The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

ڈگری تو ہے مگر نوکری نہیں

تعلیم کو عام طور پر ایک معاشرتی اچھائی تصور کیا جاتا ہے جبکہ بعض افراد کے نزدیک یہ کئی مسائل کا حل بھی ہے، ہمیں بتایا جاتا ہے کہ تعلیم سماجی تبدیلی کا محرک بن سکتی ہے، اقتصادی ترقی لاسکتی ہے، اور نچلے طبقے سے اونچے طبقے تک جانا ممکن بنا سکتی ہے۔ لیکن افسوس آج کے زمانے میں ہم نے اس کو محض نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔

موجودہ دور میں تعلیم حاصل کرنے کا مقصد محض ملازمتوں کا حصول ہی رہ گیا ہے، اور اس دوڑ میں امتحانی نتائج اور ڈگریاں بہت اہمیت رکھتی ہیں، ایک طرح سے دیکھا جائے تو یہ سخت مقابلہ صرف نام، اچھی تنخواہ، اور مراعات حاصل کرنے کے لیے ہے۔

تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوان اس بات سے بھی با خبر ہوتے ہیں کہ رواں سال سی ایس ایس کے امتحان میں کتنی نشستوں کے لیے کتنے امیدواروں نے امتحان دیا۔کالج کے زمانے میں اپنے پروفیسر کی ایک بات آج تک یاد ہے کہ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے لیکن تعلیم کو  پیسے کمانے کے غرض سے حاصل نہ کرو، پیسے تو جاہل انسان بھی کما لیتا ہے۔

نوے کی دہائی میں کہا جاتا تھا کہ بی کام کی ڈگری والوں کو اچھی نوکری ملتی ہے ، تھورے ہی وقت کے بعد سنا کہ ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے والوں کو پُرکشش تنخواہ کی پیشکش ہوتی ہے، زمانے کی ترقی کے ساتھ جہاں کپیوٹر سسٹم اپ گریڈ ہوا وہیں حصولِ تعلیم کا سسٹم بھی اپ گریڈ ہوا ہے۔

2

آج کا دور بقول ورلڈ بینک ایسے نوجوانوں کا دور ہے جن کی لیبر مارکیٹ میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تقریباَ پوری دنیا کی کل نوجوان آبادی کے ایک چوتھائی حصے کو جو کہ امریکہ کی کل آبادی کے حجم کے برابر ہے کے لئے اس نظام کے پاس دینے کے لئے کوئی کام موجود نہیں ہے، انسانی تاریخ کی اس سے بڑی بدقسمتی کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی کہ آج کا تعلیم یافتہ طبقہ کام کرنے کے لئے تیار ہے لیکن ہمارا نظام اس نوجوان طبقے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے قابل نہیں ہے۔

بیشتر نوجوان تعلیم حاصل کرنے دوران بے پناہ خواب سجا بیٹھتے ہیں لیکن جب وہ ڈگری لے کر نوکری لئے در بہ در گھومتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ بناسفارش تو پیون کی نوکری بھی نہیں ملتی ہے ، سونے پہ سہاگا یہ ہے کہ جہاں سفارش نہیں چلتی وہاں رشوت کام آتی ہے، عموماَ یہ صورتِ حال سرکاری نوکری کے حصول کے وقت پیش آتی ہے ۔

ترقی کی بلندیوں کو چھونے والی اقوام نے تعلیم کو ہی اپنا زینہ بنایا، جن اقوام نے تعلیم کو زیور سمجھا وہ سنورگئیں، جنہوں نے فرض سمجھا وہ حق تلفی جیسے گناہ سے بچ گئیں، جنہوں نے ہتھیار سمجھا وہ جیت گئیں اور جن اقوام نے اس کو ضرورت بنا لیا وہ کبھی ضرورت مند نہ ہوئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کل آبادی کا نصف نوجوانوں پر مشتمل ہے یعنی 15 سے 30 سال کے افراد کی عمر کی تعداد 40 فیصد سے زائد ہے، نوجوانوں کو ملک کا مستقبل تو کہا جاتا ہے تاہم حالات یہ ہیں کہ ملکی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 24 سال کی عمر کے 9 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔

 دوسری جانب عالمی اداروں کے مطابق یہ شرح 16 فیصد ہے، ایسے حالات میں پاکستانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنے معاشرے سے رشتہ ترک کرکے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے یا نوکریاں کرنے کی خواہاں ہے۔

jobs

پاکستان کے نوجوان عمومی طور پر اپنے معاشرے سے نالاں نظر آتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ ان سے پچھلی نسل نے انہیں ایک صحت مند معاشرہ مہیا نہیں کیا جس کے سبب انہیں معاشی اور معاشرتی مسائل کا سامنا ہے۔

چند دن قبل کراچی میں ایک اے سی سی اے  کے طالب علم سے ملاقات ہوئی جوکہ ذاتی طور پر کراچی کے رہن سہن کا دلدادہ تھا لیکن مسائل کے باعث بہتر مستقبل کے لئے بیرون ملک جانے کو ترجیح رکھتا تھا۔

واضح رہے کہ تعلیم کو فروغ دے کر ملک کو غربت، بیروزگاری اور انتہاپسندی جیسے مسائل سے نجات دلائی جاسکتی ہے، فروغ تعلیم کیلئے وسائل کی فراہمی سودمند سرمایہ کاری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں