The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

دبنگ پویس آفیسر کا غیرمعمولی عروج و زوال

موت میرا پیچھا کررہی ہے اور میرا مقدر بھی گولی ہی ہوگی ۔۔۔ یہ الفاظ تھے کراچی آپریش کے ایک مرکزی کردار پولیس انسپکٹر ذیشان کاظمی کے جنہوں نے کراچی پولیس میں اپنی تھانیداری کے ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں غیرمعمولی عروج اورزوال دیکھے۔ انکاؤنٹر اسپیشلٹ یعنی  پولیس مقابلوں کے ماہر پولیس افسر ذیشان کاظمی، کراچی آپریشن 1995 کے دوران پولیس مقابلوں میں جرائم پیشہ افراد کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد کو ہلاک کرنے کی پے در پے کارروائیوں کے باعث کراچی کے مجرموں میں دہشت کی علامت بنا۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو قتل کرنے کے کیس میں عدالت سے مفرور ہونے کے بعد اسے پولیس کے ملازمت سے بھی برخواست کردیا گیا۔ اسی مفروری کے دوران 12 اکتوبر 2003 کو کراچی کے فیروزآباد تھانے کی حدود میں ایک کچراکنڈی سے ذیشان کاظمی کی تشدد زدہ اورگولیوں سے چھلنی لاش ملی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس دبنگ پولیس افسر کا باب بھی افسوس ناک انداز میں ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا۔


ذیشان کاظمی کو ایک متنازعہ پولیس افسر بھی کہا جاتا ہے اور ان پرایم کیو ایم اور دوسری سیاسی تنظیمیں اپنے کارکنوں کی ماورائے عدالت پولیس مقابلوں میں ہلاکت کے الزامات بھی عائد کرتی رہی ہیں۔ جس دور میں پولیس والوں کو چن چن کر ٹارگٹ کلنگ میں مارا جارہا تھا اور روزانہ شہر کے مختلف علاقوں سے پولیس اہلکاروں کی تشدد زدہ بوری بند  لاشیں مل رہی تھیں۔ کراچی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا اس وقت ذیشان کاظمی اور اس کے چند اور پولیس افسر ساتھیوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس دہشت گردی کا جواں مردی سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1996ء میں اس وقت کی حکومت کی  تائید اور بھرپور مدد اور اس وقت کے ڈی آئی جی کراچی شعیب سڈل کی زبردست حکمت عملی سے دہشت گروں کے لیے کراچی کی زمین تنگ کردی گئی اور نامی گرامی دہشت گرد روزانہ پولیس مقابلوں میں مارے جانے لگے جس سے شہر میں  امن و امان قائم ہوا ( مگر پھر پولیس کا یہ کامیاب آپریشن سیاست کی نذر ہوگیا)۔ ان چند سرپھرے پولیس افسران نے پولیس والوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکنے والے درجنوں جرائم پیشہ افراد  کو پولیس مقابلوں میں’’پار‘‘ لگانے کی حکمتِ عملی اپنائی  جس سے ان پولیس افسران کو نہ صرف کراچی پولیس کی تاریخ اور آپریشن میں اہم باب کی حیثیت ملی بلکہ وہ پوری سندھ پولیس کے ہیرو بن گئے۔ انہی نامور پولیس افسران میں سب سے نمایاں نام ذیشان کاظمی کا تھا جو اپنی دلیری اور رسک لینے کی خوبی کی وجہ سے اب مختلف سیکیورٹی ایجنسیز اور خفیہ اداروں کی آنکھ کا تارہ بن چکاتھا۔  اس وقت کے وزیرِداخلہ سے براہ راست میٹنگز اور آشیرواد کی وجہ سےجہاں چاہتا اور جس تھانے میں چاہتا اپنی تعیناتی کروا لیتا تھا بلکہ اپنے دیگر قریبی دوستوں اور ساتھیوں کو بھی ان کے من پسند تھانوں میں تعیناتی کروادیتا تھا۔ اب اس کے کہنے پر کراچی میں ایس پیز، ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوز کی پوسٹنگ بہت معمولی بات تھی۔ اس کے علاقے میں کسی جرائم پیشہ کی مجال نہیں تھی جو پر بھی مارسکتا، اس کی دہشت اور دبدبے کا یہ عالم تھا کہ اس نے مختلف تھانوں میں اپنی تعیناتی کے دوران اپنے علاقے میں نوجوانوں کو جینز کی پتلون پہننے پر پابندی عائد کردی تھی اوراس کی دہشت کی وجہ سے اس پر کوئی چوں چراں بھی نہیں کرتا تھا۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت کے بدترین حالات کو دیکھا جائے جب پولیس اہلکاروں سمیت عام معصوم لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ ہونے کے علاوہ بوری بند لاشیں ملنا معمول بن چکاتھا ، اس سے نمٹنے کے لیے ان پولیس افسران نے جو بھی کیا وہی اس وقت کا سب سے بہترین علاج تھا۔ کچھ لوگ اس وقت کو انسانی حقوق کی پامالی کے بد ترین دور سے تشبیہ دیتے ہوئے  کہتے ھیں  کہ اس دو طرفہ پرتشدد لڑائی میں کراچی آپریشن میں متحرک تمام پولیس افسران جائز ناجائز کی حدود کا تعین کرنا چھوڑ چکے تھے۔

 سندھ ریزرو فورس میں  بھرتی ہونے والا ذیشان کاظمی دورانِ  ملازمت کئی مرتبہ ملازمت سے معطل بھی ھوا  اور اپنے اثر ورسوخ سے بحال بھی  ہوتا رھا ۔ مخالفین اس پرکروڑوں کی جائیداد اور ناجائز دولت کا مالک ہو نے کے الزامات بھی لگاتے رھے لیکن کبھی کوئی الزام ثابت نہ ھوسکا۔خطروں سے کھیلنے والے اس پولیس افسر پر متعدد مرتبہ قاتلانہ حملے بھی کئے گئے لیکن قسمت کا دھنی تھا ہمیشہ بچ نکلتا تھا لیکن اس بات کی گواہی اس کے قریبی ساتھی دیتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ ’’میری موت میرا پیچھا کررہی ہے اورمیرا مقدر بھی گولی ہی ہوگی‘‘، سعودآباد تھانے کی تعیناتی کے دوران ایک سیاسی پارٹی سے الگ ہونے والے دھڑے کا رھنماء جو اس وقت مختلف سیکیورٹی ایجنسیز کے بے حد قریب تصور کیا جاتا تھا  اس سے تلخ کلامی کے بعد ذیشان کاظمی  نے اس رہنماء کی درگت بنا ڈالی جس کا بدلہ لینے کے لئے اس گروپ کے مسلح لوگوں نے گھات لگاکراس کی گاڑی پر فائرنگ کی لیکن اس مرتبہ بھی مقدر کا سکندر ثابت ہوا اور ہمیشہ کی طرح بچ نکلا اور پھرجوابی طور پر اس نے اس سیاسی  گروپ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور پولیس مقابلے میں مارے جانے کے خوف سے وہ رھنماء ایک حساس ادارے کے افسر کے قدموں سے اس وقت تک اٹھنے کے لئے تیار نہیں تھا جب تک اس کی جان بخشی نہ کروائی جائے اور پھر بڑی مشکلوں کے بعد ذیشان کاظمی سے اس کی معافی ھوئی اوراس نے سکھ کا سانس لیا۔

مختلف سیاسی پارٹیاں ذیشان کاظمی پر کراچی آپریشن کے دوران سو سے زیادہ افراد کو ہلاک کرنے کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔  وہ تقریباً روزانہ ہی اپنے خلاف جعلی پولیس مقابلوں کے الزامات کے تحت پٹیشنز پر عدالتوں میں پیش ہوتا رہتا تھا اور اس پر متعدد پرچے بھی درج ہوئے جبکہ درجنوں جوڈیشنل انکوائریاں اس کے علاوہ تھیں۔


ذیشان کاظمی کا ستارہ عروج پر تھا اور اس کے لئے سب زبردست چل رھا تھا، لیکن ہر عروج کو زوال ہے اوریہاں بھی اوپر والے نے کچھ ایسا ہی لکھا تھا ۔ ذیشان کاظمی نے عیدگاہ کے علاقے سے مرتضیٰ بھٹو کے قریبی ساتھی علی سنارا کو گرفتار کرلیا  جو کہ اس وقت کے حساب سے بہت بڑی کامیابی تھی کیونکہ علی سنارا دھشتگرد تنظیم الذولفقار کا کمانڈر تھا اور بم دھماکوں سمیت قتل کی لاتعداد وارداتوں میں مطلوب تھا ، اس کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ اس وقت کی وزیر اعظم  بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کے قتل کی سازش کررہا ہے۔ ذیشان کاظمی علی سنارا کو پکڑ کربہت خوش تھا لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور یہی کیس اس کے زوال کا سبب بنا۔ مرتضی بھٹو علی سنارا کی گرفتاری پر سخت مشتعل تھا اور اس نے غصے میں اپنے مسلح ساتھیوں کے ساتھ علی سنارا کو ڈھونڈنے اور چھڑانے کےلئے مختلف تھانوں اور سی آئی اے سینٹر پر دھاوا بولنے والی پالیسی اپنائی کیونکہ ذیشان کاظمی نے علی سنارا کو گرفتار کرکے کسی نامعلوم مقام پر چھپادیاتھا۔

قصہ مختصر اسی اثناء میں مرتضیٰ بھٹو کی پولیس مقابلے میں ستر کلفٹن کے سامنے ہلاکت کے بعد اس وقت کے صدرفاروق لغاری نے پیپلز پارٹی کی حکومت برخاست کردی اورمرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے شوھر آصف زرداری اور اس وقت کراچی کے اہم عہدوں پرفائز تمام  پولیس افسران کو نامزد ملزم بنایا گیا۔

بدقسمتی سے ذیشان کاظمی بھی اس ہائی پروفائل مقدمہ میں ملزم قرار پایا ( ذیشان کاظمی نے ہمیشہ اس مقدمہ میں ملوث ھونے سے انکار کیا)۔ ذیشان کاظمی کے علاوہ تمام نامزد ملزمان گرفتار کرلئے گئے جبکہ ڈی آئی جی شعیب سڈل کو عدالت سے شک کا فائدہ ملا اور وہ ملزم ہونے کے باوجود ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ ذیشان کاظمی نے عدالت میں سامنا کرنے کے بجائے روپوشی اختیار کرلی اور جب تک زندگی رہی عدالت میں پیش نہ ہوا۔ اسی بناء پر ملازمت بھی جاتی رہی۔

دورانِ روپوشی اس نے بہت برے حالات کا سامنا کیا اور سیکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کی آنکھوں کا تارہ کہلانے والا پولیس افسر قانون سے چھپنے کے ساتھ ساتھ اپنے لاتعداد دشمنوں سے بچنے کے لئے مارا مارا پھررہاتھا۔ جن دوستوں پر زندگی بھر اس نے احسانات کیے تھے وہ اب اس کا فون بھی نہیں اٹھانا گوارا نہیں کرتے تھے۔ اپنے اچھے وقت میں کچھ لوگوں کے ساتھ بزنس انوسٹمنٹ کی تھی  وہ بھی لوگ ہڑپ کر گئےکیونکہ ان کو یقین تھاکہ اتنے بڑے کیس سے اب اس کی جان نہیں چھٹنے والی ہے۔

ذیشان کاظمی اپنی ملازمت کے شروع کے دنوں کے دوست اور بدنام زمانہ ڈان شعیب خان سے روپوشی کے دنوں میں بھی رابطے میں تھا اور اس کو معلوم تھا کہ شعیب خان اب ایک بہت بڑا آدمی بن چکا ھے جس کے تعلقات سیاستدان، فوج و پولیس کے سینئر افسران ، ججز اور ہر شعبہ ہائے زندگی کی اہم شخصیات سے ہیں۔ شعیب خان ہمیشہ اس کا مسئلہ حل کروانے میں اس کو مدد کرنے کی یقین دہانی کراتا رہتا تھا ( جو کہ اس کے بس کی بات ہی نہیں تھی)۔

شعیب خان کو جو لوگ جانتے ہیں انہیں اچھی طرح علم ھے کہ اسکی شہرت شروع  سے  ’’یارمار‘‘ کی رہی تھی،  اس نے ہمیشہ اپنے قریبی دوستوں کو دھوکے سے ٹھکانے لگایا جس کی مثال پیپلز پارٹی کے رہنماء منور سہروردی کی ٹارگٹ کلنگ اوربھولو قتل کیس ہے ۔  شعیب خان کے تعلقات مختلف جرائم پیشہ افراد سے تھے اور اس کی دوستی شہید بھٹو گروپ کے علی سنارا اور نیاز ٹالانی کے ساتھ بھی تھی ۔ علی سنارا کے علم میں جب یہ بات آئی کہ شعیب خان کی ذیشان کاظمی کے ساتھ دوستی ہے تو اس نے پلاننگ کی اور شعیب خان کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ کسی بہانے ذیشان کاظمی کو بلا لے تاکہ وہ اپنا بدلہ لے سکیں کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ ذیشان کاظمی بھی مرتضیٰ بھٹو کی موت کا ذمہ دار ہے۔

شعیب خان نے اس بار بھی یارمار کاکام کیا اور اس نے ذیشان کاظمی کواپنے گیسٹ ہاؤس پر کھانے پر مدعو کرلیا ۔ ذیشان کاظمی بہت زیادہ احتیاط کرنے والا شخص تھا اور گنے چنے لوگوں پر بھروسہ کرتا تھا جن میں سے ایک شعیب خان بھی تھا اور یہی اس کی بدقسمتی تھی۔

گیسٹ ہاؤس پر اس رات پہلے سے علی سنارا کی ٹیم ویٹرزاور باورچی کے روپ میں موجود تھی۔  بیسمنٹ میں بنے ہال میں شعیب خان  نے دھوکے سے ذیشان کو چائے میں بے ہوشی کی دوا ملا کردی۔ بے ہوشی کے بعد اسے غیر مسلح کرکے ہتھکڑی لگا کرہوش میں لایا گیا تاکہ اس سے اینٹیروگیشن کی جاسکے۔ جب ذیشان کو ہوش آیا تو اپنے ہاتھوں میں ہتھکڑی اور سامنے کھڑے مسلح افراد دیکھ کر ہی اسے سمجھ آ گئی کہ اس کے ساتھ بھی شعیب خان نے وہی کیا ھے جو اس سے پہلے چند دوسرےدوستوں کے ساتھ کرچکا تھا۔

مسلح افراداس پر تشدد کرتے ہوئے صرف مرتضیٰ بھٹو قتل کے حوالے سے معلومات حاصل کرنا چاہ رہے تھے ۔ ذیشان کاظمی کی ساری زندگی اسی قسم کے کاموں میں گزری تھی وہ سمجھ گیا کہ موت کا وقت آپہنچا ہے تو کیوں نہ لڑ کرجان دی جائے لہذااس نے سخت مزاحمت شروع کردی جو کے اس کے دشمنوں کے لئے غیرمتوقع بات تھی۔ اسی دوران اس کے ہاتھوں میں  لگی چینی ساختہ ہتھکڑی ٹوٹ گئی جس پر نیاز ٹالانی اورمنظور نامی ملزمان نے اس پرفائرنگ کردی جس سے ذیشان کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔ شعیب خان نے اس کی موت کا رخ ایک سیاسی پارٹی کی طرف موڑنے کے لئے اس کی لاش بوری میں ڈلواکر فیروزآباد کے علاقے کی ایک کچرا کنڈی میں پھنکوادی ، کافی عرصے تک سب یہی سمجھتے رھے کہ اس قتل کے پیچھے ایک مخصوص سیاسی جماعت کا ہاتھ ہے۔

آگے چل کر سب کے علم میں ہے گرفتاری کے بعد کیسے پراسرار انداز میں جیل میں بند شعیب خان موت سے ہمکنار ہوا جبکہ علی سنارا کھارادر کے علاقے میں مسلح افراد کی گولیوں کا نشانہ بنا۔ بقیہ ملزمان کو بھی کراچی پولیس نے طویل عرصے کے بعد گرفتار کرکے کیفرِکردار تک پہنچایا۔

ذیشان کاظمی کی زندگی کے اتار چڑھاؤ ، عروج و زوال پر کسی بالی وڈ مووی کا گمان ہوتا ہے اور کچھ لوگ اسے ایک متنازعہ اورسفاک پولیس افسر کہتے ہیں‘ اس کے پولیس مقابلوں کے مستند ہونے پر شک کی انگلیاں اٹھاتے ہیں اور اس کے انجام کو قدرت کا قانون قرار دیتے ہیں لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہےکہ پولیس ڈپارٹمنٹ میں اسے ایک بہادر، نڈر اور پولیس کے خیر خواہ ایس ایچ او کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں