The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

مادحِ خورشید مداحِ خود است

 مولانا رومی فرماتے ہیں ’مادحِ خورشید مداحِ خود است‘ یعنی جو شخص سورج کی تعریف کر رہا ہوتا ہے، وہ در اصل اپنے آپ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہے وہ شعر کے دوسرے مصرعے میں بتاتے ہیں کہ’کہ دو چشمم روشن و مامرمدست‘یعنی اس کی دونوں آنکھیں اتنی روشن اور صحت مند ہیں کہ انہوں نے سورج کی خوبصورتی کا مشاہدہ کیا ہے۔

معاشرے کی اخلاقی تنزلی کی شکایت کرتے ہوئے ہمیں ہر دوسرا شخص ملتا ہے اور بڑی حد تک اُس نبض پر ہی ہاتھ رکھتا ہے جو دُکھ رہی ہوتی ہے یعنی اُس مسئلے کی جانب اشارہ کرتا ہے جوواقعی میں ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ لیکن تعجب یہ ہے کہ مسائل کے اس گلدستے سے اپنے پھول کو کیسے یکسر غائب کر بیٹھتا ہے۔ بحیثیتِ فرد اُس کی ذات سے ناجانے سماج میں کس پیمانے پر گند پھیلا ہوا ہو،اُس شخص کے علاوہ وہی اشخاص جان سکتے ہیں جو اس کی طرح گندے ہوں۔

میری اس عرض کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ معاشرے میں برائی نہیں، میرا استدلال یہ ہے کہ معاشرے میں موجود اس برائی کا مشاہدہ اس بات کو باور کراتا ہے کہ میں ایک بُرا انسان ہوں اور میرے اچھے ہونے کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ برائی کے اُس ڈھیر سے اپنے حصےکی برائی ختم کروں۔

اندرونی صفائی کے اس عمل میں میری بینائی کو وہ صحت اور طاقت حاصل ہوگی جو برائی کے ڈھیر کو نظر انداز تو نہیں پر اہمیت نہ دے کر ان لوگوں کو واضح کرےگی جو اپنے حصے کی گند کو صاف کر رہے ہوں گے۔

معاشرے میں تعفن پھیلتا ہی اس وجہ سے ہے۔ بے ایمانی اوردیگر برائیوں کا انبار ایک فرد میں گھبراہٹ بھی پیدا کر دیتا ہے اور نا امیدی بھی اس کے دل میں جگہ بنا لیتی ہے کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ فرد ِواحد سب کے حصے کا کچرا اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا۔

جب نگاہیں روشن ہوں گی تو مشاہدےبھی ان کے ہوں گے جو اس کارِ خیر میں حصہ لے رہے ہوں گے اور پھر تذکرے بھی ہوں گے جو دیگر کے حوصلے بلند کریں گے۔

قصہ مختصر گند کا ڈھیر موجود تو ہوگا مگر نظروں سے اوجھل ہونے کے سبب افراد کی محنت کے نتیجے میں بتدریج کم ہوتا چلا جائے گا اور ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب ہم’مادحِ خورشید‘ ہوں گے اور  خورشید کی خوبصورتی بیان کر کے اپنی بینائی کےصحت مند ہونے کا ثبوت دیں گے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email