مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے نئے شعلے‘ امریکا چاہتا کیا ہے؟

کہتے ہیں جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ بذات خود سب سے بڑا مسئلہ ہوتی ہے ، دو عظیم جنگیں لڑنے کے بعد دنیا کو اس بات کا ادراک ہوگیا تھا ، لیکن اس بات کا کوئی حل اب تک نہیں سامنے آسکا ہے کہ اس کے بعد وقوعہ پذیر ہونے والی تقریبا تین سو چھوٹی بڑی جنگیں کیوں لڑی گئیں ۔ ان میں کون جیتا کون ہارا ‘ جیت ہار سے در اعتناء اس جنگ بازی میں سب سے بڑا نقصان انسانیت کا ہوتا ہے اور ہوا بھی ۔

نوے کی دہائی میں پہلی مرتبہ بنیاد پرستی کا نام سنا گیا ‘ بس کچھ ہی دنوں میں اتنا کامیاب ہوا کہ وہ انتہا پسند بن گیا ۔یہ برانڈ بھی سپر ہٹ ہوا تو پھر نائن الیون رونما ہو گیا اور چند ہی گھنٹوں میں دہشت گردی دنیا کا سب سے بڑا لفظ بن گیا۔ اسی دہشت گردی نے ، افغانستان ، عراق شام ، صومالیہ ، الجزئیر، لیبیا، مصر ، اور نہ جانے کہاں کہاں ظاہری اور خفیہ آپریشن کرائے ، نہ جانے کون کون مارا گیا ، کس کا قصور تھا اور کس نے سزا بھگتی یہ کوئی نہیں جانتا ۔ لیکن تورا بورا کی بمباری سے لے کر کابل پر قبضے تک اتحادی افواج کو کوئی انتہائی تباہ کن اور مہلک ہتھیار نہیں ملا ۔ عراق میں بھی ایسا ہی ہوا ، سب نے دیکھا کہ مہلک ہتھیار تو نہ ملے لیکن صدام حسین کا اقتدار ختم ہو گیا ،پھر لیبیا اور پھر مصر ۔ جن ممالک کا ذکر کیا گیا ہے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ان کے علاوہ بھی کئی ممالک میں جاری تھی ، جن مین پاکستان سرفہرست ہے ۔ جہاں آج بھی یہ جنگ جاری ہے ۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو امریکہ ہوچی من سے لڑائی میں ناکامی پر خاموشی سے ویت نام سے نکل گیا تھا وہ آج کسی بھی ملک سے واپس کیوں نہیں جارہا ۔ افغانستان، عراق، شام ،یمن صومالیہ مین جو کچھ امریکہ کے ساتھ ہو رہا ہے وہ ویت نام سے کہیں زیادہ ہے لیکن انکل سام اب کہیں سے واپس نہیں جا رہے ۔ بڑے بش صاحب کی لگائی ہوئی آگ میں کئی ملک جل رہے ہیں ۔ لیکن ان کے فرزندِ ارجمند کے کہنے کے باوجود امریکہ واپس نہیں جا رہا ، اقتدار کی منتقلی ہوئی اور براک حسین اوبامہ آٹھ سال تک بر سر اقتدار رہے‘ اس دورن کئی ڈیڈ لائینز دی گئیں لیکن ہر بار کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا رہا کہ ڈیڈ بھی بڑھتے رہے اور ڈیڈ لائینز بھی ۔ اور پھر یوں ہوا کہ امریکنوں نے ڈیموکریٹس کو مسترد کر دیا ۔ اگلے آنے والے ری پبلکن ایک ایسے امریکی صدر ہیں جن کو سفید فام امریکیوں کے علاوہ کوئی نظر نہین آتا جن کی تقاریر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جلد امریکہ بہت سے نئے ممالک مین اپنی فوجیں اتار دے گا ۔ اور عالمی امن ایک بار پھر ایسا خواب بن جائے گا جس کی تعبیر ممکن نہیں ۔

گزشتہ ایک سال کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے تمام ممالک نے کل ملا کر اکتیس بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی خریدو فروخت کی ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس میں سے نوے فیصد یعنی اٹھائیس بلین ڈالر کی تجارت صرف دس ممالک نے کی جن میں سر فہرست امریکہ ہے جس نے تقریبا دس بلین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا جو ایک ریکارڈ ہے ۔ اس کے قریب ترین روس ہے جس نے چھ بلین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا ہے ۔ امریکی اسلحے کی سب سے بڑی کھیپ ان ممالک میں گئی ہے جو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں یا تو امریکہ کے ساتھی ہیں یا ساتھی بننے والے ہیں ۔

میرا خیال ہے کہ یہی وہ وجہ ہے جس کے باعث اب امریکہ کسی بھی ملک میں جنگ ختم کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ ٹرمپ صاحب کے حالیہ بیان سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اب اور بڑھ جائے گی اور اس میں عالم اسلام کے ممالک بڑی تعداد میں شامل ہو جائیں گے ۔ امریکہ نے ویت نام سے جو سبق سیکھا اس نے امریکہ کو اتنا سکھا دیا ہے کہ اب امریکہ کہیں بھی اور کبھی بھی جنگ چھیڑ سکتا ہے ۔ مہلک ہتھیار ملیں یا نہ ملیں۔ ایٹم بم دریافت ہو یہ نہ ہو ۔ کبھی ڈرون کو اور کبھی عرب اسپرنگ کو استعمال کر کے جنگیں طول پکڑتی جا رہی ہیں ۔ شاید کبھی نہ ختم ہونے کے لیے ۔ اور اس سب کے کے بیچ عالمی امن کے ذمہ داران ایک ایسی بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں جس کو بھاگنے کی بھی جگہ نہیں مل رہی ۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

عامر سہروردی: عامر سہروردی سینئر صحافی ہیں اور اے آروائی نیوز سے بحیثیت کنٹرولر نیوز وابستہ ہیں‘ نوجوانوں کی تربیتی نشستوں سے خطاب کرتے ہیں اور ان کی بہبود کے لیے کوشاں رہتے ہیں