The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

ہم وہ قوم ہیں جسے کسی سحر کی ضرورت نہیں

صبح کی پہلی کرن ابھی نہیں پھوٹی تھی تاہم رات نے اپنے پرسمیٹنا شروع کرچکے تھے۔ ہرروزکی طرح آج بھی مؤذن مسجدوں سے اللہ کی وحدانیت کا پکارپکارکراعلان کررہے تھے لیکن ہمارے لئے کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ بیتے دنوں کی طرح یہ بھی ایک معمول کی طرح کا دن تھا جس میں ہم سب نے اٹھنا ہے اوراپنے اپنے معمولات میں مشغول ہوجانا ہے۔ ایسے معمولات جن کا نا کوئی سرہے اورنا ہی پیر، نا راستہ ہے اور نا ہی کوئی منزل ایک عجیب ان دیکھی سمت ہے کہ جس میں ہم سب سیدھے ریس کے گھوڑوں کی طرح دوڑے چلے جارہے ہیں۔

ہم بحیثیت قوم ایک ایسی تنویمی نیند میں ڈوبے ہیں کہ جس سے نا تو جاگنا ممکن ہے اورنا ہی ہم جاگنا چاہتے ہیں ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کس عامل نے ہمارے دماغوں کو سحرزدہ کردیا ہے کہ ہم اس کے معمول بنے روز اٹھتے ہیں اپنے روزمرہ کے کاروبارِ زندگی انجام دیتے ہیں پھر اپنی سماجی مصروفیات میں شریک ہوتے ہیں لیکن یہ سب کام ہم ایک ایسی نیند کے عالم میں کرتے ہیں کہ جس سے جاگنے کی ہم میں قوت ہی نہیں، ہاں ایک دو بار ایسا ضرور ہوا کہ ہم اس نیند سے چونکے ضرورلیکن مجال ہے جو جاگنے کی کوشش کی گئی ہو۔

ہمارے عامل نے اس قدر خاموشی سے ہمارے ذہن پر تسلط قائم کیا ہوا ہے کہ ہم جان ہی نہیں پاتے کہ ہم غلام ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ ہم آزاد ہیں اوراسی نشے میں سرشاراقوامِ عالم کی برابری کے غفلت آمیزخواب کے مزے لوٹتے رہتے ہیں حالانکہ اقوامِ عالم کی نظرمیں ہم صرف ایک وحشت زدہ خوابیدہ مخلوق سے کچھ زیادہ نہیں جسے وہ انسان کا درجہ دینے پرتیارنہیں اوردیا بھی کیوں جائے انسان انہیں سمجھا جاتا ہے کہ جو سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جب کہ ہم اس نشیلی نیند کے زیرِ اثراپنا اچھا اوربرا سوچنے کی صلاحیت سے یکسرعاری ہیں۔

ہمارےعامل نے ہمارے ذہنوں میں یہ خیال راسخ کردیا ہے کہ ہمارے پاس ایٹم بم ہے اور ہمارے ملک میں بین الاقوامی طرز کی شاہراہوں، میٹرو بسوں کا جال بچھ رہا ہے لہذا ’سب ٹھیک ہے‘ اورہم اسی سب ٹھیک میں مبتلا رہتے ہیں اورہمیں نظر ہی نہیں آتا کہ ہماری گلی کے نکڑ پر کوئی معصوم بچہ ہاتھ پھیلائے روٹی کی بھیک مانگ رہا ہے، ہم دیکھ ہی نہیں پاتے کہ کسی کمسن بچی کی غذائی قلت کےسبب دم توڑتی آنکھیں ہم سے کچھ سوال کرتی ہیں، ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ جوان لڑکی جو ہمارے گھرمیں کام کاج کرکے اپنے گھرکا چولہا جلاتی تھی گزشتہ شب دو گلی پیچھے کسی گھرمیں اس کی عزت تارتارکرنے کے بعد اسے قتل کردیا گیا اورکوئی بزرگ باپ محض اس جلدی میں سڑک پرحادثے کا شکارہوگیا کہ اس کے جوان بیٹے گھرکا سودا دیرسے لانے پراسے اپنے غیض وغضب کا نشانہ نہ بنائیں لیکن ہم سب یہ کیوں دیکھیں کہ یہ تو جاگتی آنکھوں کا نوحہ ہے اورہم سب سورہے ہیں۔

جون ایلیاء نے ایک جگہ لکھا تھا کہ ’’دنیا کے کچھ خطوں کے رہنے والوں نے اپنے لئے وہ گم گشتہ جنت تشکیل دے لی ہے کہ جہاں سے انہیں نکالا گیا تھا‘‘۔ وہ تو خدا بھلا کرے ہماری اس غیر معمولی اورلافانی نیند کا کہ جس کے نشے میں ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ دنیا کہاں کی کہاں پہنچ چکی ہے، غاروں میں رہنے والا انسان اب ستاروں سے آگے کہ جہاں کی باتیں کررہا ہے۔

دن ختم ہوگیا اوررات اپنے پورے جوبن پرآگئی یہ رات بھی گزرجائےگی اورنہیں صبح آجائے گی لیکن ہماری نیند میں کوئی فرق نہیں آئے گا اورہم اسی طرح تنویمی نیند کے زیرِ اثرسوتے رہیں گے کہ ہم نے کبی جاگنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ دنیا قیامت کی چال چل رہی ہے اور ایک ہم ہیں کہ یہ اندوہناک سیاہ رات ختم ہونے میں نہیں آتی کہ اقوام عالم میں واحد قوم ہم ہیں کہ جسے کسی سحرسے کوئی غرض نہیں ہے، ہم سورہے ہیں۔

ankara escort
balgat escort
çankaya escort
çebeci escort
demetevler escort
dikmen escort
eryaman escort
esat escort
etlik escort
keçiören escort
kızılay escort
kolej escort
rus escort
sincan escort
yenimahalle escort
alanya escort

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں