The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

تہذیب کی تعریف

کسی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو تہذیب کہتے ہیں۔ تہذیب معاشرے کی طرز زندگی اور طرزفکرو احساس کا جوہر ہوتی ہے۔ چنانچہ زبان آلات و اوزار پیداوار کے طریقے اور سماجی رشتے ، رہن سہن ، فنون لطیفہ ، علم و ادب ، فلسفہ و حکمت ، عقائد و افسوں ، اخلاق و عادات ، رسوم و روایات ، عشق و محبت کے سلوک اور خاندانی تعلقات وغیرہ تہذیب کے مختلف مظاہر ہیں۔

ہر قوم کی ایک تہذیبی شخصیت ہوتی ہے۔اس شخصیت کے بعض پہلو دوسری تہذیبوں سے ملتے جلتے ہیں، لیکن بعض ایسی انفرادی خصوصیتیں ہوتی ہیں جو ایک قوم کی تہذیب کو دوسری تہذیبوں سے الگ اور ممتاز کردیتی ہیں۔ ہر قومی تہذیب اپنی انہی انفرادی خصوصیتوں سے پہنچانی جاتی ہیں۔ جب سے پاکستان ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے وجود میں آیا ہے تب سے ہمارے دانشور پاکستانی تہذیب اور اس کے عناصر ترکیبی کی تشخیص میں مصروف ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا پاکستانی تہذیب نام کی کوئی شے ہے بھی یا نہیں ؟ یا ہم نے فقط اپنی خواہش پر حقیقت کا گمان کرلیا ہے اور اب ایک بے سود کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ پاکستانی تہذیب کی تلاش اس مفروضے پر مبنی ہے کہ چونکہ ہر ریاست قومی ریاست ہوتی ہے اور ہر قومی ریاست کی اپنی انفرادی تہذیب ہوتی ہے لہٰذا پاکستان کی بھی کوئی ایک قومی تہذیب ہے ؟ یا ہونی چاہیے۔ پاکستانی تہذیب پر غور کرتے وقت ہمیں بعض امور ذہن میں رکھنے چاہییں ۔

sibte
پہلی بات یہ ریاست فقط ایک جغرافیائی یا سیاسی حقیقت ہوتی ہے اور قوم اور اسی کے واسطے سے قومی تہذیب ایک سماجی حقیقت ہوتی ہے۔ چنانچہ ضروری نہیں کہ ریاست اور قوم کی سرحدیں ایک ہوں مثال کے طور پر جرمن قوم دو آزاد ریاستوں میں بٹی  ہوئی ہے یہی  حال کوریا اور ویت نام کا ہے مگر جب ہم جرمنی اور کوریا یا ویت نام کی قومی تہذیب سے بحث کریں گے تو ہمیں مشرقی اور مغربی جرمنی ، جنوبی اور شمالی کوریا ،جنوبی اور شمالی ویت نام کو ایک تہذیبی یا قومی وحدت ماننا پڑےگا۔

دوسری بات یہ ہے کہ ریاست کے حدود اور رقبہ گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں مثلاً پاکستان کی سرحدیں آج وہ نہیں رہیں جو 14 اگست 1947 کو تھیں ۔ مگر قوموں اور قومی تہذیبوں کی حدود بہت مشکل سے بدلتے ہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ بعض ریاستوں میں ایک ہی قوم آباد ہوتی ہے ، جیسے جاپان میں جاپانی قوم ، اٹلی میں اطالوی قوم ، اور فرانس میں فرانسیسی قوم ، ایسی ریاستوں کو قومی ریاست کہا جاتا ہے ، لیکن بعض ریاستوں میں ایک سے زائد قومیں آباد ہوتی ہیں جیسے کینیڈا میں برطانوی اور فرانسیسی قومیتیں ، چیکوسلوواکیہ میں چیک اور اسلاف ، عراق میں عرب اور کرد ، سویت یونین میں روسی ،ازبک ، تاجک ، وغیرہ۔ جن ملکوں میں فقط ایک قوم آباد ہوتی ہے وہاں ریاستی تہذیب اور قومی تہذیب ایک ہی حقیقت کے دو نام ہوتے ہیں لیکن جن ملکوں میں ایک سے زائد قومیں آباد ہوں وہاں ریاستی تہذیب کی تشکیل و تعمیر کا انحصار مختلف قوموں کے طرز فکر اور طرز احساس کے ربط و آہنگ پر ہوتا ہے۔ اگر نفاق اور رفاقت کی قوتوں کو فروغ ہو تو رفتہ رفتہ ایک بین الاقوامی تہذیب تشکیل پاتی ہے۔ اور اگر نفاق اور دشمنی کی قوتوں کا زور بڑھے تو مختلف قومیں صنعت و حرفت میں ، زراعت و تجارت میں، علوم و فنون میں ، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے بجاے ایک دوسرے پر غلبہ پانے یا ایک دوسرے کا استحصال کرنے کی کوشش کریں یا ایک دوسرے سے نفرت کریں ،ملک میں باہمی اعتماد کے بجائے شک و شبہ اور بدگمانی کی فضا پیدا ہوجائے تو مختلف تہذیبی اکائیوں کی سطح اونچی نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ان کے ملاپ سے کوئی ریاستی یا قومی تہذیب ابھر کر سامنے آسکتی ہے۔

( سبط حسن صاحب کی کتاب’’تہذیب کا ارتقا‘‘سے اقتباس۔۔ صفحہ نمبر 11 )

Print Friendly, PDF & Email