ہم کیمرے کے غلام ہیں ؟

دیکھنے کا انداز منظر نامہ بدل دیتا ہے ۔ ٹائی ٹینک میں ہزاروں افراد ڈوب کر مر گئے لیکن تماش بینوں کو ہمدردی صرف ہیرو سے تھی ۔ سیکڑوں لوگوں کے ڈوبنے کا منظر ایک طرف اور ہیرو کے بچنے کی خواہش دوسری طرف تھی ۔ تماش بین سنگ دل قطعاً نہ تھے ۔ ان کے جذبات کا راستہ متعین وہ کیمرہ کر رہا تھا جس نے صرف ہیرو کو فوکس کر رکھا تھا ۔ کیمرے کا یہ فوکس ہی ہمارے جذبات اور احساسات پر حاوی ہوتا ہے ۔آج یہی فلم دوبارہ فلمائیں ۔ اس بارکسی اور خاندان کو فوکس کر لیں ۔ اس خاندان کے بچوں کی معصوم باتیں ، میاں بیوی کی محبت اور والدین کی خدمت کو فریم میں لائیں تو یہی ہیرو پس منظر میں چلا جائے گا ۔ پھر ہمیں دکھ اس خاندان کے مرنے پر ہو گا جسے کیمرے نے فوکس کر رکھا ہو۔

یہ سچ ہے کہ کہانی کا ہیرو ، دیکھنے کا انداز اور کیمرے کا فوکس ہمارے جذبات کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ قلم سے لکھے حروف اور زبان سے ادا ہونے والے کلمات بڑی تحریکوں کی بنیاد رکھ دیتے ہیں ۔آدھا سچ ، نامکمل تصویر اور ادھورا جملہ ، مکمل جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے ۔ ہمارے ساتھ بھی اکثر ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ادھوری معلومات اور آدھے سچ کی بنیاد پر قائم کی گئی رائے ہمیں حق سے دور کر دیتی ہے ۔ اسی لئے اسلام تحقیق اور تصدیق پر زور دیتا ہے۔

اگر ہم معاشرے کا جائزہ لیں تو اس بات سے اختلاف نہیں کر سکتے کہ ہمارے یہاں بھی لوگ نامکمل یا غلط معلومات کی بنیاد پر رائے قائم کر لیتے ہیں ۔ ہم آدھی معلومات کی بنیاد پر پورے دانشوربننے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ نیم حکیم خطرہ جان اور نیم ملا خطرہ ایمان ہوتا ہے ۔آدھا علم تباہی کی جانب لیجاتا ہے ۔یہ آدھا علم ہمیں ایسی تنقید پر ابھارتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔غیر حقیقی سوچ کے تابع ہونے کے بعد ہمیں ہر سرکاری ملازم کرپٹ ، ہر سیاست دان ملک دشمن ،پرائیوٹ پریکٹس کرنے والا ہر ڈاکٹر لٹیرا اور ہر صحافی بلیک میلر لگتا ہے ۔ ہماری تنقید سے تو یہی لگتا ہے کہ اس ملک میں کوئی ڈاکٹر ، کوئی سیاست دان ،کوئی پولیس اہلکار اور کوئی صحافی ایماندار نہیں ہے ۔ سبھی کو ایک لاٹھی سے ہانکنے کی یہ عادت ہمیں جس ذہنی پستی کی جانب لے جا رہی ہے وہ سانحہ کوئٹہ کے بعد عیاں ہو چکی ہے ۔

کوئٹہ ٹریننگ سینٹر میں حملہ کے دوران لگ بھگ 61 پولیس کیڈٹ شہید ہوئے ۔یہ 61 کیڈٹ ایک طرف لیکن سوشل میڈیا پر ہم صرف ایک کیپٹن کا ذکر کرتے رہے ۔ ہم نے شہید کیپٹن کے سوا باقی سب شہدا کو پس منظر میں دھکیلنے کی غیر شعوری کوشش کی جس کا حق ہمیں کسی صورت نہ تھا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے شہدا بھی تقسیم کر لئے ہیں ؟ کیپٹن روح اللہ کی قربانی سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن سوال یہ ہے کہ کیپٹن روح اللہ کے سوا آپ کو اس حملے میں شہید ہونے والے کتنے پولیس کیڈیٹس کے نام معلوم ہیں ؟ کیا یہ کیڈیٹ شہید نہیں ہیں ؟ کیا خداہماری فوج اور پولیس کے شہدا کو الگ الگ اٹھائے گا ؟ یقیناًایسا نہیں ہے ۔ کیپٹن روح اللہ اور دیگر 61 شہدا کو ایک ہی اعزاز ملا ہے ۔ یہ ہم ایسے ہیں جنہوں نے اپنی مخصوص سوچ کے تابع ہو کر شہدا کی درجہ بندی کر رکھی ہے ۔پولیس کے ان 61 شہدا کے ساتھ جو سلوک کیا گیاوہ قابل مذمت ہے ۔ ان کے والدین نے اس تقسیم پر روز حشر ہمارا گریبان پکڑ لیا تو شاید ہمارے پاس کوئی جواب نہ ہو ۔

آئیں تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کی جسارت کرتے ہیں ۔ سوال یہی ہے کہ ایک ہی سانحہ میں شہید ہونے والوں کی یہ لا شعوری درجہ بندی کیسے ہو گئی ؟ سوشل میڈیا پر 61 شہدا کا تذکرہ کیوں نہیں ہوا ؟ہمیں اپنے ایک شہید کے سوا باقی شہدا کی تصاویر گردش کرتی نظر کیوں نہ یں آئیں ؟ اگر شہدا کی تصاویر کہیں اپ لوڈ ہوئیں بھی تو ہم انہیں شیئر کیوں نہ کر پائے ؟اب لازم ہے کہ ہم اپنا بھی نفسیاتی جائزہ لیں ۔ ہم جس پولیس اہلکار کو دنیا کا سب سے کرپٹ شخص ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں اس کی تنخواہ بمشکل 20 سے 25 ہزار ہوتی ہے ۔ اس تنخواہ کے بدلے پولیس اہلکار ان لوگوں کی خاطراپنی جان قربان کرنے کا حلف اٹھاتا ہے جنہیں وہ جانتا ہی نہیں ہے ۔ کوئٹہ ٹریننگ سینٹر میں شہید ہونے والے کیڈیٹس تواپنی پہلی تنخواہ بھی وصول نہ کر پائے ہوں گے لیکن وہ یہ واضح کر گئے کہ سپاہی اپنی تربیت کے آغاز سے ہی جان ہتھیلی پر رکھ لیتا ہے ۔ یہ اہلکار اپنی خوشی ، غمی ، عید ، شب برات سبھی تہواروں کی چھٹیاں اپنی زندگی سے نکال دیتے ہیں لیکن ہم رک کر ان کا شکریہ تک ادا نہیں کرتے ۔ عید کے روز ان سے گلے نہیں ملتے ۔ نماز کے بعد ان کے کے لئے دعا تک نہیں کرتے ۔ یہ لوگ رات بھر سڑکوں پرصرف اس لئے کھڑے رہتے ہیں کہ شہری محفوظ رہیں ۔ آدھی رات کو ڈاکوؤں کے پیچھے بھاگتے ان اہلکاروں کو علم ہوتا ہے کہ انہیں یا توایک تعریفی سرٹیفکیٹ ملے گا یا پھر ڈاکوکی چلائی گولی ،لیکن پھر بھی ہمیں ڈاکوؤں کے خلاف لڑنے کی خبریں ملتی رہتی ہیں ۔اس کے باوجود ہم چند کالی بھیڑوں کی سزا سبھی کو دینے پر تل جاتے ہیں ۔ ہم ان شہدا کو بھی بھول جاتے ہیں جو اب تک ڈاکوؤں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے ۔

اگلے روز ایک تقریب میں آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا بتا رہے تھے کہ صرف پنجاب میں ہی700 سے زائد پولیس آفیسر و اہلکار عوام کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو چکے ہیں ۔ یقیناًان کے خاندان بھی عام شہریوں سے سوال کر رہے ہیں کہ ان قربانیوں کا اعتراف کب کیا جائے گا ۔ایک عام شہری کے طور پر ہم اپنا احتساب کریں تو یقیناًہمارے سر بھی شرمندگی سے جھک جائیں گے کہ ہم نے پنجاب پولیس کے 700 سے زائد شہدا کو کبھی خراج تحسین پیش نہیں کیا ۔ ان کے لئے نہ تو میڈیا پر پروگرامز ہوئے اور نہ ہی ان کی قربانیوں پر کالم لکھے گئے ۔ا س میں دو رائے نہیں کہ پولیس فورس ہمارے لئے بنائی گئی ہے لیکن اس کی صلاحیت اس وقت تک کھل کر سامنے نہیں آ سکتی جب تک ہم انہیں یہ احساس نہ دلائیں کہ عام شہری ان کے ساتھ ہے ۔ پولیس فورس کے شہدا ہم سب کے شہدا ہیں اور ہم انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ وہ ہماری خاطر شہید ہوتے ہیں ۔ان کی حملہ آوروں سے ذاتی لڑائی نہیں ہوتی ۔ اگر کوئی جھگڑا ہے تو وہ ہماری حفاظت یا ہم پر حملہ کرنے کا جھگڑا ہے ۔ یہ وہ گمنام سپاہی ہیں جو ہماری خاطر شہید ہوئے اور ہم نے ان کی قربانی کا اعتراف تک نہ کیا۔ یقیناًیہ شہید ہم سے کہہ رہے ہیں کہ لہو ہمارا بھلا نہ دینا ۔اس لہو کو یاد رکھنے کے لئے ہمیں اپنی سوچ کا دھارا اور نظر کا زاویہ بدلنا ہو گا ۔ تصویر کے دونوں رخ دیکھئے ،محض تماش بین نہ بنیئے کہ تماش بینوں کی فکر آزاد کب تھی ؟ یاد رہے دیکھنے کا انداز منظر نامہ بدل دیتا ہے ۔ ٹائی ٹینک میں ہزاروں افراد ڈوب کر مر گئے لیکن تماش بینوں کو ہمدردی صرف ہیرو سے تھی۔

بدر سعید: بدر سعید ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کرچکے ہیں اورکئی سال سے شعبہ ٔصحافت سے وابستہ ہیں ۔ کالم نگار اور اسکرپٹ رائٹر ہیں ۔ بدر سعید دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں سے ایک’خود کش بمبار کے تعاقب میں‘ جامعات اور کالجز کی لائبریزی کے لیے ایچ ای سی سے منظور شدہ ہے