The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

قومی شعور اور تعلیمی نظام

دنیا کے نقشے پر شاید ہی کوئی قوم ایسی ہو جیسے ہم ہیں ہیں ، دنیا کے نقشے کے اتنے نقشے نہیں جتنے ہمارے ہیں۔ ہم ہر وہ کام کرتے ہیں جس کا کوئی حاصل وصول نہیں ہوتا ۔ اور کیونکہ ایسے کام میں ناکام ہونے کو کوئی تصور ہی نہیں اس لئے ہم صرف کامیاب ہوتے ہیں۔ مثلا وقت کیسے ضائع کرنا ہے ، ہر نئی ٹیکنالوجی کو کس طرح مشکوک بنانا ہے ؟ اور سیاست پر تو ہم میں سے ہر ایک نے پی ایچ ڈی کیاہے۔ پان کے کھوکھے سے لے کر شرافت بھائی کے ڈبو تک اور ، فہیم مین پوری والے کی دوکان سے گلزار ایزی لوڈ شاپ تک ہر جگہ سیاسی بحث جاری رہتی ہے ۔ وہ جو اس بحث میں شریک نہیں ہوتے یا تو گونگے ہیں یا ان کے منہ میں ماوا بھرا ہے ورنہ پانامہ سے اقامہ تک سب کچھ محلے کی دوکانوں پر ہی طے کر لیتے ہیں۔

کئی سال پہلے گھروں میں ٹیلیفون ہوتے تھے ۔اب فون میں گھر ہوتے ہیں خاص طور پر نوجوانوں کے ۔۔ ہاں یہ نوجوان پہلے بہت محنتی ہوا کرتے تھے ان پر بہت لوڈ ہوا کرتا تھا کم از کم عشق میں تو محنت کرتے تھے مگر قربان جائے لوڈ تو اب بھی ہے مگر اسے ایزی لوڈ کہتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے رہی سہی محنت کی عادت بھی ختم کرا ڈالی ۔ اب تو ہر شخص علامہ ہے ، قبلہ ہے ، سیاسی مبصر ہے ، بین الاقوامی امور کا ماہر ہے۔

سوشل میڈیا کا کمال یہ ہے کہ کالا بھجکڑ گورے ہونے کے ٹوٹکے بتا رہا ہو، اکثر طلاق یافتہ خواتیں گھر بسانے اور اکثر اوباش مرد بیوی کے ساتھ اعتماد سازی پر باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ اور قربان جائیے مارننگ شوز پر جہاں ماہرین کا ایک ٹولہ قابض نظر آتا ہے ، جو آج ایک چینل پر ہیں کل دوسرے پر ہوں گے ۔

لیکن اب پاکستانی عوام کے مسائل گھمبیر ہو گئے ہیں ۔ خان کا سونامی اور نواز شریف کی بدنامی ہی کیا کم تھی کہ چیف صاحب بھی بول اٹھے ۔ قادری صاحب بھی گرج رہے ہیں ، خادم صاحب بھی برس رہے ہیں ۔ رانا ثنا اللہ استعفی نہیں دے رہے۔کل بھوشن کو پھانسی نہیں ہو رہی ۔گوادر پورٹ بن نہیں رہا ۔اکثر لوگوں کی توندیں بڑھ گئی ہیں اور سڑکوں پر پتلونیں گڑبڑ کر جاتی ہیں ، اس لیے ون بیلٹ ون روڈ والا فارمولہ سمجھ میں نہیں آرہا۔ امریکہ پیسے کم اور دھمکیاں زیادہ دے رہا ہے ۔ افغانی ہمارے بھائی ہیں ان کی مدد کرتے رہیں گے لیکن سرحد پر باڑھ لگانا بھی بے حد ضروری ہے ۔ اور ہاں دہشت گردون کو ان کے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ قوم نے دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دے دیا ہے ۔

صاحب گر برا نہ لگے تو عرض کروں کہ جو قوم غنڈہ گردی کا جوب نہ دے سکے وہ دہشت گردی کا کیا جواب دے گی۔ وہ تو آج کل اپنی بہنوں اور ماؤ ں کے سر اور پیروں کی حفاظت میں ادھ موئی ہوئی جا رہی ہے۔ویسے ایک دوست کا کہنا ہے کہ سری اور پائے کے بغیر رشتے کچھ خاص اچھے لگیں گے نہیں ۔اور کراچی کا غم تو ہے ہی کچھ بھیانک ۔ باپ نے دادا کو دھمکی دی تو بیٹے آپس میں لڑ پڑے ایک نے کمال کیا ،،دوسرے نے دھمال اور تیسرے نے اپنی زندگی کو بنایا وبال ۔ اب دکھی ہو گئے اور شہر اور قوم کے وسیع تر مفاد میں اپنی چیک بکس اٹھا کر ولایت چلے گئے ۔ کچھ لوگ اب بھی دکھی ہیں ۔

لیکن میں آپ کو کراچی میں ہونے والی سب سے بڑی دہشت گردی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں ۔ مبارک ہو ہماری نسلوں کو نقل مافیا کھا گئی ہے۔ تینتیس ہزار بچوں نے امتحان دیا اور صرف گیارہ ہزار پاس ہوئے ۔ کتنا کمال ہے نہ ۔ نہ بچے انٹر کریں گے ، نہ میڈیکل اور انجینئرنگ میں داخلہ ہوگا ۔ نہ شہر آگے چلے گا نہ ملک اور نہ قوم ۔ کتنی آسان موت ہے ۔تعلیم کا گلا گھونٹ دیا گیا اور سیاست چلتی رہی ، تعلیم مر گئی اور تجارت چلتی رہی ۔ تعلیم برباد ہو گئی اور کھیل کھلواڑ ہوتے رہے ۔ آئے مل کر بین کریں ایک ایسی موت کا جس کے بعد کوئی اگلا جہاں نہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں