The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

نئے پاکستان کی ابتدا کیسے کرنی ہے

لو جی الیکشن کے ہنگامے تو سرد پڑ گئے ، اگرچہ کئی مقامات پر بہت زیادہ ٹرن آؤٹ نہ رہا تو کہیں ووٹ ڈالنے کے لئے قطاریں تک دیکھی گئیں ، الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے دن پر بھی افسوس ناک واقعات رونما ہوئے ، لیکن کیا کہیں اب ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ ہمیں بھی معلوم ہے کہ عام دنوں میں اتنے ہنگامے ہوتے ہیں تو عیدیں بھی اس سے محفوظ کہاں ؟ اب تو پچاس ساٹھ سے اوپر لوگ نہ مریں تو ہم بھی کوئی نوٹس نہیں لیتے ۔

اب الیکشن آتا ہے پانچ سال کے بعد تو یہ بھی تو ایک طرح کی عید ہی ہوئی ناں ، ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہوتی یہ بھی قربانی کی عید ہی ہے عوام کے ارمانوں ، امیدوں، ان کی مرضی اور منشا کی قربانی کی عید ۔ خیر اب تو ایک ’’ نئے پاکستان ‘‘ کی شروعات ہونے والی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ’’ میاں صاب جانڑ دیو ساڈی واری آن دیو ‘‘ کا نعرہ بھی حقیقت کا روپ دھار رہا ہے ۔

لیکن اس سب کے باوجود شکایت ہے تو ان انتخابی امیدواروں سے کہ جنہوں نے شکست تسلیم نہیں کی ،کہ جنہیں اپنی مراعات چھن جانے کا خطرہ ہے لمبی گاڑیوں ، نت نئے ملبوسات اور پروٹوکول کے چھن جانے کے احساس سے ہی رنج ہو رہا ہے ۔ ہمیں تو ان صاحب سے بھی شکو ہ ہے کہ جن سے اپنے گھر والوں کی تنقید ہی برداشت نہ ہوئی اور انھوں نے خود کشی کو ہی تمام مسائل کا حل جانا ۔

گلہ ہے تو ان لوگوں سے بھی ہے جو م گلی محلوں میں انتخابی جلسے کر کے چلے گئے اور بریانی کےخالی پیکٹ ، اوندھی کرسیاں اور ٹوٹے ہوئے مائیک اب تک اپنی بے چارگی پر رو رہے ہیں ، ان بینزر اور جھنڈیوں کا بھی سوچ لیں جو کہ کھمبوں پر لگائے گئے دیواروں پر سجائے گئے لیکن اب تک ان کا کوئی والی وارث ہی نظر نہیں آرہا اور گویا وہ گلیوں بازاروں میں اس طرح ہیں جس طرح لوگ عید قربان پر قربانی کر کے اوجھڑیاں باہر پھینک دیتے ہیں کہ ’’روک سکو تو روک لو ‘‘ اور دیکھ لو کہ ہم نے بھی قربانی کی ہے ۔

خیر بھلا تو یہ بھی ہوا کہ عوام کو دو پارٹیوں کے روایتی چہروں سے نجات مل گئی اب نئے چہروں کو آزمانے کا موقع بھی ملا ہے لیکن کیا انتخابی جلسوں کے بعد ان کی باقیات کو صاف کرنے کا فرض ہمارا نہیں ؟ تو اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ اگر ہم یہ سب کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو کیا یہ نئے پاکستان کی ابتدا نہیں ہو گی ؟۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email