The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

بیمار معاشرے میں صحت مند کہاں جائیں؟

بیماری کسی بھی نوعیت کی ہو ہمیں خدا تعالیٰ سے عافیت طلب کرنی چاہیئے لیکن شاید یہ بھی ایک حقیقت ہے  کہ کرۂ ارض پرموجود ہرشخص کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہوں جو طبعی طور پر بیمار ہوں، کچھ ذہنی بیماری کے چنگل میں ہوں اور جو بچیں وہ روحانی طور پر بیمار ہوں۔ ممکن ہے اس زمین پر ایسے لوگ بھی ہوں جو تینوں طرح کی بیماریوں سے محفوظ ہوں۔ لیکن میرے مرکزِ نگاہ وہی افرادہیں جو بیمار ہیں (بشمول میرے)۔

ان تینوں اقسام کی بیماریوں میں سب سے آسان طبعی بیماری ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کی تشخیص اور علاج ومعالجے کے امکان بآسانی معلوم ہوجاتے ہیں۔ لیکن ذہنی اور روحانی بیماریاں کچھ ایسی نوعیت کی ہوتی ہیں جس میں انسان خود میں کوئی غیر معمولی چیز محسوس ہی نہیں کر پاتا۔ وہ غیر معمولی اثرات اس شخص کے اطراف کے لوگ واضح کرتے ہیں اور اسے درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر ان کے بس سے باہر کی بات ہو تو کم از کم خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔


دنیا بھرمیں ہر تیسرا شخص ڈپریشن کا شکار


عین ممکن ہے کہ یہ غیر معمولی روش معمولی لگنے لگے تو بات صاف ہےکہ وہ ‘اطراف’ بھی ذہنی یا روحانی مرض کا شکار ہے جسے اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ کسی چیز کو صرف برا کہنا ہی نہیں بلکہ اسے ترک بھی کرنا ہے۔ محفلوں میں ، لوگوں کے درمیان صحیح غلط، اچھا برا، جائز ناجائز کی بڑی بڑی باتیں کرکے نامناسب چیزوں کو یا کہیے متضاد چیزوں کو مجبوری کے نام پر زندگی کا حصہ بنانا بیماری کی عین علامت ہے۔مقصود محض غلط کو غلط کہنا ہی نہیں بلکہ عملاً خود کو غلط سے روکنا بھی ہے۔

بیمار معاشرے کا، فرد کی بیماری کو پہچاننا ناممکن ہوتا ہے۔ کیوں کہ معاشرے کے لئے فرد کی نقل و حرکت تو معمول کے مطابق ہوتی ہے۔مگر جیسے ہی کوئی ذہنی صحت مند شخص اس معاشرے میں آتا ہےتومعاشرے میں بسنے والوں کو اس کی ہر ادا غیر معمولی لگنے لگ جاتی ہے۔

یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں یہ بات ثبت ہو جاتی ہے کہ آیا یہ مذکورہ معاشرہ محض روحانی بیمارہے یا یہ ذہنی بیماری کی اذیت سے بھی گزر رہا ہے۔ ظاہر ہے خود پسندی اتنی آسانی سے اس معاشرے کو یہ کیسے قبول کرنے دے گی کہ یہ ذہنی اور روحانی طور پر بیمار ہے۔

کیوں کہ بے شک اس معاشرے کا ہر فرد کہتا تو ہے کہ حق تلفی، دھوکا دہی، مکر و فریب وغیرہ وغیرہ غیر اخلاقی چیزیں ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ان سب چیزوں کو مجبوری کی دلیل لگا کر اپنے لئے جائز بنا بیٹھے ہیں۔ یہ ہی تو خود پسندی ہے جو ذہنی بیماری ہے اور یہ ہی تو تکبر ہے جو دیگر لفظوں میں روحانی بیماری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں