The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

کیا ہمارے دینی اعمال تحقیق پرمبنی ہیں؟

کہتے ہیں جو اپنے آپ کو غلط سمجھنے کا حوصلہ رکھتا ہو وہ ہدایت سے کبھی محروم نہیں رہ سکتا لیکن ہمارے ہاں تو رواج ہی یہی ہے کہ جو میں کہہ رہا ہوں بس وہی صحیح ہے۔ ہم کبھی بھی تحقیق کر نے نتیجہ نہیں نکالتے بلکہ نتیجہ نکال کر تحقیق کرتے ہیں۔ اور تو اور اپنی ہر بات کو اسلام کے مطابق کہہ دینے میں بھی بہت جلد بازی دکھاتے ہیں۔ محض سنی سنائی اور معاشرے میں جاری ہر بات کو بغیر تحقیق اور حوالہ جات کے اسلامی کہہ دیتے ہیں۔ بہت سی ایسی باتیں ہیں جنہیں ہم اسلامی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ اسلامی نہیں ہوتیں۔

ہماری تبلیغ ہمیں اللہ سے ڈرنا تو سکھاتی ہے لیکن اللہ سے محبت کرنا نہیں سکھاتی۔ ایک دوسرے کو کافر کہنا ہم اپنا ایمان سمجھتے ہیں۔ ہم گناہگار سے نفرت کرکے سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت دیندار کام کیا ہے۔ ہم انسانوں سے پیار کیوں نہیں کرتے۔

جب ہم ہندؤں کے یا کسی بھی غیر مسلم مذہب کے پیشواؤں کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے پیشواؤں کو دو چار گالیاں نکالنا اپنے ایمان کا ضروری حصہ سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن مجید میں سورہ انعام آیت 108 میں ارشاد ہوتا ہے ” اور انہیں گالی نہ دو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں” اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی گئی کہ آپ جب ان کے خداؤں کو گالی دیں گے تو وہ جہالت کی وجہ سے اللہ کو بھی گالی دیں گے اور دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ حضرت توکل شاہ انبالوی فرماتے ہیں کہ ہمیں چاہیے کہ ہم غیر مسلموں کے پیشواؤں کو برا بھلا نہ کہیں کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کون تھے ہو سکتا ہے وہ اپنے زمانےکے اللہ کے نبی ہوں اور بعد میں ان کے ماننے والوں نے ان کی تعلیمات کو بدل دیا ہو۔


برا وہ نہیں ہوتا جو برائی کرتا ہے


عیسائیوں کو ہم چُوڑے کہہ کر پکارنا ثواب سمجھتے ہیں حالانکہ ہمارا مذہب اہل کتاب کی عورتوں کے ساتھ نکاح تک جائز قرار دیتا ہے۔ ان کا کھانا ہم جائز نہیں سمجھتے جبکہ قرآن مجید میں سورہ مائدہ آیت 5 میں ارشاد ہوتا ہے “اور کتابیوں کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے” ہم دوسروں کے بارے نفرت کا اظہار تو ایسے کرتے ہیں جیسے ہمیں اپنے خاتمے کا بہت پکا یقین ہے کہ بہت صحیح خاتمہ ہو گا۔

ایک بزرگ کا جب وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا کہ فلاں شہر میں فلاں جگہ ایک عیسائی رہتا ہے میں اس کو اپنا خلیفہ بنانے کا اعلان کرتا ہوں اس کو جا کر میری خلافت کی نوید سنا دینا۔سب حیران تھے کہ ہم مسلمان دن رات اللہ اللہ کر کے بھی اس نعمت سے محروم اور وہ عیسائی ہو کر بھی آپ کی خلافت کا حقدار۔۔۔جیسے ہی اس عیسائی کو آپ کی خلافت کی خبر سنائی گئی اسی وقت اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے  کہ تمام منازل طے ہو گئیں۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں