ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: قومی ٹیم میں تبدیلیوں کا مطالبہ زور پکڑ گیا!

پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی بہترین ٹیموں میں سے ایک رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پاکستان کو سوٹ کرتا ہے۔

دوہزار سات میں پاکستان پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا۔ بھارت کے ہاتھوں سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست ہوئی۔ دو ہزار نو میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی قومی ٹیم کی کارکردگی زبردست رہی۔ پاکستان ٹیم یونس خان کی کپتانی میںورلڈ چیمپئین بنی۔

اس کے بعد بھی ہونےو الے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی کارکردگی بہترین رہی۔ کئی بار پاکستان ٹاپ فور میں شامل رہا۔ لیکن اس بار پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کو دیکھتے ہوئے لگ رہا ہےکہ پاکستان پہلا راؤنڈپار کرلے تو بڑی بات ہوگی۔

دیگر بورڈز عالمی کپ کے لئے سالوں پہلے تیاری شروع کردیتے ہیں اور پاکستان میں ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل تک بھی معلوم نہیں کس نے کیا کرنا ہے اور کون ٹیم میں ہوگا اور کون نہیں ہوگا۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ دو ہزار اکیس کیلئے اعلان کردہ ٹیم وہ واحد ٹیم ہے جس کے اعلان کرنے کے چوبیس گھنٹے بعدہی ا س میں تبدیلی کرنے کا اعلان بھی کردیا گیا۔ ۔ پی سی بی سولہ اکتوبر تک ٹیم میں تبدیلی کرسکتا ہے۔ لیکن کیا تبدیلی کرنی ہے یہ بھی چیف سلیکٹر محمد وسیم کو نہیں معلوم۔

جیسے پہلے سوشل میڈیا پر ٹیم بنائی گئی ویسے ہی سوشل میڈیا پر ٹیم میں تبدیلی بھی کردی جائے گی۔ راولپنڈی میں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ جاری ہے۔ ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل کھلاڑی نیشنل ٹی ٹوئنٹی میں مکمل ناکام ہیں، اعظم خان بیٹنگ میں ناکام، سدرن پنجاب کی جانب سے کھیلتے ہوئے اعظم نے تین میچوں میں11 کی اوسط صرف 35رنز بنائے۔وکٹ کیپنگ میں بھی اعظم کچھ خاص نہ کرسکے۔صہیب مقصود کا بلا بھی ایونٹ میں اب تک خاموش 3 میچوں میں صرف 42رنزبنائے ۔

خوشدل شاہ کیلئے بڑے بڑے دعوی کیے گئے لیکن وہ بھی توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔انہوں نے3 میچوںمیںبنائے 51 رنز۔۔آصف علی بھی ایک دو چھکے لگاکر وکٹ گنوا دیتے ہیں ۔ یعنی اگر محمد رضوان اور بابراعظم نہ چلے تو مڈل آرڈر مل کر پچاس رنز بھی مشکل سے بناسکے گا۔ کھلاڑیوں کی موجود ہ کارکردگی دیکھ کر ٹیم میں تبدیلیوں کامطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

ذرائع سے خبریں آرہی ہیں کہ ٹیم میں پانچ تبدیلیوں کا امکان ہے۔ آصف علی، صہیب مقصود، اعظم خان، خوشدل شاہ اور حارث رؤف کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کی جگہ فخر زمان، عثمان قادر، شعیب ملک ، وہاب ریاض اورشاہنواز داہانی کی واپسی ہوسکتی ہے۔ فخر زمان ایک مستند اوپنر ہیں ، ضروری ہے کہ ان سے اوپنگ ہی کرائی جائے بابر ون ڈاون پوزیشن پر آئیں تو بہتر ہوگا۔ اگر کمبی نیشن میں ایسا ممکن نہیں تو فخر کو ون ڈاون کھیلایا جائے اس سے نیچے انہیں ضائع کرنے کے مترادف ہوگا ۔

مڈل آرڈر میں محمد حفیظ کے ساتھ شعیب ملک کی جوڑی کامیاب رہے گی۔ دونوں تجربہ کار ہیں اور دباؤ برداشت کرنا بھی جانتے ہیں۔ بولنگ میں شاہین آفریدی ، حسن علی کے ساتھ تجربہ کار وہاب ریاض فائدے مند ثابت ہوں گے۔ اسپن میں آپشن اچھے ہیں ، شاداب خان اور عماد وسیم فرسٹ چوائس ہوں گے ۔ دونوں بولنگ کے ساتھ بیٹنگ بھی کرلیتے ہیں۔ عثمان قادر کا آپشن بھی کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن عثمان کی بیٹنگ میں کمزوری کے سبب حتمی گیارہ میں جگہ مشکل ہوجاتی ہے۔

قومی ٹیم کے قائم مقام ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق، عبدالرزاق اور کپتان بابر اعظم کے لیئے حتمی الیون کا انتخاب سب سے مشکل کام ہوگا۔ لیکن اگر کمبی نیشن کلک کرگیا تو اس ورلڈ کپ میںبھی قومی ٹیم فینز کو خوش ہونے کا موقع فراہم کرسکتی ہے۔

بابر خان: بابر خان تیرہ سال سے زائد عرصے سے اسپورٹس رپورٹنگ سے وابستہ ہیں۔ڈریسنگ روم میں ہونے والے تنازعات سے لیکر کھلاڑیوں کی کارکردگی تک ہر خبر پر نظر رکھتے ہیں