The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

پاکستانی فلم انڈسٹری کی ترقی میں اے آروائی کا کردار

گزشتہ پندرہ سال سے ہماری فلم انڈسٹری کوئی قابل ذکر فلم نہیں دے سکی، اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ سینئر ہدایت کارجدید ٹیکنالوجی کے تحت فلمیں نہ بنا سکے جس کے باعث نوجوان نسل بھارتی فلموں کے سحر میں گرفتار ہو گئی، لالی ووڈ کی کچھ ہیروئنز تو ایسی تھیں کہ جو مسلسل بیس سال سے اسکرین پرحکمرانی کی کوشش میں لگی رہیں، یہی حال ہیروز کا بھی رہا اور نئے چہروں کو آگے آنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اگر ہمارے ہدایت کار نئے چہرے سامنے لاتے تو فلم انڈسٹری یقیناً ترقی کرتی۔ ہمارے ہدایت کاروں نے بلند و بانگ دعوے تو کئے مگر ہیروز اور ہیروئنز نے اپنے معاوضے کم نہ کئے جس سے ان کی عوامی پذیرائی میں کمی آگئی۔ زبانی جمع خرچ کے ذریعے انڈسٹری کو چلانے کی کوشش کی گئی جس سے وقت کا ضیاع ہوااورپاکستانی فلم انڈسٹری اپنے اختتام کو پہنچی لیکن اب حالات تبدیل ہورہے ہیں۔

اس حوالے سے اے آر وائی فلمز نے جو اقدامات کئے ہیں وہ قابل قدر ہیں، اے آر وائی ڈیجیٹل کے سی ای او سلمان اقبال نے شانداراورکامیاب فلمیں بنا کرشائقین کے دل جیت لئے ہیں۔ جن میں’میں ہوں شاہد آفریدی‘، ’جلیبی‘، ’تین بہادر‘، ’رانگ نمبر‘، ’جوانی پھرنہیں آنی‘، شامل ہیں۔

اس حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں سی ای او سلمان اقبال نے بتایا کہ ہماری فلموں کی کامیابی کا سہرا شائقین کو جاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ فلمیں تو بہت آرہی ہیں مگرفلم ’ہومن جہاں‘ روشن خیالی کی زندہ مثال ہوگی، فلم کے ہدایت کارعاصم رضا، ہیرواورپروڈیوسرشہریارمنورہیں اس فلم کو ویژن فیکٹری فلم یکم جنوری 2016کو  ریلیز کرے گا۔

فلم کا میوزک بھی ریلیز کر دیا گیا ہے، فلم کے گلوکاروں میں زوہیب حسن ، عاطف اسلم ، زیب النسا ء بنگش جمی خان ، ٹینا ثانی  اور دیگرشامل ہیں جبکہ اداکاروں میں ارشد محمود، جمال شاہ، عدیل حسین، ماہرہ خان، بشریٰ انصاری اورحمزہ علی عباسی قابل ذکر ہیں۔

ماہرہ خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ فلم اپنی مثال آپ ہوگی، گلوکارہ ٹینا ثانی کا کہنا تھا کہ ہدایت کا رعاصم رضا بہت اچھے اور سلجھے ہوئے ہدایت کا رہیں۔ اداکارہ بشریٰ انصاری کا کہنا ہے کہ یہ بہت مختلف اورشاندار فلم ہے۔ جمال شاہ نے کہا کہ فلم کے ہدایت کارعاصم رضا بہت باصلاحیت اور منجھے ہوئے انسان ہیں ان کے ساتھ کام کرکے بہت اچھا لگا۔

اے آر وائی فلمز کے شہزاد حسن کہنا ہے کہ فلم ’جوانی پھرنہیں آنی‘ نے فلمی صنعت میں نئی تاریخ رقم کی ہے  اورہم آئندہ بھی شائقین کو اچھی اورسپر ہٹ فلمیں دیں گے، ہمیں ’ہومن جہاں‘ سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں