The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

مادحِ خورشید مداحِ خود است

 مولانا رومی فرماتے ہیں ’مادحِ خورشید مداحِ خود است‘ یعنی جو شخص سورج کی تعریف کر رہا ہوتا ہے، وہ در اصل اپنے آپ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہے وہ شعر کے دوسرے مصرعے میں بتاتے ہیں کہ’کہ دو چشمم روشن و مامرمدست‘یعنی اس کی دونوں آنکھیں اتنی روشن اور صحت مند ہیں کہ انہوں نے سورج کی خوبصورتی کا مشاہدہ کیا ہے۔

معاشرے کی اخلاقی تنزلی کی شکایت کرتے ہوئے ہمیں ہر دوسرا شخص ملتا ہے اور بڑی حد تک اُس نبض پر ہی ہاتھ رکھتا ہے جو دُکھ رہی ہوتی ہے یعنی اُس مسئلے کی جانب اشارہ کرتا ہے جوواقعی میں ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ لیکن تعجب یہ ہے کہ مسائل کے اس گلدستے سے اپنے پھول کو کیسے یکسر غائب کر بیٹھتا ہے۔ بحیثیتِ فرد اُس کی ذات سے ناجانے سماج میں کس پیمانے پر گند پھیلا ہوا ہو،اُس شخص کے علاوہ وہی اشخاص جان سکتے ہیں جو اس کی طرح گندے ہوں۔

میری اس عرض کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ معاشرے میں برائی نہیں، میرا استدلال یہ ہے کہ معاشرے میں موجود اس برائی کا مشاہدہ اس بات کو باور کراتا ہے کہ میں ایک بُرا انسان ہوں اور میرے اچھے ہونے کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ برائی کے اُس ڈھیر سے اپنے حصےکی برائی ختم کروں۔

اندرونی صفائی کے اس عمل میں میری بینائی کو وہ صحت اور طاقت حاصل ہوگی جو برائی کے ڈھیر کو نظر انداز تو نہیں پر اہمیت نہ دے کر ان لوگوں کو واضح کرےگی جو اپنے حصے کی گند کو صاف کر رہے ہوں گے۔

معاشرے میں تعفن پھیلتا ہی اس وجہ سے ہے۔ بے ایمانی اوردیگر برائیوں کا انبار ایک فرد میں گھبراہٹ بھی پیدا کر دیتا ہے اور نا امیدی بھی اس کے دل میں جگہ بنا لیتی ہے کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ فرد ِواحد سب کے حصے کا کچرا اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا۔

جب نگاہیں روشن ہوں گی تو مشاہدےبھی ان کے ہوں گے جو اس کارِ خیر میں حصہ لے رہے ہوں گے اور پھر تذکرے بھی ہوں گے جو دیگر کے حوصلے بلند کریں گے۔

قصہ مختصر گند کا ڈھیر موجود تو ہوگا مگر نظروں سے اوجھل ہونے کے سبب افراد کی محنت کے نتیجے میں بتدریج کم ہوتا چلا جائے گا اور ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب ہم’مادحِ خورشید‘ ہوں گے اور  خورشید کی خوبصورتی بیان کر کے اپنی بینائی کےصحت مند ہونے کا ثبوت دیں گے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں