The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

محاذِ جنگ سے ایک گمنام سپاہی کا آخری خط

امی  جان
اسلام علیکم

جنگ کے بادل پاکستان کے افق پرچھا چکے ہیں اور شاید یہ میرا آخری خط ہو پتا نہیں یہ خط آپ کو ملے بھی یا نہیں بہرحال آپ کو اپنا احوال بھیجنے کا فریضہ تو ادا کرنا ضروری ہے نا۔ امی آپ ہمیشہ کہتی تھیں کہ بیٹا یہ جان وطن کی امانت ہے جب بھی وقت پڑے تو کبھی پیچھے مت رہ  جانا ورنہ میں دودھ نہیں بخشوں گی آپ کو فخر ہونا چاہیئے آج صبح منہ اندھیرے ہونے والے دشمن کے حملے کا ہم نے منہ توڑ جواب دیا ہے۔ دشمن اپنی طاقت کے نشے میں مست ہماری سرحد کی جانب چلا آرہا تھا اور اس کا خیال تھا کہ وہ ہمیں پھونک مارکرچراغ ِ سحری کی مثل  بھجادے گا پر ہمارے اور اپنے درمیان موجود واضح فرق کو بھول گیا تھا امی! اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ اپنی طاقت پرنازاں میدانِ جنگ میں آیا ہواہے اور ہم اپنے جذبہ ایمانی کی بنا پر اس کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار کی مانند حائل ہیں۔

امی جان ایک میں ہی کیا یہاں آپ جیسی کتنی ہی عظیم ماؤں کے فرزند موجود ہیں جو کہ اس پاک سرزمین کے دفاع میں اپنی جان نچھاور کرنے کے جذبے سے سرشار ہیں اور اسی جذبے کے تحت ہم نے دشمن کے حملے کا شیرانہ دلی سے جواب دیا ہے۔ میں کیا بتاؤں آپ کو اس وقت کا منظرجب دشمن کےتوپ خانے  کی گھن گرج ہماری فضاؤں میں گونجی اورہم نےاس بزدل دشمن کو جواب دینا شروع ہوا تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ موت عقاب کی صورت دشمن کے تعاقب میں ہے دشمن نے ہزار گولے برسائے لیکن ہماری ہمت کی دیوارنہ ڈھا سکے گویا یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے ہم موت بن کردشمن کے تعاقب میں ہیں اوراپنے زعم میں مست ہماری موت بن کر آنے والے خوفزدہ ہوکرالٹے قدموں بھارت کی سمت دوڑے چلے جارہے تھے۔

امی اس وقت سمجھ آیا کہ یہ وطن ہمیں کس قدرعزیز ہے ایک جانب دشمن کی بڑی رجمنٹ تھی تو دوسری جانب ہماری مختصر کمپنی لیکن ہم میں سے ہراک جوان کا حوصلہ اس قدربلند تھا کہ ہم تو شہادت کی آرزو دل میں لئے بڑھ بڑھ کر دشمن پرجھپٹ رہے تھے لیکن موت تھی کہ ہمیں اپنی بانہوں میں سمیٹنے کے بجائے ہمارے قدموں کی خاک کو چوم کردشمن کو خاک میں ملا رہی تھی۔

امی اطلاعات ہیں کہ جنگ طویل ہوگی اور بھارت کی اس جارحیت کا بھرپورسبق سکھایا جائے گا نجانے کیوں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب میں آپ کو نہیں دیکھ پاؤں گا آپ کے ہاتھوں کو نہیں چوم سکوں گا اگرواقعی ایسا ہو آپ وعدہ کریں کہ آپ روئیں گی نہیں بلکہ فخر سے ہرایک کو بتائیں گی کہ آپ کا یہ بیٹا پاک فوج کے اس ہراول دستے میں شامل تھا جس نے دشمن کے پہلے اورشدید وارکو اپنے سینے پر روکا۔

مجھے اندازہ ہے کہ میرے بعد آپ کو یقیناً کچھ پریشانیاں لاحق ہوں گی لیکن امید ہے کہ چھوٹا سمجھداری کے ساتھ گھرکے معاملات سنبھال لے گا آپ نے گذشتہ خط میں لکھا تھا کہ آپ نے میرے لئے کسی لڑکی کا انتخاب کیا ہے اسے بتا دیجئے گا کہ میں نے اپنی منزل کا انتخاب کرلیا ہے میرے ماتھے کا مقدرشادی کا سہرا نہیں جرات کا تمغہ ہے جسے وصول کرنے شاید آپ کو آنا پڑے۔

میں پھرکہتا ہوں امی جان معلوم نہیں جنگ کے اس ماحول میں یہ خط آپ تک پہنچے یا نہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ آپ میرے جذبات سے آشنا ہیں میں نے جب کبھی بھی آپ کو ستایا ہو آپ کی نافرمانی کی ہوتواس کے لئے مجھے معاف کردیجئے گا۔

خدا حافظ
امی جان
میدان میں مارا جانے والا گمنام سپاہی

ستمبر 06، 1965

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں