دولت اسلامیہ یا را ؟

کراچی میں یہ کوئی پہلی کاروائی نہیں کہ جسکی ذمہ واری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہو ، فرق صرف اتنا سا ہے کہ پہلے کاروائیاں چھوٹے پیمانے پر تھیں ( جیسا کہ پولیس اہلکاروں پر حملے ) اس بار دولتِ اسلامیہ نے اپنی بھرپور موجودگی کا نہ صرف احساس دلایا بلکہ شہر کو مستقل نئے خطرات سے بھی دوچار کردیا ہے ، اب ریاست کے لئے کہاں تک یہ ممکن ہے کہ مختلف کمیونٹیز کی بسوں کو سیکیورٹی فراہم کرے ، دولتِ اسلامیہ اپنے مقاصد و اہداف کو حاصل کرنے کے لئے انتہائی سفاکی سے اپنے سپاہیوں کو بروئے کار لاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی  سطح پر دہشتگرد قرار دی گئی القاعدہ کی عالمی تنظیم نے دولتِ اسلامیہ سے فاصلے اختیار کیئے!۔

سب جانتے ہیں کہ اسماعیلی کمیونٹی پرامن انداز میں پاکستان میں بستی ہے اور تعلیم و کاروبار کیطرف زیادہ توجہ دیتی ہے  (یہ اور بات ہے کہ پرنس کریم آغا خان کا اسپتال جس طرح شہریوں کی کھال اتارتا ہے وہ  داستان بھی رلانے والی ہے بہرحال یہ الگ  بحث ہے ) لیکن دولتِ اسلامیہ نے انہیں انکے عقائد کی بنیاد پہ نشانہ بنایا جس انداز میں ہلاک شدگان کو سر گردن اور سینے پہ گولیاں ماری گئیں ، اسی انداز میں دولت اسلامیہ عراق میں اپنے مخالفین کو نشانہ بناتی رہی ہے گزشتہ دنوں افغانستان میں اسی انداز میں دولتِ اسلامیہ نے ہزارہ کمیونٹی کی بس مسافروں سمیت  اغواء کی تھی، دولتِ اسلامیہ جس طرح کے وسائل رکھتی ہے اسے دیکھتے ہوئے کئی جہادی گروپوں کے لئے اسمیں بڑی کشش ہے اور پھر دولتِ اسلامیہ کی جانب سے خلافت کا اعلان اس رومانس کو مزید بڑھاوا دے رہا ہے  دولت اسلامیہ اہل تشیع اسماعیلیوں اور قادیانیوں کے لئے عدم برداشت کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس طرز عمل کو  ہمارے خطے کے بعض انتہا پسند گروہ بے حد پسند کرتے ہیں۔

کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس کاروائی کے پیچھے ہندی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہوسکتا ہے جو روز اول سے ہی پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہے (برسبیل تذکرہ میاں صاحب کے ہند سے کاروباری مفادات بهی وابستہ ہیں ) پاک چین اقتصادی راہدری کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے ہندو ایران مکمل طور پہ متحرک ہوچکے ہیں، گو کہ پاکستانی ادارے اس سازش سے نمٹنے کی تیاریوں میں ہیں لیکن یہ حقیقتاً بہت بڑا چیلنج ہے ، لیکن مجھے ذاتی طور پہ لگتا ہے کہ سانحہ کراچی میں دولتِ اسلامیہ کے ملوث ہونے امکانات زیادہ ہیں را اور دولتِ اسلامیہ کا گٹه جوڑ ممکن نہیں لگتا کیونکہ دولتِ اسلامیہ میں ہندی مسلمانوں نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے (القاعدہ برصغیر کے سربراہ مولانا عاصم عمر بھی ہند کے شہری ہیں ) اسی لئے ہند و دولتِ اسلامیہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان القاعدہ کو پہنچایا جبکہ دولتِ اسلامیہ کا کوئی رہنما نہ تو یہاں گرفتار ہوا اور نہ ہی امریکہ کے حوالے کیا گیا (یہ بھی یاد رہے کہ نائن الیون کے وقت دولت اسلامیہ کا موجودہ شکل میں وجود نہیں رکھتی تھی) لیکن اسکے باوجود دولتِ اسلامیہ اپنی خلافت کو خراسان یعنی کہ افغانستان و پاکستان تک توسیع دینے کے اعلان کرچکی ، اسکا مطلب یہ  ہے کہ پاکستان اس جنگ کے بالکل نئے مرحلے میں داخل ہورہا ہے ضرب عضب کے نتیجے میں تحریکِ طالبان پاکستان کمزور ضرور ہوئی ہے لیکن دولتِ اسلامیہ کی صورت میں نیا خون خوانخوار حملوں کے زریعے اپنا وجود منوا رہا ہے!۔

صورتحال نہایت گھمبیر پیچیدہ اور تلخ ہے ، آرمی چیف اور وزیراعظم کراچی پہنچ چکے ہیں ماضی کیطرح کئی کمیٹیاں تشکیل دی جاچکیں ہیں سب حکام نوٹس نوٹس کھیل چکے ، مجھے پوری امید ہے کہ خدانخواستہ اگلے حملے تک ہم اس حملے کو پرانا اور معمول کا سمجھ کر  بھول چکے ہونگے ، کیونکہ یہی دستور ہے یہی ریت و روایت ہے۔

یاد رکھئیے یہ جنگ صرف بمباری جعلی مقابلوں اور زید زمان جیسے تجزیہ نگاروں کے تعاون سے نہیں جیتی جاسکتی اسکے لئے عدل ، نظریاتی عزم و ارادے دین اسلام کے حقیقی تصور کو رائج کرنا ہوگا تاکہ ہم دو کشتیوں سے نکل ایک ہی میں سوار ہوسکیں ورنہ مارا ماری یونہی مقدر رہے گی!!۔

پس تحریرجس علاقے میں یہ کاروائی ہوئی وہاں کے تھانے لاکھوں میں فروخت ہوتے ہیں ، اور وہ قبضہ مافیا کی پسندیدہ ترین جگہوں میں سے ایک ہے اور یہ سب ریاستی اداروں کی سرپرستی میں ہوتا ہے۔

فیض اللہ خان: فیض اللہ خان اے آروائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور وارز ون ‘ ایکسپرٹ ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان قدرتی حدِ فاصل کا کام دینے والے قبائلی علاقے میں جاری جنگ اوراس سے ملحقہ امور پر خصوصی گرفت رکھتے ہیں