پاکستان میں آباد اسماعیلی برادری کا قصور؟

کروٹ لی، آنکھیں بند کرلیں، اے سی بڑھا دیا، لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور۔۔

میں کیسے سوؤں جب آنکھیں بند کروں تو لاشیں، زخمی اورخون کے مناظر مجھے جاگنے پرمجبور کردییتے ہیں۔

میری آنکھوں کے سامنے پہلی تصویر اس مقتول شوہر کی گھومی جس کی بیوی اپنے ہاتھ سے بنی ہوئی آخری چائے نہ پلانے پرنوحہ کناں ہے۔ اس نے کتنا کہا کہ چائے پی لولیکن شاید وہ ملک الموت کو بتانا چاہتاتھا کہ میں بھی وقت کا پابند ہوں۔

لیکن لمحوں کی تاخیر نے اس کو نہ صرف مجازی خدا سے دور کردیا بلکہ وہ اپنے شوہر کو دستیاب آخری لمحات میں اس کی خدمت سے بھی محروم رہی۔

اپنی قسمت پرنوحہ کناں وہ سوچ رہی تھی کاش میں آج لڑلیتی اوراس کو چائے پینے پرمجبور کردیتی اور وہ اس بد نصیب بس کا راہی نہ بنتا۔

ابھی یہ تصویر آنکھوں سے دور نہیں ہوئی تومیری نظر کے سامنے سلطان گھومنے لگا، کون سلطان، سنی سلطان اے لیول کا طالب علم اورپورے اسکول اور محلے میں مشہور، جس کی شرارتیں اوراس کی قابلیت کے واقعے سن کرخاندان بھرکے لوگ فخر سے جھوم اٹھتے تھے۔ وہ سنی جس کی بہن نے اپنے بھائی کے لئے کیا کیا سپنے دیکھے ہوں گے۔

ابھی مقتولین کا بین اوران کے نوحے کی بازگشت ذہن سے جاہی نہیں رہی تھی کہ آنکھوں کی پتلیوں پرایک اور فلم چل پڑی جس نے ایک بگولے کے مانند میری کنپٹیوں کو چٹخا کر دیا۔ چشم زدن میں گھومنے والایہ
منظراس بد نصیب بس کا ہے جس کے اندر انسانیت کا خون ہوگیا۔

وہ بس جہاں مقتولین خوب چلائے مگران کی چیخ و پکارسننے والا کوئی نہیں تھا کیوں ریاستی ادارے تو سو رہے تھے ایک اور شخص کچھ ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر’ابوجی‘ ہاتھ کا بنا صندل اوربادام کا پتوں والا شربت پی کر سب اچھا کی رپورٹ کررہا تھا۔

سب چورہوگیا اس بس کے اندرجہاں مقتولین کو تڑپنے کے لئے جگہ بھی میسرنہیں تھی لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے اندر ان کے جسم میں جگہ جگہ لگی خراشوں کو دیکھ کو میری آنکھوں کے سامنے ایک اورمنظر گھوم گیا جس میں میرا ایک اور پاکستانی بھائی جس نے تکلیف کی شدت سے ٹانگیں پھیلائیں تو اس کو ٹانگ سیدھی کرنے کی بھی جگہ نہ ملی۔

اس نے ہاتھ اوپر کئے اورکھڑاہوناچاہاتووہ گرگیا، اس کاخون بہہ چکاتھااوریہ بہتا خون رس رس کرباہرٹپک رہا تھا۔ ادھرمملکتِ پاکستان کے باسی زخم خوردہ تھے تودوسری جانب کیبنٹ ممبران اس بات پرتبصرہ کررہے تھے کہ اگرساگ روٹی بھی ہوجاتی توکس قدراچھاہوتا۔ جب مائیں اپنے بچوں کی لاشیں دیکھ کربلک رہی تھیں توملک کو معاشی طورپرمضبوط بنانے کادعویٰ کرنے والے معاشی عشاریوں پربات کررہے تھے۔ میں سوچ رہاہوں کے مضبوط معاشی پالیسی مردہ لاشوں کے لیئے بنائی جارہی ہے۔

انہوں نے کسی کی زمین پرتوقبضہ کیاہوگا، کسی کی سیاسی حمایت کی ہوگی، نہیں نہیں ! یہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے لازمی لوگوں کی لاشیں گرائی ہیں جبھی توقاتلوں نے ایسی سفاکیت کامظاہرہ کیا لیکن رات کاآخری پہرآن پہنچا مجھے ان کاکوئی قصورنہیں ملانہ سیاسی وابستگی اورنہ زمینوں پرقبضہ اورنہ کسی کاخون، کسی کے خلاف نہیں بولتے اوراگرکوئی انکے خلاف کوئی بولے توخاموشی اختیارکرتے ہیں۔ شاید ان کا قصوریہ ہو کہ وہ ملک میں جہاں اپنی کمیونٹی کو اچھی تعلیم دے رہے ہیں صحت کی سہولیات دے رہے وہیں دیگرپاکستانی بھی ان سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں شاید ان کا یہی قصوران کی موت کی وجہ بنا ہے۔

فاروق سمیع: تحقیقاتی صحافت پریقین رکھنے والے فاروق سمیع اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں، دہشت گردی، سیاست اورعدالتوں سے منسلک خبروں پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔