The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

غیرت، خواتین اور قتل

واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ۲۸ مئی ۲۰۱۴ کی اشاعت میں ایک رپورٹ شائع کی جس میں پاکستان میں غیرت پر قتل کے حوالے سے کافی پہلوئوں کا جائزہ لیا گیا تھا، رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا بھر کے ان ۱۴ ممالک میں شامل ہے جہاں غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کیا جاتا اور رجم کی سزا دی جاتی ہے اور حیرت انگیز طور پر یہاں سالانہ ایک ہزار خواتین کاری کر دی جاتی ہیں ، پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والوں میں خواتین کا تناسب مردوں کی نسبت زیادہ ہے۔

کے مطابق پاکستان میں ۸۳ فیصد لوگ رجم کی سزا کے حامی ہیں ۔ Pew survey

جبکہ آٹھ فیصد کے خیال کے مطابق یہ سزا نہیں دی جانی چاہیے۔

(Reference: Washington post story by Terrence McCoy)

غیرت کے نام پر قتل کا موضوع بہت وسیع ہے اور پاکستانی معاشرے میں اب خواتین کا استحصال اس صورت میں کیا جارہا ہے ، پاکستان میں خواتین کے لئے حقوق کی صورتحال اسی وقت سنگین ہو چکی تھی جب سابق صدر س ضیاالحق نے خواتین کو ایک دائرے تک محدود رکھنے کے لئے حدود آرڈیننس کا نفاذ کیا اور اسکا غلط استعمال کیا گیا۔

وقت نے ثابت کیا کہ آج تک ہمیں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ضیا دور کے غلط فیصلوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ پاکستان کا جائزہ لینے سے پہلے چند ایسے امور ہیں جن کو دیکھنا بہت ضروری ہے ۔

دنیا بھرمیں غیرت پر قتل کی مثالیں

برطانوی جریدے ان ڈی پینڈنٹ کے مطابق دنیا کے ۱۵ ممالک میں رجم یا سنساری کی سزا موجود ہے ۔ پاکستان ، قطر ، سعودی عرب ، صومالیہ ،یو اے ای اور یمن میں اس سزا کو قانونی حثییت حاصل ہے لیکن قطر اور موریطانیہ میں یہ سزا جائز اور قانونی ہونے کے باوجود آج تک نہیں دی گئی ، اسی طرح عراق اور افغانستان میں یہ سزا قانونی حثییت کی حامل نہیں لیکن یہ خواتین کو دی جاتی رہی ہے ۔

(Reference: Independent 29 th September, 2013)

اسلام میں رجم کی سزا کا تصور

اسلام میں اس سزا کے بارے میں کئی احکامات ہیں کہ اگر کوئی دو افراد زنا کے مرتکب قرار پائیں تو ان کے درمیان شریعت کے مطابق فیصلہ کیا جائے جس عورت کے بارے میں زانی ہونے کا شبہ ہو اسے گھر میں مقید کیا جائے لیکن فیصلہ کرتے وقت تمام شواہد کو مدنظر رکھا جائے ۔

ایک روایت کے مطابق حضرت عمر نے اپنے دور خلافت میں ایک عورت کو رجم کی سزا دینا چاہی توامیر المومنین حضرت علی علیہ اسلام نے ان کو ایسا کرنے سے منع فرمایا کیونکہ وہ عورت حاملہ تھی اور اس کا بچہ بے قصور تھا ۔

ایک اہم عالم دین ڈاکٹر یوسف قرضاوی لکھتے ہیں کہ ۱۹۷۲ میں لیبیا میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس سے اسلامی فقہ کے عالم اور تیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف امام ابوزہرا نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ رجم کی سزا کا اسلام

میں تب تک تصور تھا جب تک کہ کوڑوں کی سزا کے بارے میں آیت نازل نہیں ہوئی ۔

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لئے قانون سازی

پاکستان کے قوانین کے حوالے سے اگر ہم خواتین کے لئے قانون سازی کا جائزہ لیں تو درحقیقت اب تک کوئی موثر قانون سازی نہیں ہو سکی ۔ ۲۰۰۴ میں خواتین کے لئے ایک ایکٹ بنایا گیا جس کا نام قانون برائے تحفظ نسواں ایکٹ ۲۰۰۴ تھا جس میں حدود آرڈیننس کے حوالے سے ترامیم کی گئیں ۔

یہاں یہ چیز بھی قابل غور ہے کہ خواتین کے لئے جتنے بھی بل پیش کئے گئے وہ سب پیپلز پارٹی کے اراکین نے پیش کئے اور کچھ کام جیسا کہ اس ایکٹ کے حوالے سے مشرف دور میں ہوا بلکہ یہ ایکٹ بھی مشرف کے دور میں منظور ہوا ۔

اس قانون کے تحت پاکستانی پارلیمان نے خواتین کے استحصال ، جبری یا قرآن سے شادی ، ونی یا سوارہ اور حق وراثت سے محرومی کے بارے میں جرائم کا تعین کیا کہ مجرموں کو دس دس برس قید اور دس لاکھ تک جرمانے کی سزا دی جائے گی اور یہ جرائم ناقابل ضمانت ہوں گے ۔

(Reference: BBC, Dawn)

موجودہ دور میں قانون سازی اور انقلابی اقدامات کی طرف قدم

موجودہ تناظر کی بات کریں تو سینیٹر صغریٰ امام نے گذشتہ برس مارچ میں غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے ایک بل سینیٹ میں پیش کیا جس کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا اس بل کی رو سے پاکستان پینل کوڈ ۱۸۶۰ ، کوڈ آف کریمنل پروسیجر ۱۸۹۸ ، اور قانون شہادت آرڈر ۱۹۸۴ میں ترامیم کی گئی ہیں۔

صغری ٰامام نے اس بل کے دفاع میں یہ موقف اختیار کیا کہ ایک غیر سرکاری تنظیم عورت فاونڈیشن کے مطابق ۲۰۰۸ میں ۴۷۵ ، ۲۰۰۹ میں ۶۰۴، ۲۰۱۰ میں ۵۵۷ ، ۲۰۱۱ میں ۷۰۵، اور ۲۰۱۲ میں ۴۳۲ خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تاہم ان میں رجم کی سزا کے ساتھ ساتھ گولی مارنے کے واقعات بھی شامل ہیں ۔ یہ بل تاحال قومی اسمبلی سے پاس نہیں ہوا ہے ۔

وزیر اعظم کی خواتین کے لئے قوانین سازی کی یقین دہانی/ شرمین عبید چنائے کی تیار کردہ ڈاکومنڑی

شرمین عبید چنائے آسکر ایوارڈ یافتہ ہیں اور اس سے پہلے پاکستان میں تیزاب سے جلائے جانے والی خواتین پر ایک ڈاکومنڑی بنا چکی ہیں ۔حال ہی میں ان کی ڈاکومنڑی وزیر اعظم ہاؤس میں اسکرین کی گئی  جہاں وزیر اعظم نواز شریف نے خواتین کے تحفظ کے لئے موثر قانون سازی کی ضرورت اور اہمیت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ خواتین کے لئے قوانین بنائے جائیں گے۔

کیونکہ یہ غیرت کے نام پر قتل نہیں ہے بلکہ یہ خواتین کا قتل ہے ، اور ایک سنگین جرم ہےجس کا تدارک ضروری ہے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک انقلابی قدم ہے کیونکہ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی وزیر اعظم نے اس طرح سے براہ راست خواتین کے لئے قانون سازی میں دل چسپی کا اظہار کیا ہو ۔ شرمین کی ڈاکومنڑی کا عنوان تھا


A girl in the river


شرمین عبید چنائے کی اس دستاویزی فلم کو آسکر ایوارڈ بھی دیا گیا ہے ۔

حاصلِ بحث

جب ہم خواتین یا کسی بھی طبقے کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ضروری ہے ہماری کمٹمنٹ جس کے تحت ہم اس مظلوم طبقے کو تحفظ دینا چاہتے ہیں ۔ کتنے بھی قوانین بن جائیں اگر ان پر موثر اطلاق نہیں تو وہ بے کار ہیں آپ اسی بات سے اندازہ کریں کہ گذشتہ پانچ سال میں صرف وفاقی دارالحکومت میں ۱۰۳ خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں ۔

۱۲۰۰۰ دستخطوں کے ساتھ ایک آئینی پٹیشن دنیا بھر کی غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون کو پیش کی گئی کہ رجم کی سزا کو ختم ہونا چاہیے اور صرف عورت ہی کیوں قصور وار لیکن پاکستان اور کئی دیگر ممالک میں دائیں بازو کی جماعتوں کے دباؤ پر یہ پٹیشن منظور نہ ہو سکی ۔

اب کچھ بات کر لیں ہمارے اپنے سماجی رویوں کی ایک طرف دو نظام ہیں خواتین کو سختی کے ماحول میں رکھا جا رہا ہے تو دوسری جانب کھلے عام آزادی دی جا رہی ہے ایسے میں نئی نسل کے لئے کسی ایک چیز کی تقلید کرنا آسان نہیں ۔

پسند کی شادی جس پر قتل کر دیا جاتا ہے اس کا حق شریعت بھی دیتی ہے اور اسلام کی تعلیمات بھی ، کیا لڑکیوں کو محض اس لئے قتل کر دینا درست ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار خود استعمال کیا ۔ اور اگر پسند کی شادی ہی جرم ہے تو مردوں کو کیوں نہیں سزا دی جاتی کئی کیسزمیں مرد حضرات بھی اس فرسودہ اور قبیح رسم کے بھینٹ چڑھ چکے ہیں لیکن زیادہ تر یہ خواتین تک ہی محدود رہی ہے ۔

سوال صرف اتنا ہے کہ معصوم بچیوں کو کیوں خون بہا میں دے کر ان کا ذہنی اور جنسی استحصال کروایا جاتا ہے ۔ قصور کسی ایک لڑکی کا نہیں ایک فرد کا نہیں ، کیوں کہ ایک فرد کی غلطی نہیں اس میں گناہ گار پورا معاشرہ ہے وہ بھائی ، شوہر اور باپ بھی جن کے ذمے اولاد کی اچھی تربیت اور انکے گھر بر وقت بسانے کی ذمہ داری ہے۔

وہ اخلاق باختہ فلمیں اور ڈرامے بھی جو کسی کو بھی بغاوت پر اکسا سکتے ہیں اور وہ فرسودہ نظام بھی جہاں کسی کو شخصی آزادی حاصل نہیں۔ ٹھیک کرنا ہے تو ان رویوں کو اپنی قانون سازی کو بہتر کریں یہی قوموں کی غیرت مندی ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email