The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

ہمارا کیا قصور ہے؟

قومی ٹیم سری لنکا میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہی ہے لیکن فائنل الیون کے اعلان کے بعد سے ہی چیف سلیکٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ ٹیم میں فواد عالم اور سرفراز احمد سمیت کراچی کے کئی نوجوان کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

12 سال بعد پاکستان کے کسی ٹیسٹ میچ میں کراچی یا سندھ کا کوئی کرکٹر شامل نہیں ہے۔ فواد عالم، سرفراز احمد، نعمان علی، سعود شکیل اور شان مسعود کو گال ٹیسٹ میں پانی پلانے کا کام ملا ہے۔ شائقینِ کرکٹ اور تجزیہ کاروں کی جانب سے سوالات کیے جارہے ہیں کیا ملک کے سب سے بڑے شہر کے کرکٹر اب قومی سطح پر کھیل کے میدان میں‌ نمائندگی کے قابل نہیں رہے ہیں؟

اس سوال کا جواب تو چیف سلیکٹر محمد وسیم صاحب ہی دے سکتے ہیں کیونکہ اگر فواد عالم کی گزشتہ سیریز میں کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس بار باہر رکھا گیا ہے تو کیا اظہر علی کی کارکردگی حالیہ سیریز میں متاثر کن رہی ہے۔

یقیناً اظہر علی بھی مسلسل بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے ہیں لیکن وہ فائنل الیون کا حصہ ہیں جب کہ فواد عالم ایک سیریز خراب کھیلنے پر ٹیم سے باہر ہیں۔ فواد عالم کی جگہ نوجوان کھلاڑی سلمان علی آغا کو ڈیبیو کروایا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ فواد عالم کو ٹیم میں شامل رکھ کر یہ ٹیسٹ میچ جیت کر اگلے میچ میں نوجوان کھلاڑی کو موقع دیتے۔

نعمان علی، سعود شکیل اور شان مسعود بھی چیف سلیکٹر کی نظر سے نہ گزرے یا یوں کہہ لیں کہ ان کی گڈ بک میں شامل نہیں ہیں، شان مسعود نے کاؤنٹی میں شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن وہ بھی ٹیم سے ڈراپ ہوئے۔ اسی طرح نعمان علی، سعود شکیل بھی ڈومیسٹک میں بہترین کارکردگی دکھانے کے باوجود فائنل الیون کا حصہ نہیں ہیں۔

اگر فائنل الیون پر نظر دوڑائی جائے تو مڈل آرڈر بیٹنگ کمزور دکھائی دیتی ہے۔ اگر آؤٹ آف فارم اظہر علی کوئی بڑی اننگز نہیں کھیلتے تو پھر محمد نواز اور ڈیبیو کرنے والے سلمان علی آغا کب تک ٹیم کو آگے لے کر چل سکیں گے یہ بھی ایک سوال ہے اگر فواد عالم اور سرفراز ٹیم میں ہوتے تو وکٹ پر ٹھہر کر مزید رنز جوڑ سکتے تھے۔

سابق فاسٹ بولر تنویر احمد نے یہ تک کہہ دیا کہ سرفراز احمد پی سی بی کا اس طرح کا رویہ کیوں برداشت کر رہے ہیں جس نے ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی جتوائی اسے ہی کنٹریکٹ کی سی کیٹیگری دی گئی ہے۔

امید کی جاسکتی ہے کہ چیف سلیکٹر محمد وسیم آئندہ سیریز میں کارکردگی کو دیکھتے ہوئے فواد عالم، سرفراز احمد، سعود شکیل، نعمان علی کو موقع دیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email