The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

خدا کے سوا ہر چیز محض سراب ہے

سب تعریفیں اسی کے لیے ہیں لیکن کیسی تعریف کس سے تعریف۔ خود ذاکر خود مذکور۔ خود شاکر خود مشکور۔ وہی محب وہی محبوب۔ کسی چیز کی کوئی حقیقت نہیں حقیقت صرف اسی ایک ذات کی ہے باقی ہر چیز ایک امر اعتباری ہے ۔ہر قطرہ ایک دریا ہے اور ہردریا ایک قطرہ۔اگر ساکن نہ ہو تو کوئی چیز متحرک نہیں۔

متحرک پھر ساکن سے عبارت ہے۔ آخرحقیقت کیا ہے ۔ کون ساکن ہے اور کون متحرک۔ حقیقت کچھ بھی نہیں۔حقیقت صرف اسی ایک ذات کی ہے۔ڈوبتے سورج کو دیکھ کر کوئی کہتا ہے شام ڈھل رہی ہے۔عین اسی وقت کوئی کہہ رہا ہوتا ہے صبح بخیر۔ آخر اوقات کی کیا اوقات ہے۔ حقیقت کیا ہے کچھ بھی نہیں سب امر اعتباری ہے۔ وہی سب کچھ ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔سب پانی پر لکیریں ہیں۔سب ریت کی تحریریں ہیں۔ اس کے راز وہی سمجھے جسے وہ سمجھائے۔طاقتور کوئی نہیں ہوتاشکست کھانے والا کمزور ہوتا ہے طاقتور صرف خدا کی ذات ہے۔

سفید اس لیے سفید ہے کہ سیاہ موجود ہے۔ اور سیاہ پھر سفید سے عبارت ہے۔ ہر کسی کا ایک اپنا رنگ ہے مگر ہر رنگ بے حقیقت ہے۔ہر رنگ کا ایک ہی رنگ ہے  یعنی بے رنگ۔کوئی زمانہ نیا زمانہ نہیں۔سب گزرا ہوا زمانہ ہے۔ ماضی اس لیے ماضی ہے کہ ہم اس کو دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور مستقبل کو ہم مستقبل اس لیے کہتے ہیں کہ ہماری رفتار اس قابل نہیں کہ ہم اس سے آگے نکل سکیں ورنہ ہم مستقبل ہوتے اور مستقبل ماضی۔ بڑی چیز وہی ہے جس سے ہم چھوٹے ہیں ورنہ ہم بڑے اور وہ چیز چھوٹی ہے۔ سردی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی گرمی نہ ہونے کا نام سردی ہے اور گرمی نام ہے جب کسی چیز کا درجہ حرارت آپ کے درجہ حرارت سے زیادہ ہو جائے ورنہ وہ سردی ہی ہے ۔ مادے کی تمام قسمیں سب امرِ اعتباری ہیں۔ روشنی نہ ہونے کا نام اندھیرا ہے ورنہ اندھیرا بذاتِ خود کوئی چیز نہیں اور جن کو اندھیرے میں نظر آتا ہے ان کے لیے روشنی اندھیرا ہے۔

دانے میں پورا شجر پوشیدہ ہے اور شجر سے پھر دانہ آشکار۔ بیماری پیدا کرنے والا بھی وہی اور شفا دینے والا بھی وہی۔ عشق لگانے والا بھی وہی۔ جدا کرنے والا بھی وہی۔ پھر ملانے والا بھی وہی۔ اس کی ذات سمجھ سے ماوراء اس کی صفات لا محدود۔ لیکن اس کے لیے محدود۔ ہے ناعجیب بات ذرا سوچو۔۔۔۔لا محدود ۔۔۔محدود کیسے ہے۔اگر وہ محدود ہے تو پھر لامحدود کیوں؟۔۔۔سوچو۔۔ ۔۔پھر سوچو۔۔۔ھاں بولو۔۔۔نہیں آئی نا سمجھ۔۔ یہ باتیں ایسے سمجھ آتی بھی نہیں جب تک کوئی سمجھانے والا نہ ہو۔ سب معرفتیں اسی سے ہیں۔ وہ جس کے لیے چاہے اس کا سینہ کشادہ کر دے اور وہ سب کچھ سمجھا دے جس کا وہ متحمل ہے۔ اور جس کے لیے چاہے اس سے اس کا سب کچھ چھین لے اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

اس کی قدرتیں بہت عجیب ہیں ۔ آسمان کسی کے لیے تو آسمان ہے

اور کسی کے لیے یہی آسمان زمین ہے۔ قیامت کا دن کسی کے لیے تو پچاس ہزار برس کے برابر ہے اور کسی کے لیے صرف چند لمحے جتنا۔ حضرت شاہ آلِ رسول مارہروی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک مرید سوچ رہا تھا کہ معراج شریف کا قصہ بڑا ہی عجیب ہے۔ عالمِ بالا پر تو کئی برس گزر گئے اور یہاں ایک پل بھی نہ گزرا۔ آپ وضو فرما رہے تھے۔ فرمایا ذرا اندر جا کر میرا تولیہ تو لانا اندر گیا تو مسجد کی وہی کھڑکی جس پر ہر روز کئی بار نظر پڑتی تھی آج عجیب سماں پیش کر رہی تھی ذرا جھانکا تو کیا
دیکھا کہ اندر ایک بہت ہی خوبصورت باغ ہے اس کے اندر چلا گیا خوب سیر کی۔

وہاں ایک دنیا آباد تھی ۔شادی بھی کر لی۔بچے بھی ہو گئے۔ کئی برس گزر گئے۔ ادھر سے پیر صاحب نے آواز دی بھائی کہاں رہ گئے تم ابھی تک تولیہ لے کر نہیں آئے۔ سننے والے نے وہ آواز سنی۔ وہیں سے واپس لوٹا۔ کھڑکی سے باہر آیا۔

تولیہ لے کر حاضر ہوا توادھر ابھی وضو کے قطرے بھی خشک نہیں ہوئے تھے فرمایا ہاں بولو۔ اب سمجھ آیا معراج کا واقعہ کہ نہیں؟ سمجھانے والے جب سمجھاتے ہیں تو سب سمجھ آ جاتا ہے ورنہ سب بیکار کی باتیں لگتی ہیں ۔

وہ ہر چیز پر قادر ہے وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ کبھی کسی نے سوچا کہ ہم اس کے کتنے سارے ناموں سے واقف ہیں۔ ایک سو دو سو تین سو چارسو۔۔۔بس اور کتنے۔۔ایک ہزار ۔۔۔۔لیکن اس کی صفات تو لا محدود ہیں آخر اس کی باقی صفات کون کونسی ہیں ۔ ضرور سوچنا مگر کسی صاحبِ حقیقت کی نسبت کے بغیر نہیں ورنہ شیطان سے بڑا دھوکے باز کوئی نہیں۔

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

اس کی صفات جاننے سے پہلے اپنی صفات پر غور کرو۔ پہلے اپنے آپ کو پڑھنا سیکھو ورنہ سب بیکار ہے۔

پڑھ پڑھ علم ہزار کتاباں
کدی اپنے آپ نوں پڑھیا نئیں
جا جا وڑدے مندر مسیتی
کدی من اپنے و چ وڑیا نئیں

وہ بے مثل اس کا کلام بے مثل اس کا کلام محض وہ الفاظ نہیں جو اوراق پر لکھے ہوئے ہیں۔ پارہ ۲۵ سورۃ شوریٰ آیت ۵۲ میں اس نے اپنے کلام کے لیے روح کا لفظ استعمال فرمایا۔ وہ روح کیا ہے کبھی غور تو کرو ۔

اے اللہ! ہمیں معاف فرما دے۔ ہمارے گناہوں سے در گزر فرما ۔ ہم تجھے کیا سمجھیں گے ہم تو یہ بھی نہیں جان سکتے کہ تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کی ابتداء کیا ہے۔ انتہاتو دور کی بات ہے۔ اور پھر تیری ذات۔۔۔اے اللہ! ان ٹوٹے پھوٹے چند لفظوں کو قبول فرما لے۔ اگر تیری قبولیت نہ ہو تو سب بیکار ہے۔ بے شک تیری رحمت بہانے ڈھونڈتی ہے اور بے شک تو بہت ہی مہربان نہایت رحم والا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں