The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

بشریٰ زیدی سے آج تک – کراچی کا المیہ

کراچی کی داستان کا المناک ترین پہلو یہ ہے کہ تیس برس قبل ٹریفک حادثے میں بشری زیدی نامی طالبہ ماری گئی ، اس واقعے نے سانحے کی شکل اختیار کی‘ لاوا پھٹ پڑا‘ نسلی لسانی پرتشدد سیاست نے عروج حاصل کیا اورشہر کی کنجیاں اس دن سے آج تلک ایم کیو ایم کے پاس ہیں۔ ان دنوں تو پھر سرکلر ریلوے تھی سرکاری بسیں تھیں یا اس سے قبل ٹرام تھی ۔ اب تو مقدر میں چنگ چی لکھ دی گئی ٹرام و ٹرین قصہ پارینہ سمجھئیے خیر۔

گزشتہ دس دنوں میں ٹریفک حادثات میں پانچ طالبات ایک طالب علم اور ایک کنڈیکٹر جان کی بازی ہارے ، مرنے والوں کی اکثریت وفاقی جامعہ اردو کی طالبات کی ہے اور ایک طالب علم انڈس یونیورسٹی کا ہے ایک کے سوا تمام حادثات یونیورسٹی روڈ پر ہوئے جہاں ایک ماہ سے بے ڈھنگے انداز سے کام جاری ہے ۔

کراچی والوں کو ساری باتیں ایک طرف کرکے کھلے دل کے ساتھ سوچنا چاہئیے کہ بشری زیدی تا حالیہ طالبات کے ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے کے درمیان والے عرصے میں مخصوص ٹولے سے وابستہ افراد کے سوا کس کی قسمت بدلی ؟ جو کل تک اورنگی کورنگی میں تھے وہ گلشن منتقل ہوئے گلشن والے ڈیفنس ، ڈیفنس والے لندن نیویارک اور انٹاریو۔ وہ سارے بہترین سفری سہولتیں استعمال کرتے ہیں بچوں کی شادیاں دبئی کے مہنگے ہوٹلوں میں کراتے ہیں ، دوسری طرف آپ ہیں جن کی بچیاں سن پچیاسی میں بھی چیختی چنگھاڑتی بسوں سے ٹکرا رہی تھیں دو ہزار سترہ میں بھی یہی دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ تو پھر بدلا کیا ہے ؟ کس کے بھاگ جاگے ؟ نصیب کس کے کھلے ؟ ہمارے آپ کے بچے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر اپنی کتابوں اور خوابوں سمیت بکھرے خون میں لتھڑے پڑے ہیں ۔ والی وارث کل بھی نہیں تھا آج بھی نہیں ہے ۔ ترقی معکوس کا یہ سفر پوری شدت سے جاری ہے اس کا اختتام کب اور کیسے ہوگا کوئی نہیں بتلاتا۔

ہم جب تک اپنے اذھان میں پائے جانے والے فرسودہ افکار نہیں بدلیں گے ، حالات بھی نہیں بدلیں گے ۔ عزم و ارادہ کیجئے اس تار عنکبوت کو ختم کرنے کا کہ یہی امید ہے یہی آس و خواب ہے ، آنی والی نسلوں کی زندگی کو بدلنے کا۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں