The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

اسلام اورجمہوریت‘ پاکستان کی سیاست

ہمارے ہاں ایک عام تاثر یہ ہے کہ جمہوری نظام اسلام کے سیاسی نظام کے قریب قریب ہے لہذا پاکستان میں رائج اس نظام کو اسلامی نظام کہنے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہئے اس تاثر کو یہ بات مزید پختہ کرتی ہے کہ ملک میں نافذ دستور العمل کو تقریباً تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل ہے لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ دستور یا اسکا کچھ حصہ خلاف اسلام ہو۔

اختلافی نوٹ کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ جمہوریت 1400سال سے زیادہ پرانی ھے جب اسلامی حکومت مدینہ منورہ میں قائم ہوئی تب جمہوریت یونان میں موجود تھی ۔اگر اسلام میں جمھوریت کی ہلکی پھلکی پیوندکاری بھی ممکن ہوتی تو نظام اسلام کے قیام کے وقت ہی ہوجاتی۔ میں سمجھتا ہوں اسلام مروجہ جمہوریت کی نفی کرتا ھے کیونکہ مروجہ جمہوریت میں افرادکا شمار کیا جاتا ہے خواہ وہ اندھے ،لولے لنگڑے، جاہل ،کم عقل ہوںیا سمجھدار تعلیم یافتہ سب کو افرادی اعتبار سے برابر قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح ایک فرد ایک ووٹ کے حق کو بنیاد بناتا ھے جب کا اسلام کا کہنا ھے اندھے اور آنکھ والے برابر نہیں جاہل اور علم والے برابر نہیں اور یہ بات ازل سے واضح ھے کہ علم والوں کی تعداد جاہلوں کے مقابلہ میں ہمیشہ کم رہی ھے اور رہے گی اور جمہوریت میں کیونکہ اکثریت کو حکمرانی کا حق ملتا ھے لہذا جاھل اور کم عقل لوگ ہی حاکم رہیں گے۔

اگر بات کی جائے لفظ جمہوریت کے لغوی و معنوی مطالب کی تو یہ بات واضح ہوتی ھے کہ جمہوریت کا بہترین طرزِحکومت خوداحتسابی، شفافیت اور قانون کی حکمرانی ہے جو ابھی تک پاکستان میں ناپید ہے سیاستدانوں کا طرز سیاست عوام کو گمراہ کرنے کا باعث بنتا آ رہا ہے۔

عوام بہتر مستقبل،احتساب اور جوابدہی کے سہانے سپنوں میں شب خون کا کڑوا گھونٹ پی جاتے ہیں لیکن نتیجہ وہاں بھی صفر ہی نکلتا ہے۔جمہوریت اور شب خونوں کے درمیان غریب عوام پس کر رہ گئے ہیں محب وطن پاکستانیوں کے سارے خواب چکنا چور ہوچکے ہیں کیونکہ کوئی بھی ان کے مرض کا علاج نہیں کرسکا اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسے کوئی ٹھوس امکانات نظر آ رہے ہیں۔

پچھلے چند سالوں سے کرپشن نے جس طرح پاکستان میں اپنے پنجے گاڑ ے ہیں اسے اکھاڑ پھینکنا جمہوری حکومت کے بس میں نہیں رہا کیونکہ حکمران خودکرپشن اور لوٹ مار کے الزامات کی زد میں ہیں۔کرپشن کے خلاف بھر پور مہم جوئی کے تناظر میں ہی کچھ حلقے فوجی شب خون کی سابق سپہ سالار جناب راحیل شریف کی ذات سے امیدیں وابستہ کر چکے تھے تاکہ کرپشن اور لوٹ مار کا یہ کلچر کسی طرح اپنے انجام کو پہنچے۔

پچھلے کئی دنوں سے پانامہ لیکس نے جمہوری منظر نامے کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے اور کوئی شخص یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس عدالتی جنگ کا انجام کیا ہو گا۔اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ وہ قوتیں جووزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کو زیر اثررکھنا چاہتی تھیں اب بھی طاقتور ہیں ۔اور اب اس میں بھی کسی کو شک نہیں رہا کہ جناب راحیل شریف کے سیاسی عزائم ہر گز نہیں تھے کیونکہ وہ اپنے تمام گزر جانے والے چیفس سے بالکل مختلف تھے وہ ایک پیشہ ور فوجی تھے اور ان کی اس پیشہ وارانہ سوچ نے فوج کو نیا حوصلہ اور احترام بخشا۔

بہت سے سیاسی لٹیرے جز وقتی مفاد پرست سیاستدان جنرل راحیل شریف کی منتیں کر رہے تھے کہ وہ پاکستان کو کرپشن اور لوٹ مار کی دلدل سے نکالنے کیلئے نواز شریف حکومت کو چلتا کریں لیکن انھوں نے کسی کی نہ سنی بلکہ اپنی پیشہ وارانہ خدمات کی بجا آوری میں ڈٹے رہے ان کا خلوص اور عزم پاکستان کی نئی پہچان بن گیا کوئی بھی فورم ہو جنرل راحیل شریف کے جرائت مندانہ اقدامات کا حوالہ ایک حقیقت ہے جس گھر میں دو نشانِ حیدر ہوں اس گھر کی فوجی صلاحیتوں سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں۔

دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے مشن میں ڈٹے رہے جس کی وجہ سے پورا پاکستان ان کا دل و جان سے مشکور ہے اور جب تک راحیل شریف زندہ ہیں یہ احترام قائم رہے گا۔ انسان ایک دفعہ ہیرو بن جائے تو پھر اسے ہیرو شپ کی مسند سے ہٹانا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہوتا۔قومی امنگوں کا ترجمان بننا انتہائی مشکل کام ہوتاہے کیونکہ اس تمغہ کو سینے پر سجانے کے لئے ذاتی خوا ہشات اور اغراض کی قربانی دینی پڑتی ہے مال و دولت کی ہوس سے دل کو روکنا پڑتاہے اور اپنی نگاہیں قومی مفاد پر مرکوز کرنی پڑتی ہیں۔

وطن کی محبت میں کڑوا گھونٹ پینا پڑتا ہے انسان خواہشات کا غلام بن جائے تو اس کی آواز بے اثر ہوجاتی ہے اس میں جرات اظہار کا فقدان ہو جاتاہے اس کی لیڈر شپ کو زوال آ نا شروع ہو جاتاہے اس کے احکامات پر عمل ایک سوالیہ نشان بن کر رہ جاتاہے۔جنرل راحیل شریف الفاظ کا غا زی نہیں بلکہ کردار کا غازی ہے اور عوام اس کی ایک آواز پر لبیک کہنے کیلئے ہمہ وقت بے تاب رہی۔ جو جنرل اگلے مورچوں پر اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھانے کو اپنا اولین مقصد قرار دے اس کی فوج کو دنیا کی کوئی طاقت شکست سے ہمکنار نہیں کر سکتی۔

جنرل راحیل شریف نے فوج میں جو وطن کی مٹی سے ایک نئے انداز میں عقابی روح پھونکی ہے اسے آنے والاکوئی بھی جنرل ماند نہیں کر پائیگا۔جنرل راحیل شریف کی ریٹائر منٹ کوئی اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ جنرل راحیل شریف ہر فوجی جوان کے اندر ایک نئے عزم اور حوصلہ کے ساتھ موجود رہے گا۔فانی دنیا میں آنا جانامعمول کے واقعات ہیں لیکن وہ انسان جو کسی ہدف کی علامت بن جائے ہمیشہ کیلئے امر ہو جاتا ہے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email