ایک شہرتھا عالم میں انتخاب۔۔ حصہ دوئم

میری کوشش یہی ہے کہ اپنے مشاہدات کو معروضی اورغیر متنازعہ رکھوں۔ خصوصا کراچی کے معاملے میں جہاں لسانی فرقہ وارانہ اور تہذیبی اختلافات میں معاشرتی ہم آہنگی پیدا کرنے کی ہرکوشش کو سیاسی ضرورت کی خاطر ناکام کیا جاتا ہے۔ یہ گروہی سیاست وہی کرتے ہیں جن کے معاشی مفادات بد نظمی اور انتشار سے وابستہ ہوں۔ کوئی بھی شہرخطرناک قرارپاتا ہے جب اس میں رہنے والوں کی جان ومال، عزت و آبرو کچھ محفوظ نہ ہو۔ یہ احساس پیدا کیا جاتا ہے اوریہ کام مافیا کے منظم اور مسلح جرائم پیشہ افراد برسرِاقتدارطبقے کی سرپرستی میں کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک شہر’ریوڈی جنیرو‘ ہے جہاں کراچی کی طرح عوام کی اکثریت کو کسی نہ کسی مافیا نے یرغمال بنا رکھا ہے۔


ایک شہرتھا عالم میں انتخاب – حصہ اول


جرائم سے دنیا کا کوئی شہرمحفوظ نہیں لیکن کراچی کے باسیوں کی بے بسی یہ ہے کہ زندگی کی ہرسہولت کو بہتر بنانے کے ذمے داروں نے اپنے خزانے بھرنے کے لیے یہ سہولت کسی مافیا کو فروخت کردی ہے، مثال کے طور پر پانی کی کمی نہیں لیکن پانی کی فراہمی کے ذمے داروں نے مصنوعی قلت پیدا کرکے پانی کی تقسیم کا نظام ٹھیکے پرٹینکرمافیا کو دے دیا ہے۔ اب ٹھیکے دار کی مرضی کہ وہ پانی کی طلب میں خوارشہر کی فراواں مخلوق سے ہر قطرۂ آب کی کیا قیمت وصول کرتی ہے۔

اسی طرح ٹرانسپورٹ مافیا نے شہرسے عوامی سہولت کا ہرذریعہ ختم کیا جس میں ٹرام سرکلرریلوے اور لوکل ٹرین شامل تھی، اس کی پٹریاں تک اکھاڑ پھینکی گئیں اوراسٹیشن ختم ہوگئے، ان پرناجائزتعمیرات کرنے والی مافیا نے قبضہ کیا اور شہر میں وہ بسیں رہ گییں جوانگریزبھی کباڑ سمجھ کے چھوڑگئے ہوں  گے۔ یہ ٹوٹے پھوٹے ’کھڑکھڑ‘ کرتے دھواں چھوڑتے ڈبے تھے جن کی چھت پراورکھڑکیوں اوردروازوں سے مکھیوں کی طرح چمٹے مسافردھوپ بارش میں جان ہتھیلی پررکھ کے سفرکرتے تھے پھر ان کی جگہ عالمی شہرت اختیار کر لینے والی ’’ڈبلیو گیارہ‘‘ جیسی اس میں ذرا مبالغہ نہیں کہ بسوں میں بیٹھ کے میں نے فرش کے سوراخوں سے مخالف سمت میں بھاگتی سڑک کا نظارہ بھی کیا ہے۔ بغیرشیشوں والی کھڑکیوں سے اندرآنے والی بارش میں غسل کا کا لطف بھی اٹھایا ہے۔ اپنی طبعی عمرکو پہنچ کریہ کباڑی کو پیاری ہوئیں تو ویگن آگئی جو بس کے مقابلے میں ایسی تھی جیسے جیل کی کوٹھری کے مقابلے میں پنجرہ۔

فکرِ روزگار میں شہر کےایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر کرنے والے پیچھے لٹکنے یا چھت پر بیٹھنے کا وہی کرایہ دیتے تھے جو اندرکی سیٹ پر تشریف رکھنے والا خوش نصییب دیتا تھا اورکوئی ان سے اس غیرانسانی ظالمانہ سلوک یا قانون کی بات کرے تو یہ بے بس مخلوق اس کو مارنے پرتل جاتے تھے کہ بھاڑمیں جائے تمہارا قانون اور انسانی حقوق کا فلسفہ۔ میں صبح کام کے لیے نکل کے دن بھربھاڑ جھونکنے والا اپنے گھر پہنچنااور روکھی سوکھی کھا کے سونا چاہتا ہوں تاکہ صبح کے سورج کے ساتھ پھردن بھرکی مشقت کے لیے نکل سکوں۔

مجھے متعدد پبلک ٹرانسپورٹ کی اسکیموں کا چشم دید گواہ ہونے کا اعزازحاصل رہا جو صحرا میں خنک ہوا کا جھونکا تھیں۔ ابھی عوام سکون کا سانس بھی نہ لے پائے تھے کہ ختم ہوگئیں، سب سے پہلے دو منزلہ بسیں غایب ہوئیں، پھر سویڈن سے لمبی پرآسائش سیٹوں، ایئرکنڈیشنڈ اورخود کاردروازوں والی بسیں لائی گئیں جو سال گزرنے سے پہیلے غائب ہوگئیں، کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدرارشاد بخاری نے گلشنِ معمارکلب میں لنچ کے بعد مقابلہٗ حسن کے لیے 30 صف بستہ خوبصورت بسوں کا افتتاح فرمایا جن میں سے ایک میرے گھر کے سامنے سے بھی گزرتی رہی۔ پھرایک ایک کرکے یہ بھی غاییب ہوگئیں۔

ان میں سے ایک میں نے ملتان میں دیکھی کہ اس کے ماتھے پر ہنوز’’گلشن معمار‘‘ لکھا ہوا تھا۔ ایسی ہراسکیم کی بسوں کا غائب ہونا وہ جادو تھا جو صرف کراچی کی ٹرانسپورٹ مافیا دکھا سکتی تھی۔ ہراسکیم کے کتبے ’حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گیے‘ کی طرح چند بس اسٹاپ ہیں جو الگ الگ نت نئی طرح سے بنائے گئے لیکن ان میں اب پنکچر شاپ، گنے کے رس کی ریڑھی، جعلی انجن آئل بدلنے والے براجمان ہیں۔ نہ جنوں رہا نہ پری رہی، جو رہی تو وہ نرالی ساخت کی ویگن رہی جو دنیا کے کسی شہرمیں نہ تھی اورمقامی ماہرین تیارکرتے تھے۔ یوں کہ اس میں زیادہ سے زیادہ مسافر بھرے جائیں، خواہ جوتوں کے ڈبے کی طرح ایک کا سراوپرہوتو دوسرے کا نیچے، اس کی چھت دروازوں اور پیچھے کی سیڑھی پراور کھڑکیوں پر مکھیوں کی طرح چپک سکیں۔ بے بس مسافرون کے ساتھ بلا تخصیص مرد و زن کرایہ کمانے والوں کا پرتذلیل رویہ ایک الگ درد بھری کہانی ہے۔

بالاخر ویگنوں بسوں کا دورغلامی تمام ہوا اورچنگ چی کی حکومت آگئی اور ’تن سازی‘ یعنی باڈی بلڈنگ کے مقامی ماہرین نے 4 کی سواری کو 6 پھر 8 اوربالاخر12 کی سواری بنادیا، یہ عذاب اس لیے قبول ہوا کہ ویگن کی قید بامشقت کاٹنے کے عادی حضرات اور خواتین اب بیٹھ کرسفرکرنے لگے تھےاوریہ سستی سواری ہرگلی کے موڑ پر دستیاب تھی لیکن شہر میں حادثات کی شرح بڑھنے کے ساتھ ہر چوری ہونے والی موٹر سایکل کو اس میں جوتا جانے لگا تو عدالت عالیہ میں فریاد پہنچی او ان پر پابندی لگادی گئی۔

ایک بار پھر شہر میں رکشوں کا راج ہوگیا جو دھواں چھوڑتے اچلتے کودتے اپنی گھن گرج کے ساتھ حشرات الارض کی طرح سوئی کے ناکے سے بھی گزرجاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ سڑک آنے کی ہے یا جانے کی۔ کیوں دیکھیں! سیاں بھۓ کوتوال اب ڈر کاہے کا۔ میرا خیال ہے کہ مستقل سفر کرنے والوں کی ہڈیاں ٹوٹی نہیں تو اپنی جگہ سے ضرور کھسک گئی ہوں گی۔ مگر ’’آئے ہے بے بسی عشق پہ رونا غالب‘‘، اب ٹیکسی عنقا ہے۔ میرے جیسے جن کے دم واپسیں برسر راہ ہے، بچے اور خواتین کہاں جائیں اورکیسے جائیں جو رکشا کے سفرکی صعوبت کے متحمل نھیں ہوسکتے اور’بے کار‘ہیں، یوں بھی اس شہر کے انسانی جنگل میں کار چلانا بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے سے زیادہ مشکل ہے۔ اگرکوئی ایسا کرتا ہے تو اس کے لیے بقول منیر نیازی ’ایک دریا ہے جو اس سے بھی بڑا دریا ہے‘، منزل پر پہنچ کے وہ کیا کرے، سواری کو سوار کرلے اور سر پر اٹھائے پھرے کیونکہ پارکنگ ملی تو منزل سے میلوں دور ہوگی اوراسے وداع کہہ کے وہ جائے مطلوب (میں مخصوص کا لفظ موزونیت کے باوجود استعمال نہیں کروں گا) تک دو ’’ٹانگوں‘‘ پر جائے۔

سواری پر چڑھنے کی دعاتوعام لٹکتی نظر آتی ہے لیکن اس سے اترنے کے بعد کی دعا ایجاد نہیں ہوئی کہ ’’اے میرے رب واپسی پرمجھے محنت کی کماٰئی سے خریدی گٰئی اس کار کی ملکیت سے محروم نہ کرنا اور میرے اہل و عیال کو عافیت سے معہ موبائل فون اورنقدوزرگھر پہنچانا‘‘۔

اس صورت حال نے چین، جاپان، پاکستان ہر ملک کی موٹر سائیکل کی خرید کو ہرنوجوان کے لئے عقد مسنونہ سے زیادہ ضروری بنا دیا ہے۔ اب اس دو پہیوں کی سواری سے ہر گلی کوچے اورشاہراہ پروہ گھمسان کا رن پڑتا ہے کہ لگتا ہے صورِاسرافیل پھونکا جاچکا مگر شور میں سنائی نہیں دیا۔ انسانوں کا ایک سیل بے عنان ہے کہ جائز وناجائز کی پروا کیے بغیربہتا جارہا ہے، موٹر سایکل سوار اپنی منکوحہ کو بھی مغویہ کی طرح بھگائے لے جاتا ہے خواہ اسے کسی بس یا ویگن کے نیچے سے گزرنے کی کوشش میں جان سے ہی کیوں نہ گذرنا پڑے۔ اس ٹریفک کی بد نظمی کو ٹریفک پولیس نے بڑی خوبی سے فروغ دیا، ’’اب تم جرم نہیں کروگے تو کیا ہم چالان بھی نہ کریں‘‘ اس فلاسفی کے تحت انہوں نے یہ نظام رائج کیا جو حکومت نہ کرسکی۔ ہرموٹر سایکل والے کو چالان کے بعد 50 روپے کی رسید جاری کی جائے گی جس کے بعد وہ تاریخ اجرا سے ایک ماہ تک شہرمیں ہرقسم کے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے لیے آزاد ہوگا۔ کوئی روکے تو رسید کو فتح کے علم کی طرح لہراتا جاۓ، یعنی اب 50 روپے ماہانہ باقاعدگی سے شہری ٹریفک پولیس کے خزانے میں جاتے ہیں اورایمانداری سے’’حصہ بقدرِجثہ‘‘ کے اصول پرتقسیم ہوتے ہیں۔ غیر موجود حکومت کو کیا پڑی ہے کہ نوٹس لے، (باقی آیندہ)۔

جاری ہے

احمد اقبال: احمد اقبال اردوتخیلاتی ادب کے نامورادیب ہیں، آپ شکاری، اناڑی اورمداری جیسے کئی شہرہ آفاق ناولوں کے مصنف ہیں۔ آپ نے ابتدائی تعلیم راولپنڈٰی سے حاصل کی، جبکہ جامعہ کراچی کے شعبہ اکانومی سے فارغ التحصیل ہوئے۔ ان دنوں آپ راولپنڈی میں مقیم ہیں اورملک کے حالات حاضرہ پرگہری نظر رکھتے ہیں