The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

جشنِ سالِ نو: اب کئی ہجرہوچکے اب کئی سال ہوگئے

ابتدائے آفرینش سے آج تک نجانے کتنے سال بیت چکے بلکہ یوں کہیے کہ کتنی صدیاں یا کتنے ہزاریے بیت گئے نہ کوئی گنتی نا شمار۔ معلوم تاریخ کا قدیم ترین کلینڈر دجلہ و فرات کے دامن میں بسنے والے میسوپوٹیمیا یعنی عراق سےمنسوب کیا جاتا ہے یعنی کے پانچ ہزار سال قبل پہلی مرتبہ وقت کوناپنے کی کوشش کی گئی۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک جماعت نے اسکاٹ لینڈ میں بھی ایک قمری کلینڈر سسٹم دریافت کیا جس کی تاریخ دس ہزار سال بتائی جارہی ہے لیکن اس پرابھی تحقیق جاری ہے۔

خیر ہمارا موضوع یہ نہیں ہے کہ کلینڈر کب ایجاد ہوا بلکہ ہمارا غم تو یہ ہے کہ بدلتی ہوئی تاریخ کے ساتھ ہم بحیثیت
قوم خود کو کس حد تک تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ اگر دیکھا جائے تو صرف 67 سال پرانی ہے اور یہ دورانیہ قوموں کی زندگی میں ایک لمحے کی سی حیثیت رکھتا ہے لیکن ہمیں ہرگز نہیں بھولناچاہیئے کہ اس 67سال کی تاریخ کے پیچھے ہمارا ایک ہزار سال کا ماضی بھی ہے جس پر ہمیں بے پناہ فخربھی ہے لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ماضی کو مستقبل سے منسلک کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اس کی ایک سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے حال میں مست جی رہے ہیں نا ماضی سے کوئی سبق سیکھتے ہیں نہ مستقبل کی کوئی فکر کرتے ہیں۔

گذشتہ دنوں سانحہ پشاور پر پوری قوم نے ایک لمحے کی یکجہتی کا مظاہرہ کیا لیکن میں نے اس وقت ہی کہا تھا کہ چار
دن کی بات ہے سب بھول جائیں گے اوروہی ہوا، حکومت نے سرکاری سطح پرسالِ نو کی تمام ترتقریبات منسوخ کردیں لیکن ہم بحیثیت قوم شاید اس اعلان کا مطلب ہی نہیں سمجھے جبھی نصف شب ملک کے ہربڑے شہر میں جشن کاسماں تھا فائرنگ اورآتش بازی عروج پرتھی سڑکوں پرنوجوانوں نے دھوم مچا رکھی تھی اب برائے مہربانی کوئی یہ نہ کہے کہ ایسا نہیں ہوا تھا کہ یہ مناظر کیمرے کی آنکھ نے ساری دنیا کو دکھائیں ہیں اور میرے لبرل دوست یہاں یہ بحث بھی شروع نہ کریں کہ کیا مرنے والوں کے ساتھ مرجایا جائے، یہ قدامت پسند سوچ ہے وغیرہ وغیرہ۔

دنیا کی ہرزندہ قوم سالِ نو کا جشن دھوم دھام سے مناتی ہے اوریقیناً انہیں ایسا کرنے کا حق بھی ہے کہ وہ سارا سال اس ایک دن کے لئے محنت کرتے ہیں کہ ان کا آنے والا کل ان کے آج سے بہتر ہو۔ ہرشخص اپنی کارکردگی کا جائزہ خود لیتا ہےاور اکتیس دسمبر کو جب وہ اپنے سارے سال کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تو مستقبل کے لئے کی گئی اپنی محنت پرمطمئن ہو کرجشن مناتے ہیں لیکن ہم کیوں اس دن خوشی میں دیوانے ہوجاتے ہیں ہم نے ایسا کونساتیرمارلیا تھا جو جشن منانے نکل آئے۔ کیا سال 2014 اس سے پچھلے سال سے بہترتھا یا2015 کے لئے ہم نے اتنی تیاریکرلی ہے کہ ہم جشن منائیں کہ آئندہ سال اچھا گزرنے والا ہے۔

اتنی جلدی بھول گئے کہ ابھی دو ہفتے پہلے تو دہشت گردی کے عفریت نے تمھارے 135 معصوم بچوں کو ان کے
اپنے خون میں نہلایا تھا، ابھی تھرکا قحط ختم تو نہیں ہوا تقریباً روز ہی ایک معصوم کلی اپنی ماں کی گود میں ہمکنے سے پہلے مرجھا جاتی ہے، پنجاب میں لوگوں نے اپنے ہی بچوں کوغربت سے تنگ آکربیچنا اورمارنا بند تو نہیں کیا، کراچی میں بے گناہ نوجوانوں کی لاشیں گرنے کا سلسلہ ابھی جاری ہے نا اور بلوچستان سے آج بھی اجتماعی قبریں دریافت ہوتیں ہیں۔ تو یہ سارے واقعات اور ان سب کے ہوتے ہوئے سڑکوں پر ایک بے ہنگم ہجوم کی صورت نکل کرناچنا کیا معنی۔ ارے نام نہاد غیرت کے ٹھیکیداروں! بلی کا بچہ بھی خطرے میں ہو تو وہ اسے بچانےکے لئے حد سے گزر جاتی ہے، آخرتم کس نشےمیں مدہوش ہو؟ دہشت گردی اوربھوک کے عفریت تمھارے بچوں کو کھائے جارہے ہیں تمھیں حق کس نے دیا کہ تم جشن مناؤ کیا تمھارے خطے کی یہی روایات ہیں کیا یہاں تعزیت کا رواج ختم ہوگیا؟ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ پوری قوم کل رات گھر سے نکلتی چوراہوں پرجمع ہو کر لہو میں نہاجانے والے بچوں کے لئے دعا کرتی شمعیں جلاتی اورعہد کرتی کہ جب تک ایک اک قاتل کو تختۂ دارتک نہیں پہنچائیں گے سکون سے نہیں بیٹھیں گے، عزم کرتے کہ اب تھرمیں کوئی بچہ غذا کی قلت سے نہیں مرے گا لیکن حیف صد حیف، تم دنیا جہاں کو بھلا کرسڑکوں پربھنگڑے ڈالتے ہے۔

پاکستان کے عظیم مفکرجون ایلیاء نے ایک موقع پر کہا تھاکہ’پاکستان میں اکیسویں صدی آئی نہیں ہےبلکہ زبردستی
لائی گئی ہے‘۔ اپنے دور میں پاگل اورسنکی کہلانے والے جون اس معاشعرے کی اخلاقی بدحالی کو نوحہ کرتے کرتے
مرگئے۔ لوگ انہیں پاگل اورسنکی کیوں نا کہتے آخروہ سچ بولتے تھے اورہمارے معاشرے میں آج کوئی سچ سننے،
بولنے اورسچ کے ساتھ ڈٹ جانے پرتیارنہیں۔

جس سے کوئی خطا ہوئی ہو کبھی
ہم کو وہ آدمی ملا ہی نہیں

لیکن میں یہ سب کچھ کیوں لکھ رہا ہوں اورآپ یہ سب کیوں پڑھ رہے ہیں میری اورآپ کی بلا سے کسی کا بھی بچہ
مرجائے ہمارا گھر تو محفوظ ہے نا۔ جی نہیں جناب! یاد رکھئیے گا۔

میں آج اگر زد پہ ہوں تو خوش گماں نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

ابھی بھی وقت ہے اے اہلِ پاکستان! جس کسی نشے میں مست ہو ہوش میں آجاؤ، آج اور ابھی اپنی انفرادی حیثیت میں یہ فیصلہ کرو کہ میں پورا سال اپنی اوراپنی بساط کے مطابق اپنے ملک کی معاشی اورسماجی بہتری کی ہرممکن کوشش کروں گا اگر آئندہ سال تمھیں لگے کہ دنیا کی دوڑ میں تم اوریہ وطن ایک قدم بھی آگے بڑھ گئے تو پھرجشن منالینا ورنہ اجتماعی خودکشی کی طرف تو بڑھ ہی رہے ہو، جشن ہوگا اورخوب ہوگا لیکن وہ جشن تم نہیں تمھارے دشمن منائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email