The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

بدعنوان حکومتیں ، بے ضمیر حکمران

سنہ۱۹۹۹ میں بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے جب نیلسن منڈیلا سے پوچھا گیا کہ سیاست دان اور لیڈر میں کیا فرق ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ سیاست دان ہمیشہ اگلے الیکشن کا سوچتا ہے جبکہ لیڈر آئندہ نسل کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے اور اس کی توجہ کا محور عوام کی فلاح و بہبود ہوتا ہے ۔ دنیا کے باقی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اگرچہ کہ الیکشن کو کافی اہمیت دی جاتی ہے اور ہر خاص و عام کی نظر انتخابات کے انعقاد پر لگی ہوئی ہوتی ہے ، لیکن پھر بھی کہیں دھاندلی کا شور مچتاہے تو کہیں من پسند نتائج حاصل کرنے کے مخالفین پر گولیاں تک برسا دی جاتی ہیں ۔

ہمارے ملک میں خواہ کسی فوجی جرنیل کے اقتدار کا دوام ہو یا اسلام کے نام پر حکومت کا حصول ، جہاد افغانستان کے نام پر طالبان کا وجود میں آنا ہو یا روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے نام پر دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز ،وراثتی سیاست نے ملک کے عوام کا بیڑا غرق کر دیا ہے ، ایک لیڈر ہے تو وہ دوسرے پر الزام تراشی کر رہا ہے کہ میں تو یہاں اپنی بیٹی کے ساتھ مقدمات کا سامنا کر رہا ہوں اور چور اور لیٹرے باہر بیٹھے ہیں اور وہ چور لٹیرے وہی ہیں جو بے نظیر اور مجھے مکا دکھا کر پاکستان آنے سے روکتے تھے۔ دوسری طرف دبئی میں بیٹھے صاحبان کا یہ کہنا ہے کہ وہ ملک کا درد رکھتے ہیں اور کسی بھی وقت پاکستان آسکتے ہیں لیکن انھیں سیکورٹی خطرات بھی درپیش ہیں جس کی وجہ سے ان کا دورہ پاکستان ہمیشہ منسوخ ہو جاتا ہے ، ملک اور بالخصوص کراچی کی ایک بڑی جماعت ایم کیو ایم اس وقت اپنے اختلافات کی وجہ سےدوراہے پر کھڑی ہے ، کہیں میمو گیٹ سیکنڈل کھل رہا ہے تو کبھی احتساب عدالتوں سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کروانے کی کوشش جاری ہے ۔

الیکشن ۲۰۱۸ چند ہفتوں کی دوری پر ہے لیکن کسی جماعت کے راہنما کے لبوں پر عوام کا نام نہیں ہاں ’’ مجھے کیوں نکالا ‘‘ کی صدائیں ، کپتان کی بڑھکیں اور ایم کیوایم کی روزانہ کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ پی پی پی کے جیالوں کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیتنے کے دعوی ضرور سامنے آرہے ہیں ۔

یہ کرپشن ہمارے معاشرے میں آکاس بیل کی طرح بڑھ رہی ہے اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ عوامی منشا کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے سب چیزیں جو ہے اور جیسا ہے کی بنیاد پر قبول ہو رہی ہیں، مجھے تو اس بات سے بھی اختلاف ہے کہ لوگ غلط حکمرانوں کو چن لیتے ہیں ، کیا ایسا کہنے والوں کی نگاہ سے عوام کے جعلی ووٹ اور پھر ان کے بدلتے ہوئے نتائج نہیں گذرتے یا وہ اس حقیقت کا سامنا نہیں کرنا چاہتے کہ کرپٹ لوگ اچھے لوگوں کو سامنے نہیں آنے دے رہے ۔

پاکستان میں فی زمانہ حکومت کے کتنے کام ایسے ہیں جو عدالت سرانجام دے رہی ہے ، یہ کہنا بہت آسان ہے کہ عدالت عظمیٰ تو حکومت کے کام میں مداخلت کر رہی ہے لیکن اگر سیاسی جماعتیں عوام کے مفاد کے لئے اس طرح متحرک ہوں تو عدلیہ کیوں کارسرکار کو متاثر کرے ، ہمارے عوام کو غرض کسی کرسی کسی ووٹ سے نہیں انھیں غرض ہے تو صرف اپنے بچوں کے پیٹ بھرنے سے ، جس ملک میں آٹے کا تھیلا سات سو سے بھی اوپر ہو ، گلیوں اوربازاروں میں گندگی کے ڈھیر ہوں ، سیوریج کا درست انتظام نہ ہو ، عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہوں اور وہاں کے حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہوں تو قرب قیامت کی علامت اور کیا ہو گی ؟۔

آج ایک عام آدمی کی نگاہیں صرف عدالت عظمیٰ پر ہیں ، اس کے انصاف پر ہیں اور بالکل بجا ہے ، ہماری سیاسی جماعتیں دیکھا جائے تو صرف سیاست کر رہی ہیں ، سیاست میں افہام و تفہیم کو نہیں دھونس اور رعب کو رواج دیا جا رہا ہے اور عوام کے ساتھ بالکل وہی ہو رہا ہے جیسے گہیوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے ، خدارا ہمارے حکمران اپنی کرسی کے ساتھ ساتھ عوام کی بھلائی کا بھی کوئی کام کرلیں۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں