The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

پاکستان سپر لیگ سیزن سیون: بڑے ناموں کے بجائے پرفارمر ز کے انتخاب کو ترجیح؟

پاکستان سپر لیگ سیزن سیون کیلئے تمام ٹیمیں مکمل ہوگئیں۔ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں پی ایس ایل سیون کی ڈرافٹنگ ہوئی۔

تمام ٹیموں نے 18 رکنی اسکواڈ مکمل کرلیے۔ تمام ہی ٹیموں نے بڑے بڑے ناموں پر جانے کی بجائے پرفارمر ز کے انتخاب کو ترجیح دی۔ پلاٹینیم کٹیگری میںیونیورس باس کرس گیل، ٹی ٹوئنٹی نمبرٹو بولر تبریز شمسی، ڈیوڈ ملر اور تھیسارا پریرا جیسے ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کو کسی ٹیم نے پک نہیں کیا۔ کچھ مقامی سپر اسٹارز بھی منتخب نہ ہوسکے۔ نیشنل ٹی ٹوئنٹی میں عمدہ پرفارم کرنے والے زاہد محمود کو کسی فرنچائز نے پک نہیں کیا۔

مسٹری اسپنر ابرار احمد نیشنل ٹی ٹوئنٹی اور قائداعظم ٹرافی میںوکٹوں کے انبار لگادیے لیکن کوئی فرنچائز ان کی صلاحیتوں کو پی ایس ایل کےقابل نہ سمجھ سکی۔

ایک اورکھلاڑی جو ڈرافٹ میں نظر انداز کیا گیا۔ وہ احمد شہزاد ہیں جنہیں تینوں فارمیٹ میں سنچری بنانےکااعزاز حاصل ہے۔ پی ایس ایل میں ایک ہزار سے زائد رنز اسکور کرچکے ۔فٹنس اچھی ہے فیلڈنگ کمال کی کرتے ہیں لیکن اس کے باجودکسی فرنچائز نے ان کا انتخاب نہیں کیا۔ پوری دنیا میں لیگ کرکٹ میں اپنا لوہا منوانے والے سہیل تنویر کو سلور کٹیگری میں منتخب کیا گیا۔

لیگ کے سب سے کامیاب بیٹسمین ، ایونٹ میں تین سنچریاں،دوبار بہترین بلے باز، بہترین وکٹ کیپر بلے باز اور کئی بار پلئیر آف دی میچ کا ایوارڈ جیتنےوالے کامران اکمل کے ساتھ پہلے پی ایس ایل انتظامیہ نے ان کی کٹیگری میں تنزلی کرکے زیادتی کی۔ پھر ان کی فرنچائز پشاور زلمی نے بھی ان کے ساتھ بہت برا کیا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by kamran Akmal (@kamranakmal23)

کامران اکمل نے پشاور زلمی کے لئے ہمیشہ بہترین پرفارم کیا۔ پشاور نے ٹائٹل جیتا تو کامران اکمل کی کارکردگی سب سے نمایاں تھی۔ لیکن پشاور زلمی نے اتنے تجربہ کار کھلاڑی کو سلور کٹیگری میں منتخب کیا۔یہ کھلاڑی کے ساتھ نا انصافی ہے کرکٹ کے ساتھ بھی نا انصافی ہے۔ کوئی بات نہیں فرنچائز اونرز کی اپنی مرضی ہے۔لیکن یہ مرضی پاکستان کو اسٹارز سے محروم کردے گی۔

سینئیر کھلاڑیوں کو عزت دینا سکھیں۔ اگر انہیں باہر کرنا اتنا ہی ضروری ہے تو ان سے بات کرکے عزت کے ساتھ رخصت کریں ایسے تکلیف پہنچا کر پریشان کرکے زبردستی کرکٹ سے دور کرنے کی کیا ضرورت ہے۔عزت سے جائیں گے تو کسی نہ کسی لیول پر وہ پی ایس ایل کے لئے کام آئیں گے۔

پی ایس ایل سیون کے لئے تمام ٹیموں نے نئے کھلاڑیوں کا انتخا ب کیا ہے چاہے وہ لوکل ہوں یا غیر ملکی۔ اب ٹیموں میں شامل نوجوان کھلاڑیوں کو ایونٹ میں پرفارم کرنے کا بھرپور موقع بھی فراہم کیا جائے تو کیا ہی اچھا ہے۔ پاکستان کے پاس باصلاحیت کھلاڑیوں کی کھیپ جمع ہونا شروع ہوجائےگی۔ اور اگر انہیں صرف ٹیم کے ساتھ گُھما پھرا کر چھوڑد یا گیا تو پھر کوئی فائدہ نہیں۔

اس سے کھلاڑی کا نقصان تو ہوگا ہی ۔ پاکستان کرکٹ کے مستقبل کا بھی نقصان ہوگا۔ پی سی بی کو نئے کھلاڑیوں کے انتخاب اور انہیں بھرپور موقع دینے کے حوالے سے فرنچائز کے ساتھ مل کر کوئی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ ورنہ عمر خان، ابتسام شیخ ، حسان خان، عماد عالم اور ان جیسے ناجانے کتنے کھلاڑی ایمرجنگ میں کھیلے پرفارم بھی کیااور پھر کہیں غائب ہوگئے۔ اس بار بھی ایک ایسا ہی کرنا ہے تو پھر ایمرجنگ کھلاڑیوں کو شامل کرنے کا کیا فائدہ۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں