The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
escort istanbul
Canlı Kumar

برق گرتی ہے تو تعلیم اور صحت کے شعبوں پر…

مذاق اچھی عادت سہی لیکن سنگین مذاق تکلیف دہ امر ہے۔ ہمارے کئی سرکاری و نیم سرکاری محکمے ایسے ہیں جن پر ہم اور جو ہم پر ہنستے ہیں لیکن ہمارے ہاں صحت اور تعلیم کے محکموں کے ساتھ کیے جانے والے سنگین مذاق پر ہرصاحبِ دل اشکبار ہوتا ہے۔

علامہ اقبال نے شکوہ کیا تھا …
برق گرتی ہے تو بیچار ے مسلمانوں پر

اگر ہم اپنے صحت اور تعلیم کے محکموں اور اداروں کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیں تو خیال آتا ہے کہ
برق گرتی ہے تو تعلیم اور صحت کے شعبوں پر

آخر ایسا کیوں ہے کہ جن شعبوں کی ترقی کے ہم سب سے زیادہ آرزو مند ہوتے ہیں اُن ہی شعبوں میں تنزّلی کی جانب مائل نظرآتے ہیں۔ عوام مسائل کی جانب جب اربابِ اختیار کی توجہ مبذول کراتے ہیں تب وہ بھی اقدامات کا چرچا زور و شور سے کرتے ہیں لیکن اُن کا حل تلاش کرنے کے بجائے اوروں پرچھوڑ دیتے ہیں۔ یہ چشم کشا حقائق سے چشم پوشی ہے یا ان محکموں سے طوطا چشمی؟ جو ہماری زندگی کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔

ملکی ترقی کا ذکرہو تو ہر لب پر تعلیم اور صحت کا نعرہ ہوتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ کسی بھی معاشرے کی فلاح و بقا کا انحصار اچھی صحت اور تعلیم پر ہوتا ہے لیکن بعض تو ایسے دانا“ ہیں جو اختیار تو رکھتے ہیں لیکن ”ا چھی“ سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں اور تعلیم و صحت کو تو وہ گردانتے ہی نہیں۔ لوگوں کی اکثریت شدید خواہش کے باوجود اچھی صحت اور تعلیم سے محروم رہتی ہے اور وہ جن کی ہر بات کی تان مہنگائی پر ٹوٹتی ہے یہی کہتے ہیں کہ سارا کیا دھرا مہنگائی کا ہے جب کہ جاننے والے جانتے ہی ہیں کہ جب متعلقہ حکام ہی ان اداروں سے غفلت برتیں گے تو ترقی کی راہیں کیسے ہموار ہوں گی؟

یہ اسی بے خبری کا شاخسانہ ہے کہ صحت و تعلیم کے محکمے اور ادار ے ہمارے یہاں سب سے زیادہ پس ماندہ اور قابلِ رحم ہیں، اتنے قابلِ رحم کہ ہماری صحت اور مستقبل سے جتنا یہ دونوں ادار ے کھیلتے ہیں اتنا تو مہنگائی کا ساز بجانے والوں کے بچّے کھلونوں سے نہیں کھیلتے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ صحت اور علاج معالجے سے متعلق اداروں کے لیے تو انسانی زندگی ایک کھلونا بن گئی ہے۔

مسیحائی اورانسانیت کی خدمت کے دعوے دار بعض ڈاکٹر تو اپنے فرائض کی ادائیگی میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ یہ تک نہیں جان پاتے کہ مریض کو جراحی کے عمل سے گزارنے کے لیے کس حصۂ جسم پر نشتر لگانا ہے؟ ہمار ے من موجی قسم کے معالج بھی کتنے باکمال ہیں کہ مریض کی دکھتی رگ پر تو ہاتھ رکھ دیتے ہیں لیکن وہ عضو جو ان کی خصوصی توجہ کا مرکز ہوتا ہے اُن کی نظرِ کرم ہی سے نہیں عملِ جراحی سے بھی محروم رہتا ہے۔

واقعی جو چاہے اُن کا حسنِ کرشمہ ساز کرے…

بےنیازی کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوجاتا، جب ڈاکٹر کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جاتی ہے تو فراخ دلی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے پروانۂ آزادی تھما دیا جاتا ہے،”کر لو جو کرنا ہے۔“ اب مریض بیچارہ کرے تو کیا کرے؟ اس مریض کی حالت کا اندازہ تو لگائیے جس نے کئی دن تکلیف اُٹھانے کے بعد اس اُمید پر آپریشن کروایا کہ اب تکلیف سے نجات مل جائے گی لیکن رسولی کی جگہ پتّے کا آپریشن کرنے والا ڈاکٹر کس درجہ فرض شناس اور دور اندیش تھا جس نے سوچا کہ کل کلاں کو پِتّے کا معاملہ رسولی سے بڑھ کر سنگین ہوگیا تو کیوں نہ اس کا آپریشن کل کے بجائے آج ہی کر لیں۔ واقعی آج کا کام کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے اور نیک کام میں بھی بالکل تاخیر نہیں کرنی چاہیے، خاص کر اُنھیں جن کا دل اوائلِ عمر ہی سے انسانیت کی خدمت کے شوق میں دھڑکتا رہا ہو۔ بھلے انسان بے خطا ہی اپنے ایک عضو سے محروم ہو جائے اوراعتراض کی تو عوام کو عادت ہے۔

جب ”خواص“ کی نگاہِ دور رَس نے جو دیکھا وہ کام کر دکھایا، عوام کو بھی اُس کا احترام کرنا چاہیے، آزاد ملک کا آزاد شہری اس سے بڑھ کر اپنی سخاوت اور آزادی کا کیا ثبوت پیش کرسکتا ہے؟ لیکن مریض کے رشتہ داروں کے احساس دلانے پر اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے ڈاکٹر کا یہ بیان بہت حیرت انگیز ہے کہ ”ویسے ان کا پتّا خراب تھا چلو اچھا ہُوا قدرت کی طرف سے اس کا آپریشن خودبخود ہو گیا“ واقعی قدرت کے کھیل نرالے ہیں۔ کبھی کبھی ناچیز بھی چیز بن بیٹھتی ہے۔ پھر یہ تو ایک ڈاکٹر تھا جو نام کی مماثلت سے دھوکہ کھا گیا۔ پشیمانی اُسے یوں‌ بھی نہ ہوگی کہ خادم وہ بھی تھا اور خادم یہ بھی ہے اور خدام کا کام ہی حکم بجا لانا ہے۔ خواہ وہ اُس کے لیے قابلِ عمل اور قابلِ برداشت ہو یا نہ ہو۔

ڈاکٹر کی نیت بُری تو نہیں تھی۔ اُس نے مریض کی جان بچانے کے لیے ایسا کیا تھا۔ سچ ہے ”جان ہے تو جہاں ہے‘ سو اپنی جان کی سلامتی اور جہاں کی خوشیاں سمیٹنے کے لیے مریض اگرصحت مند عضو کا آپریشن کروا سکتا ہے تو اُس رسولی کے آپریشن کا حق بھی تو مریض کو حاصل ہے نا جس کے آپریشن کی خواہش میں وہ آپریشن تھیٹر تک پہنچا تھا۔ اب خواہ مہنگائی کے کتنے ہی نشتر اس کی روح میں کیوں نہ پیوست ہو رہے ہوں، اچھی صحت کے لیے اسے جراحی تو کروانی ہے کہ صحت اچھی ہوگی تو وہ نوکری پر جائے گا، روزی کمائے گا تب گھر چلائے گا۔ مہنگائی کا مقابلہ بھی تو کرنا ہے جو بقول خالہ صغیراً ”عزت کی کیا بات ہے؟ مہنگائی تو بے عزتی سے بھی نہیں جینے دیتی“ اور خادم کی عزت تو یوں بھی عموماً آقاؤں کی نوکِ زبان پر ہوتی ہے۔ اب اگر کسی خادم کی صحت کی لگام کسی مسیحا کے ہاتھ میں آ گئی تو غریب کیا کرے؟

لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں اب تو تعلیم کا معیار ہی اتنا گر گیا کہ ڈاکٹروں کی ڈگری کا بھی بھروسہ نہیں۔ لیکن ہمیں اس پر اختلاف ہے۔ سند تو اصلی ہی ہوگی۔ بس بعض ہٹ دھرم اپنی غلطی ہی تسلیم نہیں کرتے۔ ہمارے یہاں تعلیم کے نعرے بہت بلند ہوتے ہیں، خاص کر اچھی تعلیم سب کا مساوی حق وہ خواب ہے جسے غریب کی تو کیا بات ہے، متوسط طبقے کے بچّے بھی کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن والدین کے محدود وسائل اس خواب کی تعبیر نہیں دے پاتے۔

اگر عمومی جائزہ لیا جائے تو اچھی تعلیم محض خواب ہے اور اچھی تعلیم پانے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور یہ بھی غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی رہینِ منت ہے جن کی فیسیں بیشتر والدین کی دسترس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ رہے بیچارے سرکاری مدارس تو وہاں تعلیمی سہولتوں کے ساتھ تدریسی سہولتوں کا بھی فقدان ہے اور اس کا گلہ بھی بہت کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود تعلیم سے منسلک محکموں اور اداروں کی اعلیٰ کارکردگی اور ترقیاتی کاموں کی تفصیلات جان کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اچھی تعلیم عام ہے۔ آٹے میں نمک کے برابر نہیں بلکہ کسی نے نمک میں آٹا ملا دیا ہو۔ ہر چیز کی زیادتی بری ہوتی ہے اور پھر نمک کی زیادہ مقدار سے کھانے کا ذائقہ ہی خراب نہیں ہوتا شیریں مزاجوں کے اندر تک کڑواہٹ گھل جاتی ہے۔ لیکن صبر کے گھونٹ پینے کی دیرینہ ہدایت پر عمل کروا کے نقصِ امن کے ہر خدشے کو ختم کر دیا جاتا ہے۔

ہمارے تعلیمی نظام میں آئے دن اصلاحات ہوتی رہتی ہیں، لیکن مضحکہ خیز المیہ یہ ہے کہ اس کے باوجود وہی برس ہا برس پرانا نظام رائج ہے۔ نہ تعلیمی معیار بلند ہوتا ہے اور نہ ہی تدریسی نظام میں نمایاں تبدیلی نظر آتی ہے۔ ایسے میں ترقی کا کیا سوال؟ بس وہی لکیر کے فقیر بنے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے حریف اربابِ اختیار اور حکومتیں پچھلے دور کی اصلاحات کو کالعدم قرار دے کر نئی اصلاحات نافذ کر دیتی ہیں۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ ”ناقابلِ عمل اصلاحات“ کے فروغ کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے لیکن ”قابل عمل اصلاح“ کی جانب کوئی توجہ نہیں دیتا کہ وہ خاکی جو اپنی فطرت میں نہ نوری ہے اور نہ ناری اپنے عمل سے جنت اور جہنم کی راہ دکھا سکتا ہے۔ یہ سوچ کر ہی وہ قابلِ عمل اُمور سے گریزاں رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ وہ دکھائے تو جنت کی راہ اور انجانے میں جہنم کی راہ ہموار ہو جائے۔

صحت اور تعلیم دونوں ہی شعبے عالمِ برزخ میں کھڑے فیصلے کے منتظر اور عوام و خواص دونوں کی خصوصی توجہ کے طالب ہیں اور دونوں کا تناسب حیرت انگیز طور پرنہایت شرم ناک اور عبرت ناک ہے۔ تعلیم ہوگی تو صحت کی آگہی ملے گی۔ جب عوام باشعور اور صحت مند ہوں گے تو ملکی ترقی کی راہیں خود بخود کھلیں گی اور اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم اور صحت کے محکموں کو کم مایہ سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے انھیں سرمایہ سمجھا جائے اور اس متاعِ عزیز کو مثبت اور راست اقدامات سے تحفظ دیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email