The news is by your side.
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

سیکیولر بھارت میں ’ہندو توا‘ عروج پر

بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی کہانی کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں مگر اب تو اس انتہا پسندی(سیفرانائزیشن) کے بیج بھارتی اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں بھی نشونما پانے لگے ہیں۔ جس کا ثبوت کیرالا(ساؤتھ انڈیا) میں سنگھ پریوار کے کلیدی لیڈران کو محض خراج تحسین پیش کرنے کے لئے متعارف کرایا جانے والا نصاب ہے۔

یہ نصاب ہندوتوا نظریے کی بانی تنظیم آرایس ایس(راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کے تعلیمی ونگ نے متعارف کروایا ہے اور اس میں متعدد تاریخی حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے۔

اس سے قبل ماضی میں بھی متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں جب مرکز میں موجود بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت اوراس کی نظریاتی پیرنٹ تنظیم یعنی آرایس ایس نے بھی اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں ہندوتوا نظریات کی بنیاد پر تبدیلی لانے کی کوششیں کیں۔ اور اپنی اسی پرانی روش کو برقرار رکھتے ہوئےاب ایک بار پھرآرایس ایس نے ملیالم زبان میں گریڈ 4 سے گریڈ 12 تک کے طالب علموں کے لئے 9 کتب شائع کروائی ہیں۔ اورتشویش طلب بات یہ ہے کہ انہی کتب میں ایک ثقافتی نقشہ بھی شائع کیا گیا ہے جن میں پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ جس سے بخوبی طور پر خطے میں بھارت کی جارحانہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔

اس سے قبل بی جے پی کے انتہا پسند لیڈر سنگیت سوم نے بھارت کے عظیم قومی ورثے تاج محل( جوایک مسلمان مغل بادشاہ شاہ جہاں نے تعمیر کروایا تھا اور اب وہ ریاستی حکومت کو 21 کروڑ روپے کا سالانہ زرمبادلہ مہیا کر رہا ہے) کو ہندوستانی ثقافت پر بد نما داغ قراردیتے ہوئے بھارت میں پنپنے والی انتہا پسندی کو مزید ہوا دی ہے۔

اس عمل سے ظاہرہوتا ہے کہ بی جے پی تاریخ کو مسخ کرنے اور آرایس ایس کی خواہش کے مطابق ہندوتوا فلاسفی کی روشنی میں ازسرنو لکھنےمیں مگن ہے جس میں متواتر بھارت میں موجود اسلامی شناخت اور تشخص کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ اور آر ایس ایس اپنے اسی ہولناک ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنے راستے کے تمام پتھر چن چن کر صاف کر رہی ہے۔ جس کی مثال ہندو انتہا پسندی کے خلاف برسریپکار خاتون صحافی گوری لنکیش(ہفت روزہ اخبار لنکیش پتر کی ایڈیٹر) کا بہیمانہ قتل ہے۔

India fake map
بھارتی کتاب کا عکس

بھارت میں اقلیتیں نا صرف غیر محفوظ ہیں بلکہ انہیں شدھی جیسی تحریکوں کے ذریعے زبردستی طاقت کے زور پر ہندو بنانے کی کوششیں اب کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ عدم برداشت اور عدم رواداری بھارتی معاشرے کی بنیادوں کو تیزی سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ جہاں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جانے والاامتیازی سلوک تو معمول کی بات ہے۔ مگر اب وہاں کے لبرل اور سیکولر طبقے اس نا انصافی اور بربریت کے خلاف اپنی آوازیں بلند کرنے لگے ہیں۔ اسی لئے متعدد ممتاز بھارتی لکھاریوں اور ادیبوں نے بھی احتجاجاً اپنے اعزازات حکومت کو واپس کیے۔

بلا شبہ بھارت کی اس انتہا پسند روش سے سیکولرازم کے خوبصورت لبادے میں پوشیدہ بھارت کا ہولناک چہرہ تیزی سے بے نقاب ہورہا ہے جس نے اپنی شناخت تو سیکولر ملک کے طور پر کرائی مگر حقیقت میں وہ ہندو انتہا پسندی کا مرکز و محور ہے۔ اور ناقدین کی رائے میں بھارت میں مودی سرکار کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی یہ انتہا پسندی خود بھارت کے وجود کے لئے بھی کسی بڑے خطرے سے کم نہیں ‘ خاص طور پر جب بھارت میں 30 سے زائد علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔

نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے دل سوز مظالم، اور وہاں پر ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیاں اور پاک بھارت خراب تعلقات یقنیی طور پر ہندو انتہا پسندی کے شکار مودی سرکار کے جنگی جنون اور پاکستان دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اور بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کی بلوچستان سے رنگے ہاتھوں گرفتاری اوراعترافِ جرم کے بعد بھارت کی پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہونے میں مزید کسی ثبوت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی کے دورِ اقتدار میں پاک بھارت امن مذاکرات کے امکانات بالکل معدوم ہو چکے ہیں۔

بلاشبہ پاکستان اور بھارت کے مابین روایتی دشمنی اور ناخوشگوار تعلقات میں تیزی سے ہوتا ہوا اضافہ جنوبی ایشیاء کے لئے خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دونوں ممالک جوہری ریاستیں ہیں۔ اور ان کے درمیان کشیدگی ہی سارک کی ناکامی اوراس خطے کی پسماندگی کی بڑی وجہ تصور کی جاتی ہے۔ لہٰذا جنوبی ایشیاء کی ترقی و خوشحالی کے لئے ضروری ہے کہ بھارت ہمسایہ ممالک پر اپنی چوہدراہٹ قائم کرنے اور علاقائی حاکمیت کے خبط اور خوابوں سے جلد از جلد باہر نکلے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں