت کا جائزہ لینے کیلئے ڈاکٹر مرزا کے معاملے کو سامنے رکھ سکتے ہیں جس پر سیاسی قیادت سے اختلاف رکھنے کے بعد بدین سے کراچی تک کتنے کیسز درج ہوئے ہیں تعداد آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی ہی بتا سکتے ہیں بقول فہمیدہ مرزا ان کے شوہر کے خلاف کاٹی جانے والی ایف آئی آرز انڈے بچے دے رہی ہیں۔

آخر میں اندرکی خبر یہ ہے کہ اپریل میں لیاری ککری گراونڈ میں سندھ کی حکمران جماعت کے جلسے میں سندھ پولیس کے ہر طرح کے وسائل کو بے دردی سے استعمال کیا گیا اس روز جلسہ گاہ کے اندر اور باہر جس تعداد میں پولیس تھی اسکی مثال ماضی میں نہیں ملتی، کچھ باخبر صحافی دوست یہاں تک بتاتے ہیں کہ شہداد پور اور سعید آباد پولیس ٹریننگ سینٹرز سے زیر تربیت پولیس اہلکاروں کو سادہ کپڑوں میں جلسے کی زینت بنایا گیا اس سب کی وجہ ایک ہی ہے کہ پولیس سیاست زدہ ہوچکی ہے اور یہ سیاست زدہ پولیس اپنی ترجیحات کھو رہی ہے جس پولیس کا کام شہریوں کے جان مال اور عزت کا تحفظ یقینی بنانا تھا وہ حکمران سیاسی جماعت کے وزراء کی سیکورٹی، سیاسی مخالفین کے خلاف گھیرا تنگ کرنے اوراسی طرح کی دیگرغیرنصابی سرگرمیوں میں مبتلا ہے اورشہریوں میں عدم تحفظ کا احساس جنم لے رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email