The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

ویڈیودعوے نہیں‘ ہنگامی بنیادوں پر کام

شنید ہے کہ سندھ کے وزیر کھیل سردار محمد بخش خان مہر نے  صوبہ پنجاب میں اپنے ہم منصب کو پچاس پش اپس کا چیلنج دے ڈالا ہے، انکی اپنی ویڈیو جس میں وہ خودپش اپس کرتے دکھائی دے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر خوب مقبول ہوئی ہے۔ انکے چیلنج کا جواب وفاقی وزیر برائے پانی اور بجلی عابد شیر نے ۱۰۰ کلوگرام وزن اٹھانے کا چییلنج دے کر دیا۔

ایسی باتیں اور چیلنجز وہاں اچھے لگتے ہیں جہاں مسائل کا انبار نہ ہو لیکن جس صوبائی دارالحکومت کے پارک اور ہسپتالوں کے اطراف گندگی کے ڈھیر جمع ہوں جنہیں کوئی اٹھانے کو تیار نہیں ہے، وہاں کے وزیر ایسا چیلنج دیں اور انکا جواب وہ وفاقی وزیر دیں جنکی کارکردگی کا پول عوام پانی بجلی کیلئے احتجاج کر کر کے کھولتے رہتے ہیں، عجیب سا لگتا ہے۔

انہوں نے تو اپنے طور پر کھیلوں کے فروغ اور ایک صحت مندانہ ایکٹیوٹی کی  ہلکی پھلکی کوشش کی لیکن کیا کریں کہ دیگر شعبوں کی طرح ہمارے یہاں کھیلوں کا شعبہ بھی بدحال ہے۔ ریو اولمپکس میں پاکستانی دستے کی کارکرگی دیکھ لیں، پہلی بار ہاکی ٹیم  اولمپکس کیلئے کوالیفائی نیہں کرپائی۔ لائٹ ویٹ ورلڈ چیمپئن باکسر محمد وسیم کو کس نے سرراہا، انہیں اسپانسر کرنے کو کوئی سنجیدہ نہیں ہے۔ کرکٹ ٹیم خوش قسمتی سے انگلینڈ سے  ٹیسٹ سیریز برابر کرکے اپنے عیبوں پر پردہ ڈال پائی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے ہماری تمام صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت کی آخری ترجیح یہ شعبہ ہے یہاں ویڈیو نہیں ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

عوام میں اس وقت عام تاثر یہ ہے کہ ہماری حکومتیں کام نہیں کرتیں۔ اس تاثر کی وجہ یہ ہے کہ تین سالہ حکومت کے باوجود مسلم لیگ ن عوام کے بنیادی اور دیرینہ مسائل حل نہیں کرپائی ہے ، بجلی کا بحران ہنوز جاری ہے اور اسکے ختم ہونے کی امید بھی ذرا کم ہی ہے۔ موٹر وے، میٹرو اور اورنج منصوبے عوام کے صحت اور خوراک کے مسائل کا نعم البدل نہیں ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی  آٹھ سال سے حکومت کررہی ہے لیکن نہ اندرون سندھ کی حالت بدلی اور نہ عوام کا معیار زندگی بدلا، الٹا کراچی جیسے میٹروپولیٹن کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ شہر پہچانا نہیں جاتا۔

کارکردگی وہ کنجی ہے جو عوام میں امیج بناتی اور بگاڑتی ہے ۔ آپ نجی زندگی میں چاہے فرشتہ ہوں لیکن اگر آپکی کارکردگی اپنے کام کے حوالے سے خراب ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت آپکا پبلک امیج نہیں سنوار سکتی۔ ایک بار عوام کی حالت بدل دیں پھر دیکھیں عوام آپ کو سر آنکھوں پر بٹھا لے گی بصورت دیگر آپکی ہر ہلکی پھلکی بات لوگوں کو چبھے گی ۔ باتوں اور وعدوں کے ساتھ تھوڑی سی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں پھر ایک دوسرے کو چیلنج دیتے آپ بہت اچھے لگیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email