احسان اللہ احسان سپردگی، کس کے مفاد میں؟

پاکستان کی تاریخ کے چند ہولناک دہشت گردی کے واقعات میں نومبر 2010 کا کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والا دھماکہ بھی ہے ۔ سول لائنز کراچی میں واقع سی ٹی ڈی کا دفتر جہاں میں بیٹھتا تھا‘ وہاں تحریک طالبان پاکستان اور لشکرجھنگوی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فدائی حملہ آوروں کی مدد سے پہلے فائرنگ کی اور پھربم حملہ کردیا، اس دھماکے میں ایک ہزار کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، بارود سے بھرے ٹرک کو میرے دفتر سے ٹکرادیا اور اس کے نتیجے میں سی ٹی ڈی اور ایف سی کے جوانوں سمیت بائیس افراد شہید ہوگئے ۔ اس  حملے کی رات مجھے میرے موبائل فون پر  ایک کال کراچی کے علاقے لانڈھی کے ایک چھوٹے سے پرائیوٹ کال سینٹر سے آئی جس میں مجھے جہادی گروپوں کے روایتی طریقہ یعنی بہت ہی تمیز اور شائستگی کے ساتھ مخاطب کرکے میرے بچنے پر زیادہ خوش نہ ہونے کا مشورہ دیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ  اگلے حملے کے لئے بھی تیار رہنے کی دھمکی بھی دے ڈالی ۔ کال کرنے والا لشکرِ جھنگوی کا امیر عطاء الرحمان عرف نعیم بخاری تھا ۔ میں نے اس کے اسٹائل میں ہی نہایت تمیز اور اطمینان سے اس کی پہلے تو اچھے طریقے سے طبیعت صاف کی اور پھر اگلے حملے کے لئے تیار رھنے والی دھمکی کے جواب میں اسے کہا کہ دیکھتے ہیں پہلے وہ مجھے مارنے میں کامیاب ہوتا ہے یا میں اُس تک پہنچتا ہوں۔ اس بات کا انکشاف اس نے فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اپنی انٹیروگیشن میں بھی کیا ہے ۔

اس حملے کے کچھ عرصے بعد مجھے اسی طرح کی ایک اور کال موصول ہوئی ، یہ کال  وزیرستان کے ایک نمبر سے کی گئی تھی اوراس مرتبہ کال کرنے والے شخص نے اپنا تعارف احسان اللہ احسان ترجمان تحریکِ طالبان پاکستان کی حیثیت سے کروایا۔ اس شخص نے مجھے اور سی آئی ڈی کے تمام افسروں کو اسلام کا دشمن ، مرتد  اورامریکی غلام کہتے ہوئے متنبہ  کیا کہ آپ لوگوں کی موت کا پروانہ جاری ہوچکا ہے اور عبرتناک موت کیلئے تیار ہوجاؤ وغیرہ وغیرہ ۔ احسان اللہ احسان نے پاکستان بھرکے میڈیا کو بھی مجھ سمیت سی ٹی ڈی کے دیگر افسروں شہید چوھدری اسلم، راجہ عمر خطاب اور خرم وارث شامل کے خلاف فتوے سے آگاہ کرتے ہوئے ہمیں کافر تک قرار دے ڈالا اورہم لوگوں کی موت اور گرفتاری پر انعام بھی مقرر کیا۔ یہ خبر پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز اور پرنٹ میڈیا کی ہیڈلائنز بھی بنی۔

جو شخص دوسروں کی موت کے سرٹیفکیٹ بانٹتا پھرتا تھا اور ہر وقت اپنی جیب میں مرتد اور کافر قرار دینے کے فتوے لئے میڈیا پرفخریہ طور پر معصوم بچوں ، عورتوں سمیت دیگر  انسانی جانوں کی ہلاکتوں اور تباہی کی ذمہ داری قبول کرتا تھا اب وہ اپنی ہی تنظیم کے جاری جہاد اور طرزِعمل کو اسلام اور انسانیت کے خلاف قرار دیتا ہے۔ یہ وہی ترجمان تحریکِ طالبان احسان اللہ احسان ہے جس کے بیانات انتہائی فاخرانہ اور تکبرانہ ہوتے تھے۔ ابھی پاکستانی عوام اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا رہے ہوتے تھے کہ میڈیا پر احسان اللہ احسان کا بیان آتا تھا کہ یہ فلاں حملے کا بدلہ لیا ہے اور اسی طرح فوجیوں اورپولیس والوں کو جہنم واصل کرتے رہیں گے ، یہ وہی شخص ہے جو خود کش دھماکوں کے بعد دھماکے کرنے والے بمباروں کی ویڈیو اورتصاویر جاری کرتا تھا۔  کالعدم تحریکِ طالبان اور بعد میں جماعت الاحرار کے اسی دہشت گرد کمانڈر اور ترجمان احسان اللہ احسان نے گزشتہ دنوں ہتھیار پھینک کر اپنے آپ کو پاک فوج کے سپرد کردیا۔

احسان اللہ احسان کا سب سے بڑا جرم کیا ہے؟


 ذرائع کہتے ہیں کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پاکستانی افواج کی تابڑتوڑ کارروائیوں کے بعد افغانستان سے نیٹ ورک چلانے والے پاکستانی دہشت گرد گروپ اب امریکی ڈرون کارروائیوں کی وجہ سے افغانستان میں بھی اپنے آپ کو غیرمحفوظ تصور کرنے لگے ہیں اور ان میں اختلافات اور ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے بداعتمادی کی ایسی فضاء قائم ہوچکی ہے جس سے ان کا شیرازہ بکھرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ بہت سے طالبان کمانڈرز بھارتی اور افغان ایجنسیوں کے اثر رسوخ سے بھی تنگ ہیں اور پاکستانی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال کرقانون کے سانے پیش ہونے کے لئے بھی تیار ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری ایجنسیاں سابقہ منحرف طالبان رہنماؤں کی مدد سے کام کررہی ہیں۔ احسان اللہ احسان کے ہتھیار پھینکنے اوراپنے آپ کو فوج کے سپرد کرنے میں بھی عصمت الّلہ معاویہ نامی منحرف پنجابی طالبان کمانڈر اورپاکستان وافغانستان کے طالبان معاملات پرغیرمعمولی دسترس کے حامل ایک صحافی  نے بھی اس سلسلے میں ضمانتی کا کردار ادا کرتے ہوئے احسان اللہ احسان کو قومی دھارے میں لانے کی  کوشش کی۔

اب دہشت گرد تنظیم کا سابق ترجمان احسان اللہ احسان ایک ویڈیو انٹرویو میں حیران کن انکشافات کرچکا ہے۔ احسان اللہ احسان نے پاکستانی طالبان اور دیگرجنگجو گروپوں کے افغان خفیہ ادارے ”این ڈی ایس ”  اور بھارتی خفیہ ادارے ”را” کے ساتھ قریبی رابطوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح الفاظ  میں کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ہر کارروائی کی ”را” اور این ڈی ایس سے خوب قیمت وصول کی ہے۔  بھارتی خفیہ  ادارہ ”را” طالبان کو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے اہداف دیتا ہے اورہرکارروائی کے لئے فنڈنگ بھی وہی کرتے ہیں۔

احسان اللہ احسان نے مزید کہا کہ پاکستانی طالبان کا اسلام اورجہاد سے  کوئی تعلق نہیں یہ پاکستان کے دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں تنظیم کو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے دشمنوں سے پیسے ملتے ہیں وہ پاکستان میں تخریب کاری کے لئے اسرائیل تک سے مدد اور پیسے لینے کو بھی تیار ہیں ۔ حکیم الّلہ محسود کی ہلاکت کے بعد طالبان میں امیرمقرر کرنے کے مسئلے پر اختلافات کے حل کے لئے ملا فضل اللہ کو قرعہ اندازی کے ذریعے تحریک طالبان کا امیر بنایا گیا جس کی اخلاقی حالت یہ ہے کہ اس نے اپنے ہی استاد کی کم عمر بیٹی سے زبردستی شادی رچائی ہوئی ہے۔

احسان اللہ احسان کے انکشافات کی فہرست تو طویل ہے لیکن مجھے یاد ہے سال دوہزار بارہ میں جب پاکستانی فوج کی طرف سے وزیرستان میں آپریشن شروع کیا گیا، تو یہاں پر موجود طالبان جنگجو افغانستان کے مختلف علاقوں کی طرف بھاگ نکلے۔ ان میں سے کچھ گروپ ایسے تھے جو پہلے سے افغان انٹیلی جنس کے ساتھ رابطے میں تھے ان کو تو افغان حکومت نے محفوظ حکومتی علاقوں میں منتقل کردیا اورکچھ گروپ جو افغان طالبان کے بہت قریب تھے انہیں طالبان نے اپنے زیر سایہ علاقوں میں  رہنے کیلئے جگہ دیدی  اس طرح افغان طالبان کو پہاڑوں پر لڑنے کاتجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں دہشت گردی کی کاروائیوں کا وسیع تجربہ رکھنے والی ایک مؤثر قوت میسر آگئی۔ یہی وجہ ہے کہ  افغانستان کے بیشتر شہری علاقوں میں اچانک ہی سرکاری اداروں ، پولیس اور فوج پر حملوں میں  تیزی دیکھنے میں آگئی۔

دوسری طرف افغان اینٹیلی جنس اور اس کے حلیف بھارتی خفیہ ادارے ” را ”  کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اس کی چھپر چھاؤں میں رہنے والا گروپ جماعت الاحرار تھا۔ اس گروپ کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے منہ مانگی رقوم دی جانے لگی۔ اس گروپ کے نظریات بہت حد تک داعش سے مماثلت رکھتے ہیں لیکن اس گروپ نے ابھی تک داعش کی بیعت نہیں کی ہے ۔ جبکہ یہ گروپ پہلے ہی تحریک طالبان  پاکستان سے اختلافات کا اظہار کرکے الگ ہو چکا تھا ۔ جماعت الاحرار اور افغان و بھارتی خفیہ اداروں کے گٹھ جوڑ سے افغان طالبان اچھی طرح واقف تھے اسی لئے اس گروپ کو یہاں پر کوئی پذیرائی نہ ملی ۔  جماعت الاحرار نے مہمند ایجنسی اور اس سے ملحقہ علاقے واپس حاصل کرنے کے لیے افغان و بھارتی اداروں کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے  کا منصوبہ بنایا ۔ جماعت الاحرارکو اب افغانستان کے علاقوں سے پاکستان کے خلاف  فنڈنگ اور افرادی قوت  کی کمک ملنا شروع ہو چکی تھی  اس کو اب پاکستان سے اپنی تنظیم کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کا مسئلہ بھی درپیش  نہ تھا، اس لیئے اس نےاپنی تنظیم کے لئے پاکستان کے خلاف ہر قسم کی مدد کو جائز سمجھا۔ صرف یہی گروپ افغان اور بھارتی اداروں کے ہاتھوں میں نہیں کھیل رہے بلکہ سوات کے ملا فضل اللہ کا گروپ، لشکر جھنگوی ،اور القائدہ برصغیر  بھی نمایاں ہیں جنہوں نے ان ایجنسیوں کے ہاتھوں میں  کھیلتے ہوئے پاکستان کے شہروں کو خون میں نہلانے کا مقابلہ شروع کردیا۔

احسان اللہ احسان تحریکِ طالبان پاکستان سے الگ ہونے والے  جماعت الاحرار  گروپ کا ترجمان بن چکا تھا۔ جماعت الاحرار اور فضل اللہ گروپ میں  تنظیمی اختلافات کی وجہ سے اس کے لئے ممکن نہیں تھا کہ وہ فضل اللہ گروپ میں شامل ہو، افغان طالبان اور داعش کے قریب سمجھے جانیوالے جنگجوؤں کےلئے اسکی کوئی اوقات نہیں تھی اس لیے اس کی ادھر بھی جگہ نہیں تھی۔ القائدہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد کسی بھی پاکستانی طالبان گروپ پر بھروسہ نہیں کرتی تھی اوراس کی نظر میں پاکستانی طالبان کی دھڑے بندی اور بے لگام سیٹ اپ کی وجہ سے القائدہ پر برائی آئی اور وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے در بدر ہونے پر مجبور ہوئے ، ان ہی گروپوں کی آپس کی لڑائی اور مخبریوں کی وجہ سے آئے روز امریکی اور نیٹو فورسز کی کامیاب چھاپہ مار کاروائیاں ، ڈرون حملوں  میں پاکستان اور  افغانستان میں القائدہ کی اعلیٰ قیادت کی ہلاکت کی وجہ سے القائدہ میں شمولیت کے دروازے بھی احسان اللہ احسان پر بند تھے ۔ ایسے وقت میں صرف ایک ہی راستہ فوج کے سامنے سرنڈر کرنا تھا۔جہاں اس کو پنجابی طالبان کے سابقہ ترجمان عصمت اللہ معاویہ کی طرح پشاور میں محفوظ گیسٹ ہاؤس اور بلٹ پروف گاڑی کے علاوہ اس کی حفاظت پر معمور حفاظتی دستہ اور  سب سے زیادہ  ڈرون حملے سے بے خوف زندگی اور تحفظ کا احساس مل سکتا تھا۔

موت کے خوف سے احسان اللہ احسان نے پنجابی طالبان کے اہم کمانڈر عصمت اللہ معاویہ کے ذریعے اپنے معاملات طے کرنے میں اپنی بہتری سمجھی اور جب اپنی واپسی کا عندیہ دیا تو یہ عصمت اللہ معاویہ نے پاکستانی خفیہ اداروں کو اس بات پر قائل کیا کہ  احسان اللہ احسان کی واپسی سے ریاست کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے بہت سے دروازے بند ہوسکتے ہیں۔ میرے ذرائع  کے مطابق احسان اللہ احسان نے 6 فروری کو پاک افغان سرحد پر چمن کے نزدیک خود کو اپنی بیوی اور بچے کے ہمراہ حکام کے حوالے کیا۔

احسان اللہ احسان کے سرنڈر کرنے سے پاکستانی فوج کے لیئے یہ ایک سنہری موقع تھا جب انہیں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنے والی  تنظیموں کے خلاف اندر کا بھیدی مل گیا جس نے افغان و بھارتی  ایجنسیوں کا پاکستانی طالبان کی پشت پناہی کا پورا کچا چٹھہ کھول کے رکھ دیا۔  پاکستان نے بہت پہلے افغانستان میں متعدد بھارتی قونصلیٹ دفاتر کھولے جانے کیخلاف افغانستان اور  بھارت سے جن خدشات کا اظہار کیا تھا آج وہ سو فیصد درست ثابت ہوئے ہیں ۔  پاکستان نے باربار افغانستان سے کہا کہ ملا فضل اللہ اور اس کے دہشتگرد افغان سرزمین کو استعمال کرکے پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں مصروف ہیں اس لئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے مگر اس نے ان کے ٹھکانوں کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا جوابی طور پہ افغان حکومت بھی پاکستان پر افغان طالبان کی پشت پناہی کے الزامات لگاتی ہے۔

اس وقت پاکستان پر پوری دنیا کی نظریں ہیں اور جہاں پاکستان کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے وہیں پر ضربِ عضب آپریشن پر ستائش بھی کی جاتی ہے۔  پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پلنے والے دہشت گرد گروپوں کو اب افغان و بھارتی حکومتوں  کی جانب سے کھلم کھلا ہر قسم کی مدد ملنا بھی شروع ہو چکی ہے  ۔ پاکستانی فوج سمجھتی ہے کہ اس کو ان حالات سے نمٹنے کیلئے ایک طویل جنگ نظر آ رہی ہے اور اسکے پاس ایک موقع ہے کہ  وہ ان گروپوں کو بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکیں اور وہ اس طرح کے  مواقع سے فائدہ اٹھائیں ۔

ہمیں فوج کی نیت پر کبھی کوئی شک نہیں رہا لیکن کیا ضروری تھا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان کی وڈیو کے بعد ایک بڑے چینل پر فرمائشی ٹائپ انٹرویو کا اہتمام کرکے شہیدوں کے خاندانوں کو اذیت سے دوچار کیا جاتا؟۔

احسان اللہ احسان کی سپردگی اور ٹی وی پر ہشاش بشاش مسکراتے چہرے کے ساتھ انٹرویو نشر ہونے کے معاملے پر ملک بھر میں پر فوج پر سخت تنقید بھی کی جارہی ہے اور اسے شہید فوجیوں، پولیس کے افسر و جوانوں کے علاوہ معصوم شہریوں کے خون سے غداری قرار دیا جارہا ہے ۔ شہیدوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ایک دہشت گرد ایک قاتل کو ہیرو بناکر پیش کیا جا رہا ہے،  اس کو فوج کی تحویل میں مسکراتا ہوا جب اُجڑی گود والی مائیں دیکھیں گی تو کیا سوچیں گیں؟  ہمارے سامنے وہ معصوم کم عمر بچے ہیں جو ان کے کہنے پر پھٹ گئے‘ وہ عسکری اداروں کے جوان ہیں جو ان کی نفرت کا نشانہ بنے‘ پاکستان کا چپہ چپہ انہوں نے  کھنڈر بنادیا،  قریے قریے شہر شہر انہوں نے مقتل گاہیں سجائیں، ماؤں کے لختِ جگر سرِ عام ذبح کرڈالے، بہنوں بیٹوں کے سہاگ اجاڑ دیئے گئے۔

جنرل راحیل شریف اور فوج نے ان کے گھمنڈ کو توڑا ان کی خودساختہ سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجائی اور انہیں حقیقی ریاست کی طاقت دکھائی ، میں اب بھی اس بات سے پوری طرح  متفق ہوں کہ فوج اور ہمارے خفیہ ادارے یہ کام ملک میں امن لانے کی کوشش کے طور پر کررہے ہیں اور ان کی نیک نیتی پر بھی کوئی شبہ نہیں  اور ان کی کامیابی کے لئے دعاگو بھی ہوں لیکن دہشت گرد تنظیموں کے انتہائی خطرناک دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد ہونے والی تفتیش اور تجربے سے میں نے یہ سبق سیکھا ہے کہ ماضی میں اس قسم کی حکمتِ عملی کا کبھی بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں حاصل ہوسکاہے۔


اگرآپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

فیاض خان: فیاض خان کراچی پولیس میں سابق ایس ایس پی سی آئی ڈی کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیتے رہے ہیں‘ آپ انسداد ِ دہشت گردی سے متعلقہ امورکے ماہر ہیں.آج کل امریکہ میں مقیم ہیں