The news is by your side.
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

نیت صاف منزل آسان

پاکستان کے ایک مخصوص طبقے کی رو سے بات کر رہا ہوں ماشاء اللہ سے ان کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے پیٹ بھر کے کھانے کو میسر دستر خوان، تن کو اوقات سے بہتر طریقے سے ڈھانپنے کیلئے کپڑے، بچوں کا مستقبل سنوارنے کیلئے معقول ذرائع وغیرہ وغیرہ اگر نہیں ہے تو کمبخت آزادی نہیں ہے۔ جس کی پاداش میں یہ لوگ اپنے ہر عیش و آرام کو جوتے کی نوک پر رکھ کر سرِراہ دندناتے پھر رہے ہیں۔ خیر انسانیت کی تعظیم و تکریم کیلئے ایسی جدو جہد یں بہت ضروری ہوا کرتی ہیں جو تقاضہ کرتی ہیں کہ اگر ان کے بچے ہیں تو تنخواہ دار آیا اور اگر والدین حیات ہیں تو تنخواہ دار ملازمین ان کی دیکھ بھال کریں اور خود انسانیت کی فلاح و بہبود اور اس کی توقیر کیلئے آزادی کا تعاقب کرتے رہیں۔ لیکن انہیں ان کا مطلوبہ حدف مل کر نہیں دے رہا۔

میرا خیال ہے اس مطلوبہ حدف یعنی آزادی کے نا ملنے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں یا تو اس کے حصول کی نیت صادق نہیں یا آزادی بذات خود کوئی چیز ہی نہیں۔ میرا یہ بھی خیال ہے کہ دونو ںوجوہات یکساں اہمیت کی حامل ہیں۔ہو سکتا ہے آزادی کوئی شے ہی نہ ہو ہم محض ایک سراب کو دیکھ کر اس کی تمنا کیے بیٹھے ہوں ۔ اور اگر ہمارے لوگ اس کے نا ہونے کے باوجود کچھ دیکھ کر اسکے وجود کا اندازہ لگا ہی لیتے ہیں تو ان کی بے ایمان نیتیں ان کو اس کے حصول سے روک لیتی ہیں۔

ایک نیا نیا اسکول جانے والا بچہ بھی کچھ چیزوں کو اپنے ذہن میں رکھتا ہےجیسے کہ اسے کیا بننا ہے؟ کیسے بننا ہے؟ اور کیوں بننا ہے؟ مثلاً اُسے ڈاکٹر بننا ہے۔ اُسے اس طرح سے پڑھنا ہے کہ اس ادارے تک پہنچ سکے جہاں وہ ڈاکٹر بن سکے اور کیوں بننا ہے سے متعلق آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہوسکتا ہے وہ اس شعبے سے متاثر ہو وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جب یہ تین سوال آپ کسی آزادی کے متقاضی سے پوچھتےہیں تو معاملہ الجھنوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ مطلب آزادی چاہیئے، آزادی کیوں چاہیئے اور کیسے ملے گی آزادی؟یہ وہ سوالات ہیں جو ذہنوں الجھائےدیتے ہیں۔ آزادی چاہیئے تاکہ ہر کام آزادی سے کیا جا سکے۔ گویا آزادی کو بطور مقصد نہیں بلکہ بطور آلہءِکار تصور کیا ہوا ہے اور یہ وہ بد نیتی ہے جو تحاریک کے جانثاران اور آزادی کے درمیان سیسہ پلائی دیوار کی طرح حائل ہے۔

یہاں پر ایک بات اور شامل کرنا ضروری ہےکہ ہمارے یہاں آزادی کو محض اجازت تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یا یوں کہیے آزادی کا مترادف اجازت استعمال کیا جا رہا ہے۔ در حقیقت یہ وہ عقلی سطح کا بگاڑ ہے جو تضاد کو اپنے اندر سمویا ہوا ہے، مگر ہمارے عالم برادرانِ آزادی ذہنی طور پر اتنے تگڑے ہی نہیں جو اس تضاد کوپکڑ سکیں۔آزادی کی ضمانت تو صرف دی ہی اس وقت جا سکتی ہےجب معاشرے میں اجازت کا امر معطل ہو جائے۔ اجازت کی معطلی دوسروں کی زندگی میں مداخلت کی صورت نہیں بلکہ اپنی ذاتی زندگی کی سرپرستی کیلئے۔ پھر معاشرہ صحیح آزاد ہوگا۔ آزادی بحیثیت آلہءِ کا ر عمل میں نہیں آئے گی بلکہ ایک مقصد ، ایک قدر کی شکل میں معاشرے کی توجہ کا مرکز بنے گی اور معاشرے میں اس بحث کا خاتمہ کردے گی کہ اسے فلاں چیز کی آزادی ہونی چاہیئے، اسے فلاں چیز کی آزادی ہونی چاہیئے، جو کہ ایسا رویہ ہےجو ہر دوسرے روز کسی نہ کسی بہانے سے میدان سجاتا رہے گا۔

مختصراً یہ کہوں تو شاید غلط نہ ہو کہ آزادی کے متقاضی ذہنی طور پر آزادی کیلئے تیار نہیں۔بلکہ آزادی کو اس کی اصل ہیئت میں دیکھا ہی نہیں اور اتنی ہمت بھی نہیں کہ دیکھ سکیں۔ یہ محض ایک لفظ نہیں ایک طرز زندگی ہے اور طرز زندگی بھی بے شک ایک فرد کا ہے مگر اس کا اطلاق پورے معاشرے پر ہوتا ہے۔ چند سطور قبل عرض کی کہ یہ کوئی اجازت نہیں جو کوئی بھی کام کرنے سے قبل حاصل ہو۔ بلکہ یہ تو اس دھیان کی غیر موجودگی ہےاور اس فکر کی عدم دستیابی ہے جس کے نتیجے میں اجازت لینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ لہٰذا لوکل آزادیکی تحریکوں سے میں جو بھی سمجھ پایا ہوںوہ بات اتنی سی ہے کہ آزادی کے متوالے صرف چاہتے ہیں کہ ان کے کسی بھی کام کے سرانجام دینے کیلئے کھلی اجازت ہو جبکہ معاملہ اتنا آسان نہیں۔ مدعا تو اس شے کی معطلی کا ہے جس کیلئے سب سے پہلے اپنوں کی طرف سے بے حسی ، بے دیہانی اور بے فکری کا جبر برداشت کرنے کی ہمت پیدا کرنی ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں