The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

مبارک ہو! کمیٹی بنا دی گئی ہے

مبارک ہو !کمیٹی بن گئی ہے۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے جو ہمیں ہر کچھ دن بعد کسی نہ کسی معاملے پر سنائی دیتا ہے ۔ کتنا کمال کا لفظ ہے کہ اس کے پیچھے قاتل‘ تفتیشی ‘ تادیبی ‘ پولیس ‘ سی آئی اے‘ ایف آئی اے‘ حکومت ، وزیر اعظم‘ صدر ‘ چیف منسٹر‘ گورنر سمیت سب کچھ چھپ جاتا ہے اور ہم انتظار میں لگ جاتے ہیں کہ اب تو کمیٹی بن گئی ہے اب تو کچھ نہ کچھ ہو ہی جائے گا ۔ مجرم کیفر کردار تک پہنچیں گے ‘ انصاف کا بول بالا ہو گا‘ حق آئے گا ،چھا جائے گا اورباطل کا منہ کالا ہوگا‘ وغیرہ وغیرہ ۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ کمیٹی کا سفر کیسے شروع ہوتا ہے اور کیسے آگے بڑھتا ہے۔ کسی بھی جرم کی صورت میں پہلی شے تفتیشی کمیٹی ہوتی ہے ، جس پر ظلم کا شکار شخص یا مقتول کا گھرانہ شدید اعترض کرتے ہیں ۔پھر حکومت نوٹس لیتی ہے‘ وزیر اعلیٰ مظلوم کے گھر آتا ہے‘ گورنر نوٹس لیتا ہے اور اعلیٰ سطحی کمیٹی بنا دی جاتی ہے ۔ اب نئی کمیٹی کیونکہ نئی ہوتی ہے اس لیے وہ ہر چیز کا نئے سرے سے جائزہ لیتی ہے ۔ تما م شواہد کا جانچ کر کے یہ کمیٹی تین ماہ میں اپنی رپورٹ حکومت کو ارسال کر دیتی ہے ۔ اس رپورٹ کی شواہد کی روشنی میں حکومت کچھ نہیں کرتی ‘ مظلوم یا اس کے ورثاء عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور یو ں تیسری کمیٹی قائم ہو جاتی ہے جس کو جوڈیشل کمیٹی کہتے ہیں۔ یہ پہلی سنجیدہ کمیٹی ہوتی ہے ا وراس میں شامل جوڈیشل افسران شواہد کی روشنی میں حالات و واقعات کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر اپنی رپورٹ اعلیٰ عدالت کو پیش کر دیتے ہیں۔

عدالت فورا ًایک اور کمیٹی جس کو جے آئی ٹی کہتے ہیں ‘قائم کرتی ہے اور معاملہ اس کے سپرد ہو جاتا ہے۔ یہ جے آئی ٹی انتہائی تجربہ کار افسران پر مشتمل ہوتی ہے جن کو ہم عام زبان مین زیرک بھی کہتے ہیں۔ دوبارہ سے انتہائی باریک بینی سے تمام شواہد کا بھرپور جائزہ لیتی ہے اور پھر اپنی رپورٹ اعلیٰ عدالت کو پیش کرتی ہے ۔رپورٹ میں اکثر تفتیش کے ان حصوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جن پر دوباری تفتیش کی جانی چاہئے یا کمزور تفتیش والے حصوں کی بات کرتی ہے ۔ ایک دو ادنیٰ پولیس افسران کی معطلی سفارش کے ساتھ مقدمے کی از سرے نو تفتیش کے لیے ایپیک کمیٹی قائم کرنے کی سفارش ہوتی ہے جو روز کی بنیاد پر مقدمے میں تفتیش کی رفتار کا جائزہ لیتی ہے ۔

قربان جائیے عدل و انصاف کی رفتار پر بس اگر ہم کمیٹی کمیٹی کھیلنا بند کردیں تو نہ صرف انصاف جلد ملنا شروع ہو جائےگا بلکہ ملک میں عدل کے حقیقی دور کا آغاز بھی ہو جائےگا۔ ویسے کبھی کبھی دل میں خیال آتا ہے کہ سوال کروں کہ اگر کوئی سوچے تو ماضی میں بننے والی تما م کمیٹیوں کااحوال نکال لائے ۔یقین کریں ! قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک پوری قوم کے ساتھ صرف ایک کھیل کھیلا گیا ہے جس کا نام ہے کمیٹی کمیٹی!۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے معاشعے میں انصاف کا حصول مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوچکا ہے ۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں